245NA ضمنی الیکشن،پی ٹی آئی نے اپنی نشست دوبارہ جیت لی

کراچی میں تحریک انصاف کے رہنما داکٹرعامرلیاقت کے انتقال کے باعث خالی ہونیوالی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 245 کی نشست پر ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف نے اپنی نشست دوبارہ جیت لی۔
این اے 245 کے مکمل 263 پولنگ اسٹیشن کے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے محمود مولوی 29475 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے،ایم کیو ایم امیدوار معید انور 13193 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے،تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار محمد احمد رضا نے 9836 ووٹ حاصل کیے،اس کے علاوہ آزاد امیدوار فاروق ستار 3479 اورمہاجر قومی موومنٹ کے محمد شاہد کو 1177 ووٹ ملے۔
تحریک انصاف کے امیدوار 16282 ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے اور حلقے میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ 11.8 فیصد رہا۔
تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار محمد احمد رضا نے 8691 ووٹ حاصل کیے،اس کے علاوہ آزاد امیدوار فاروق ستار 3169 اور پی ایس پی کے امیداوار حفیظ الدین کو 1025 ووٹ ملے،تحریک انصاف کے امیدوار کو مدمقابل ایم کیو ایم کے معید انور سے 15664 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔
صبح 8 بجے شروع ہونے والا پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا، ووٹنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں ٹرن آؤٹ کم دیکھا گیا۔
قومی اسمبلی حلقہ این اے245 میں کے ضمنی انتخاب کے میدان میں 17 امیدوار موجود ہیں۔ پی ٹی آئی نے محمود مولوی اور ایم کیو ایم نے معید انور کو میدان میں اُتارا ہے جبکہ ٹی ایل پی کے محمد احمد رضا اور پی ایس پی کے سید حفیظ الدین مقابلے میں ہیں۔ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) ایم کیو ایم کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ سے ناراضی کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار این اے 245 کے ضمنی انتخاب میں آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں، این اے 245 پر 2018ء کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے عامر لیاقت حسین نے ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار کو شکست دی تھی۔
لانگ مارچ کے بعد دھرنا نہ دینے پرعمران کی آئیں، بائیں، شائیں
این اے 245 کے ضمنی انتخاب کے لیے 263 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے جس میں 60 حساس اور 203 انتہائی حساس ہیں جبکہ کوئی بھی غیر حساس نہیں ہے۔ فوج اور رینجرز کوئیک رسپانس فورس کے طور پر موجود رہے گی، پولیس نے بھی امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے جامع سیکورٹی پلان بنایا ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کے اس حلقے میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 15 ہزار 33 ہے، 2 لاکھ 74 ہزار 987 مرد اور 2 لاکھ 40 ہزار 16 خواتین ہیں۔ ضمنی انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن اسلام آباد میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔
کراچی پولیس کے چیف جاوید عالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ 263 پولنگ اسٹیشنز پر 6 ہزار سے زائد کی نفری موجود ہے، 1048 پولنگ بوتھ ہیں جنہیں محفوظ کرنا ہے، ہر پولنگ اسٹیشن پر ایک افسر اور 10 جوان تعینات کیے گئے ہیں۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی طرف سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو پریذائیڈنگ آفیسرز لگا دیا گیا ہے ، سیاسی جماعت کا یہ الزام سراسر غلط اور بے بنیاد ہے، تمام پریذائیڈنگ افسران سرکاری ملازم ہیں اور ان کی تعیناتی قانون کے مطابق کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک ویڈیو بھی ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی جس میں اس کا الیکشن کنٹرول روم دکھایا گیا ہے جس میں افسران موجود ہیں جبکہ مختلف ٹی وی اسکرینز بھی پس منظر میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
ادھر سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ہم این اے 245 کا الیکشن جیت رہے ہیں، ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہم کراچی میں این اے 245 کا الیکشن جیت رہے ہیں، ہمارے کیمپ ووٹرز سے بھرے ہوئے ہیں جب کہ ہمارے مخالفین کے کیمپ ویران پڑے ہیں، میں اپنے تمام ووٹرز سے کہہ رہا ہوں کہ اگر انہوں نے اب تک اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا تو وہ فوری طور پر ووٹ ڈالنے جائیں۔
