نواز شریف کے چوتھی بار وزیر اعظم بننے میں اصل رکاوٹ کیا ہے؟

اینٹی عمران سیاسی قوتیں یکساں انتخابی حکمت عملی طے کر نے کیلئے ”بلے“ کے مستقبل بارے فیصلے کی منتظر ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق حکمران اتحاد میں یکساں حکمت عملی کیلئے جن2تجاویزپر مشاورت جاری ہے ان میں ایک یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے پاس بلے کا انتخابی نشان ہوتا ہے تو مقابلے میں اینٹی عمران امیدواروں کی تعداد کم سے کم ہو، بلے کا نشان نہ ہونے کی صورت میں ایسے آزاد امیدواروں کی تعداد زیادہ ہو جو پی ٹی آئی ووٹ بینک تقسیم کر سکیں۔

دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سےبات چیت کے اشارے سامنے آنے پر سابق حکمران اتحاد کی قیادت نے اے این پی اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطہ کیا ۔ جس پر دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت نے واضح کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ کسی سطح پر بھی انتخابی یا سیاسی بات چیت خارج از امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ قومی وصوبائی اسمبلی کے ٹکٹوں کے حتمی فیصلوں کے بعد ن لیگ کے قائد نواز شریف، شہباز شریف،مریم نواز اور حمزہ شہباز نے ملک بھر میں عوا می جلسوں سے خطاب کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب سینئر صحافی سلیم صافی کا کہنا ہے کہ ان دنوں الیکشن سر پر ہے اور جہاں بڑے بڑے لیڈر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بننے کے لیے مرے جارہے ہیں وہاں نچلی سطح کے ایم این اے ایم پی اے بننے کے لیے ہر حد پار کر رہے ہیں حالانکہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اس تالاب سے بہت کم لوگ عریاں ہوئے بغیر نکلتے ہیں۔ نوازشریف تین دفعہ وزیراعظم بنے اور تینوں مرتبہ نکالے گئے ایک لمبے عرصے تک اپوزیشن کی سیاست بھی کی اور دو مرتبہ جلاوطنی بھی کاٹی۔ سلیم صافی کے مطابق نوازشریف اور مریم نوا ز کا شمار بہادر سیاستدانوں میں اس لیے ہوتا ہے کہ وہ موت کا رسک لے سکتے ہیں 99میں جب چار جنرل ان کے پاس گئے اور بندوق کی نوک پر ان سے استعفیٰ لینا چاہا لیکن انہوں نے نہیں دیا وہ ضدی بھی ہیں اور بعض مواقعوں پر ڈٹ بھی جاتے ہیں۔مریم نواز نے بھی بڑی بہادری سے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مشترکہ مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا باوقار طریقے سے جیلیں کاٹیں اور اپنی ماں کو جس حالت میں چھوڑ کر پاکستان آنے کا فیصلہ کیا اس کے لیے بڑا جگر چاہیے۔ لیکن جب ان کا اقتدار آتا ہے تو ان کا رویہ بالکل بادشاہوں والا ہوجاتا ہے لیکن اس بار اقتدار میں آنے سے پہلے باپ بیٹی کا رویہ بادشاہوں والا ہوگیا ہے۔ سلیم صافی کے مطابق وطن واپسی پر نوازشریف کو چاہیے تھا کہ وہ پارٹی تنظیم پر توجہ دیتے لیکن وہ ابھی تک سیاسی بیانیہ تشکیل دینے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ نوازشریف سمجھتے ہیں کہ عدلیہ کے کیسز بھی کسی اور نے ختم کرانے ہیں سیاسی بیانیہ بھی کسی اور نے تشکیل دینا ہے اور تحریک انصاف کو بھی کسی اور نے سنبھالنا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کسی اور نے یہ سارے کام کر کے اقتدار ان کی جھولی میں ڈالنا ہے۔ سلیم صافی کا مزید کہنا ہے کہ نواز شریف وزیراعظم بننا چاہتے ہیں لیکن ان کی سوچ پنجاب تک ہی محدود ہے۔ بادشاہانہ رویہ کی وجہ سے تحریک انصاف کو پختونخوا اور پنجاب میں نیا جنم مل رہا ہے اور اگر یہی سب چلتا رہا تو انتخابی مہم شروع ہونے تک وہ عوام کے سامنے جانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔سلیم صافی کا مزید کہنا ہے کہ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ماضی کی طرح نوازشریف کو ایک بار پھر خوش آمدیوں نے گھیر لیا ہے اور اگر ایسا ہی رہا تو ان کا چوتھی بار وزیراعظم بننے کا خواب مشکل سے ہی پور اہوگا۔

Back to top button