25 برس میں پاکستان میں آم کی کم ترین پیداوار


25 برسوں میں پہلی مرتبہ پاکستان میں آم کی کم ترین پیداوار ہوئی ہے اور اس سال آم کی فصل پچاس فیصد سے بھی نیچے چلی گئی جس کی بنیادی وجہ سخت موسم، وائرس اور پانی کی شدید کمی بتائی گئی ہے۔

فروٹ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے سربراہ وحید احمد کا کہنا ہے کہ آم کی تو ابتدا ہی اس خطے سے ہوئی، جسے آج دنیا پاکستان اور انڈیا کے نام سے جانتی ہے۔ انکے مطابق اس وقت پاکستانی آم 40 سے زائد ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے۔ کرونا وائرس کے بعد قرنطینہ کے اصول سخت ہونے کے باوجود آم اب بھی امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا جا رہا ہے لیکن اس برس اس کی مقدار بہت کم ہو گئی ہے۔

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق پاکستان دنیا میں آم پیدا کرنے والا چھٹا بڑ ملک ہے اور عالمی سطح پر اس کی برآمدات کا حصہ تقریباً 3.5 فیصد بنتا ہے۔ سرکاری حکام نے بھی آم کی فصل میں نمایاں کمی کی توقع کی تصدیق کی ہے۔ اس صنعت سے جڑے ان ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں برس کے سیزن جو ہوا، ایسا تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اگر گذشتہ برس سو ایکڑ سے تقریباً 100 اور 130 گاڑیاں آموں کی ہو جاتی تھیں تو رواں برس صرف 30 یا 40 گاڑیاں ہی مل پائیں۔

وحید احمد کے مطابق ’یہ پاکستان کی 100 ارب روپے کی صنعت ہے جس سے چار سے ساڑھے چار لاکھ خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔‘ ٹی ڈی اے پی کے مطابق گذشتہ برس پاکستان نے 149 ملین کلو گرام آم برآمد کیے تھے، جس کی پاکستانی روپے میں قیمت ساڑھے 22 ارب بنتی ہے جبکہ رواں برس آم کی پیداوار میں 50 فیصد کمی متوقع ہے۔ ان حکام کے مطابق کم پیداوار کے تناظر میں اس برس برآمدات کا ہدف بھی کم کر دیا گیا ہے۔

وحید احمد کے مطابق گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلی کا ہماری فصل پر بڑا اثر مرتب ہوا ہے۔ ان کے مطابق ’ہماری فصل 18 لاکھ ٹن ہے، جس میں سندھ کا حصہ 29 فیصد، ایک فیصد خیبر پختونخوا جبکہ 70 فیصد پنجاب کا ہے۔‘

وحید احمد کے مطابق پہلے سیزن سندھ سے شروع ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ پنجاب کا رخ کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس بار بہار نہیں آئی جس سے فلاورنگ نہیں ہو سکی۔ وہ کاشتکار عبدالرزاق کی اس بات سے متفق ہیں کہ پانی بھی وقت پر نہیں مل سکا جس سے پیداوار مزید متاثر ہوئی جبکہ دیگر عوامل میں انھوں نے ڈیزل کی قلت اور لوڈشیڈنگ کا ذکر کیا۔ وحید احمد کے مطابق سنہ 2013 سے گلوبل وارمنگ کے اثرات پاکستان پر بڑھتے نظر آر ہے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ صرف آم ہی نہیں بلکہ دیگر فصلوں پر بھی اس کے اثرات پڑے ہیں۔ ان کے مطابق پاکساتن میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی کمی ہے۔ اچھے بیج نہیں اور کاشتکار پیدوار بڑھانے کے جدید طریقوں سے بھی واقف نہیں ہیں۔

وحید احمد کے مطابق اس وقت پاکستان میں پیداور کی قیمت بہت زیادہ ہے جبکہ جہاں پاکستانی کاشتکار فی ایکڑ میں دو سے ڈھائی سو درخت آم کے اگاتا ہے وہیں دنیا میں ایک ایکڑ میں 25 سے تین ہزار تک درخت اگائے جاتے ہیں۔ وحید احمد کے مطابق 18ویں ترمیم کے بعد یہ سب اب صوبے کی ذمہ داری ہے کہ وہ زراعت کو آگے بڑھائے، فوڈ سکیورٹی سے نمٹیں، اب کاشتکاروں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بیسٹ پریکٹسز کو فالو کر سکیں۔ عبدالرزاق کے خیال میں اب کاشتکار کے لیے نقصان برداشت کرنا ممکن نہیں اور ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹیکس کم کرے، پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے اور وائرس سے نمٹنے کے لیے کاشتکاروں کو مؤثر دوائیاں دے تاکہ نقصان سے بچا جا سکے۔ عبدالرزاق کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ بروقت اقدامات اٹھائے کیونکہ اس وقت بہت بحرانی کیفیت ہے۔ ان کے مطابق اگر نقصان کم نہ ہوا تو پھر کسی اور کاروبار کی طرف چلے جائیں گے۔

Back to top button