جسٹس بندیال نے سپریم کورٹ کو بے توقیر کیسے کیا؟

جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے پیشرو جسٹس ثاقب نثار کی خصلت کو اپناتے ہوئے اپنے دور میں مخصوص کیسز مخصوص بینچز میں لگانے کی روش برقرار رکھی اور سپریم کورٹ کو تقسیم کرنے میں کوئی کس اٹھا نہیں رکھی۔ تمام سیاسی اور اہم مقدمات کی سماعت کیلئے تشکیل دئیے جانے والے اہم مقدمات سے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسی کو الگ رکھا جبکہ سیاسی مقدمات میں جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس منیب کے ساتھ ملکر اپنی عمرانداری برقرار رکھی جس سے نہ صرف عدلیہ کی غیر جانبداری پر زد پہنچی بلکہ سپریم کورٹ میں تقسیم کی وجہ سے فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہوا اور عدالت عظمی بھی بے توقیر ہوئی۔ حالانکہ قانون کا یہ کلیہ ہے کہ تمام جج صاحبان مساوی ہیں تاہم ایک لاطینی کہاوت ہے کہ چیف جسٹس عدالت کی نظر میں تمام مساوی جج صاحبان میں اولین ہے۔ ویسے یہ اجتماعی دانش کی بات ہے ورنہ چیف جسٹس کا انفرادی نقطہ نظر کوئی وزن نہیں رکھتا لیکن کیا چیف جسٹس صاحبان کا عمل وہی ہے جس کے وہ مبلغ ہیں۔ روسٹر کے ماسٹر کے طور پر وہ بنچوں کی تشکیل کے لئے اپنے بے لگام صوابدیدی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہیں جس سے بنچ کے رکن کی حیثیت سے ادارہ جاتی منتظم کی حیثیت سے ان کا کردار دھندلا جاتا ہے۔ کیا چیف جسٹس صاحبان قول و فعل میں یکسانیت کے تقاضے کو پورا کرتے ہیں یا روسٹر تشکیل دیتے وقت اپنے فطری خواہشات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ پاکستان میں اس حوالے سے بحث کوئی نئی نہیں ہے۔
روزنامہ جنگ کی ایک رہورٹ کے مطابق پاکستان میں بحث سیاسی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ پی ڈی ایم سے وابستہ رہنما گزشتہ چند برسوں سے یہ الزام عائدکرتے رہے کہ سپریم کورٹ میں ججوں کا ایک گروپ اہم سیاسی مقدمات میں نظریاتی جھکائو رکھتا ہے ان ججوں کی اکثریت کو ایسے بنچوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ جن کا تعلق کسی خاص جماعت سے ہو۔اس بارے میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے لئے پی ٹی آئی کا حق، آئین کے آرٹیکل A-63 کی تشریح، نیب آرڈیننس میں ترامیم اور مظاہر نقوی کی آڈیو لیکس کی تحقیقات شامل ہیں جبکہ ہارنے والے فریقوں کی جانب سے فیصلے دینے والی بنچوں کو جانبدار قرار دینا بھی غیر معمولی نہیں ہے ۔ ان الزامات کے اہمیت اختیار کرنے کی بھی تین وجوہ ہیں۔ اول چونکہ گزشتہ دو سال کے عرصہ میں ہائی پروفائل سیاسی مقدمات اس تواتر اور شدت کے ساتھ زیر سماعت آئے ہیں کہ عدلیہ کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی کسی بھی درخواست گزار کی جانب سے ایک رسمی استدعا فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے کافی ہے ان کے علاوہ درخواستیں زیر غور نہیں لائی جاتیں۔ دوسرے بنچوں کی تشکیل اور انہیں مقدمات تفویض کرنے کے حوالے سے اختیارات کے غلط استعمال کاتاثر درست بھی ہے تو پارلیمنٹ کے ذریعہ دو علیحدہ ایکٹس کی منظوری، جن کے تحت سپریم کورٹ کے طریقہ کارکو باقاعدہ بنایا جانا شامل ہے۔ اس وقت کے وفاقی وزیر خرم دستگیر نے پارلیمنٹ سے خطاب میں دستور سازی کی حمایت کی اور کہا کہ بنچوں کی تشکیل کسی ایک شخص کی صوابدید نہیں ہے۔ تیسری اور سب سے زیادہ اہم بات یہ ہےکہ عدالت عظمی کے کم از کم 7؍ حاضر ججوں نے بنچوں کی تشکیل کے معاملے میں چیف جسٹس کے اختیار پر مختلف مواقع پر سوال اٹھایا اور اپنے بنچوں میں شمولیت سے مسلسل نظرانداز کئے جانے پر احتجاج بھی کیا۔ حال ہی میں ریٹائر جسٹس باقر نے بھی اہم اور حساس مقدمات کے لئے قائم بنچوں میں اپنی عدم شمولیت کی شکایت کی جن سےججوں کی غیرجانبداری پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔دیگر ججوں نے تاہم ’’ماسٹر آف دی روسٹر‘‘ کی حیثیت سے چیف جسٹس کی بالادستی کی شدت سے حمایت کی اور اسے ایک طے شدہ آئینی ایشو قرار دیا۔ اب کون اس معاملے میں درست ہے؟ آیا چیف جسٹس صاحبان روسٹر کی تشکیل کا حق رکھتے ہیں؟ کچھ ججوں کومنظم طریقے سے بنچوں میں شامل اور دیگر کونظرانداز کیا جاتا ہے۔ اہم سیاسی نوعیت کے مقدمات کے لئے بنچوں کی تشکیل میں چیف جسٹس دانستہ یا غیر دانستہ طور پر جانبداری سے پیش آتے ہیں۔ ایسے میں اس کی ٹھوس وجہ موجود ہے کہ معاملے کو ریگولیٹ کیا جائے۔
دوسری جانب اعداد و شمار کے مطابق پچھلے کچھ عرصے سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت اہم سیاسی مقدمات کے حوالے سے ایک نمایاں تفاوت موجود ہے۔ دیگر ججز کی نسبت جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس منیب اختر سیاسی مقدمات کی سماعت کیلئے تشکیل دئیے گئے بینچز میں پیش پیش رہے ہیں۔ درحقیقت جب سیاسی طور پر اہم کیسز بینچوں کو تفویض کیے جاتے ہیں یا سیاسی حوالے سے اہم مقدمات کو سننے کےلیے خصوصی بینچ تشکیل دیے جاتے ہیں تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے ان میں جسٹس اعجاز الحسن کو شامل کیے جانے کا امکان جسٹس سردار طارق کی نسبت 9 گنا زیادہ ہوتا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق ادارہ جاتی فعالیت اور قانونی حیثیت کو تحفظ دینے کے لئے بنچوں کی تشکیل اور اس کی ہیئت کا تنہا اختیار چیف جسٹس کو نہیں دیا جاسکتا۔ اس سے سپریم کورٹ کی غیر جانبداری اور چیف جسٹس پر عوام کا اعتماد مجروح ہوگا اور اس عمل سے غیر ضروری انفرادی طور پر ججوں پرجانبداری کے الزام لگیں گے جبکہ آپس میں بداعتمادی کے ساتھ ججوں میں دراڑیں پڑیں گی اور بنچ پر ججوں کی آزادی محدود ہو جائے گی اگرججوں کو چیف جسٹس سے اختلاف رائے کی آزادی نہیں ہوگی تو آئندہ مقدمات کے لئے بنچوں میں ان کی شمولیت کے امکانات مشکوک ہوجائیں گے حالانکہ بنچ کے فیصلے اجتماعی دانش اور ذہانت کے غماز ہوتے ہیں۔ بنچوں کی تشکیل، ججوں کی شمولیت اور مقدمات تفویض کرنے ایک جدید اور شفاف طرح جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاکر بھی اختیار اور بین الاقوامی سطح پر پریکٹس سے استفادہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
