بھارت سے بھی زیادہ پاکستانی ہلاک کرنے والے طالبان ہمارے برادر کیسے؟

سینئر سیاسی تجزیہ نگار اور صحافی تنویر قیصر شاہد نے کہا ہے کہ نائب چینی وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے موقعہ پر باجوڑ میں ہونے والے بم دھماکے میں شہید ہونے والوں کی تعداد55ہو چکی ہے وزیر اعظم شہباز شریف بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ’’ دھماکوں میں افغان شہری ملوث ہیں یہ سچ نہایت تلخ ہے کہ بھارت اور بھارتی افواج نے اتنے پاکستانی آج تک جنگوں میں شہید نہیں کیے ہیں جتنے افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نے پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اُتار ڈالا ہے ۔ پھر بھی بقول عمران خان یہ طالبان اور ٹی ٹی پی والے ہمارے ’’برادر‘‘ ہیں؟ اپنے ایک کالم میں تنویر قیصر شاھد لکھتے ہیں کہ چین کے نائب وزیر اعظم ، ہی لی فینگ، پاکستان کے تین روزہ دَورے پر تشریف لائے اور چلے گئے ، اس خدشے و خطرے کے تحت کہ چینی معزز مہمان کی موجودگی میں کوئی بد مزگی نہ ہو جائے ، اسلام آباد میں تین دن تک سرکاری سطح پر چھُٹی کا سماں تھا۔ دشمنانِ پاکستان مگر ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ نائب چینی وزیر اعظم ابھی پاکستان ہی میں تھے کہ خیبر پختونخوا کے مالا کنڈ ڈویژن کے ضلع ’’باجوڑ‘‘ کی تحصیل ’’خار‘‘ میں ایک امن دشمن اور دہشت گرد نے خود کش دھماکہ کرکے درجنوں بے گناہ اور معصوم انسانوں کو شہید کر ڈالا۔ یہ خود کش دھماکہ جے یو آئی ایف کے ایک جلسے میں کیا گیا ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہید ہونے والوں کی تعداد55ہو چکی ہے ۔ جو درجنوں زخمی ہیں، وہ مختلف اسپتالوں میں کراہ رہے ہیں ۔ اِس خود کش دھماکے کی باز گشت چین تک بھی پہنچی ہو گی اور پاکستان کے دَورے پر آئے معزز چینی مہمان نے بھی سُنی ہوگی ۔ دھماکہ کرنے اور کروانے والوں کا مقصد بھی یہی لگتا ہے۔ ………………… 11محرم کو باجوڑ میں جو خونریزی کی گئی ہے ، اِس پر جے یو آئی ایف کے سربراہ، حضرت مولانا فضل الرحمن ، نے سخت لہجے میں شکوہ کرتے ہُوئے کہا ہے :’’ ملک میں بروئے کار26سے زائد انٹیلی جنس ایجنسیاں کہاں ہیں؟۔‘ مولانا فضل الرحمن نے مگر ساتھ ہی عزمِ صمیم کا اظہار کرتے ہُوئے یہ بھی کہاہے : ’’دہشت گردی کے اِن واقعات کے باوجود ہم اپنا نظریہ نہیں چھوڑیں گے ۔‘‘ باجوڑ میں جنم لینے والی خونریزی کے باوصف مولانا موصوف نے جس متحمل لہجے میں یہ بات کہی ہے اور جس طرح اپنے جانثاروں کو صبر کی تلقین کی ہے، اِس کی تحسین کی جانی چاہیے مگر خون میں نہائے اور لتھڑے بے گناہ اور معصوم عوام کب تک ایسے خونریز سانحات پر صبر اور اعراض کرتے رہیں گے ؟ تنویر قیصر شاہد کہتےھیں کہپاکستان کے 23کروڑ مجبور، غریب اور نہتے عوام بیک زبان سوال کررہے ہیں: ہمیں کب تک ’’جہادِ افغانستان‘‘ کی سزا ملتی رہے گی؟ جنہوں نے اپنی اغراض اور اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے اور طُول دینے کے لیے ، امریکی حکم اور اشارے پر، نام نہاد جہادِ افغانستان شروع کیا اور اِس میں برسوں پاکستانی عوام اور وسائل کو اندھا دھند جھونک دیا، وہ تو اپنا ’’محنتانہ‘‘ اور مفادات سمیٹنے کے بعد منظر سے غائب ہو چکے ہیں ۔ افغان جنگ کا عذاب مگر ، 40سال گزرنے کے باوجود، پاکستان کے بے بس عوام بھگت رہے ہیں۔ ہمیں کب تک یہ پٹّی پڑھائی جاتی رہے گی کہ ’’دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ؟۔‘‘ پاکستان کے خلاف مسلسل خونریزی کروانے والے افغان طالبان حکمرانوں کو کب تک ’’برادر اسلامی حکومت‘‘ قرار دے کر پاکستانی عوام کو دھوکہ دیا جاتا رہے گا؟ کب تک افغان طالبان کی چھتری تلے پناہ گیر ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو برداشت کیا جاتا رہے گا؟ ب تو 2اگست2023ء کو وزیر اعظم شہباز شریف بھی اعتراف کرتے ہُوئے یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ’’ دھماکوں میں افغان شہری ملوث ہیں۔‘‘پھر اِس کا انسداد کیوں نہیں کیا جارہا ؟ کیوں وزیر خارجہ ، بلاول بھٹو، زیر لب کہنے پر مجبور ہیں: ’’ پاکستان پر حملہ کرنے والوں کے خلاف افغانستان کارروائی کرے، ورنہ ہم کریں گے ۔‘‘ اگر یہ محض کھوکھلی دھمکی نہیں تو عوام کو عمل کرکے دکھائیں ۔ افغان طالبان حکمرانوں کی زیر نگرانی پنپنے والے دہشت گردوں کی پیدا کردہ کتنی خونریزیوں پر ہم ہر روز ماتم کرتے رہیں گے ؟ یہ سچ نہایت تلخ ہے کہ بھارت اور بھارتی افواج نے اتنے پاکستانی آج تک جنگوں میں شہید نہیں کیے ہیں جتنے افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نے پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اُتار ڈالا ہے ۔پھر بھی یہ طالبان اور ٹی ٹی پی والے ہمارے ’’برادر‘‘ ہیں؟

Back to top button