’دُنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ لوگ اپنے لوگوں سے جنگ لڑیں۔‘

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کاکہنا ہے کہ ’دُنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ لوگ اپنے لوگوں سے جنگ لڑیں۔‘
جبری گمشدگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ’وفاقی وزیر اگر اپنے بل کی حفاظت نہیں کر سکتا تو وہ کسی کے حقوق کے لیے کیا کرے گا‘؟ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کرتے ہوئے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔
سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت کی۔
آج اس معاملے میں ہونے والی سماعت کے دوران اعتزاز احسن کی جانب سے عدالت میں اُن کے وکیل شعیب شاہین نے دلائل دیے۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’دُنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ لوگ اپنے لوگوں سے جنگ لڑیں۔‘
چیف جسٹس کی جانب سے شعیب شاہین کو کہا گیا کہ ’آپ مکمل تیاری کر کے آئی ہمیں یہ بتائیں کہ کس نوعیت کے آرڈر پاس کریں تو اس مسئلے کے حل کی جانب جایا جا سکتے ہیں۔‘
آج کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کرنے سے قبل عدالت نے کل کی سماعت میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی طلب کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہم اب بس اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے، اس معاملے کو سیاسی نا بنائیں، جو اثر و رسوخ والے لوگ ہیں وہ خود آجائیں گے، یہاں سیاسی باتیں نا کریں، کیونکہ ہم اس بات کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ پاکستان اندرونی طور پر مضبوط ہوگا تو کوئی بیرونی طاقت اس کا کُچھ نہیں بگاڑ سکتی۔‘
عدالت نے کیس کے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ’لاپتہ افراد کا کیس سنجیدہ نوعیت کا ہے، عدالت کا مزاق بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، کسی کے بھی ساتھ زیادتی ہو تو اُس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، ہمارے لیے ہر شہری محترم ہے چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو۔‘
چیف جسٹس کی جانب سے کیس میں وکیل شعیب شاہین سے سوال کیا گیا کہ ’کیا آپ کی جانب سے کوئی ایسی لسٹ لگائی گئی ہے کہ کتنے لوگ لا پتہ ہیں اور کتے بازیاب ہوئے ہیں؟‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں نہیں پتہ کے کو کتنے سال سے لاپتہ ہے اور اُس وقت کس کی حکومت تھی ہم نے آخر سوال کس سے کرنا ہے، تفصیل تو ہو کون کب کہاں سے لاپتہ ہوا۔‘
عدالت کے ان ریمارکس کے جواب میں شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں تو جواب کمشن دے گا کے کون کہاں سے کب اور کیسے لاپتہ ہوا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’کمشن کے سربراہ تو جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال ہیں ہم تو چاہتے ہیں کے انٹرنیشنل لیول کا کمشن بنے۔‘
عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ ’کیا آپ کی جانب سے کمشن کو لکھا کہ لاپتہ افراد کی فہرست جاری کی جائے؟ اگر آپ نے ایسا کیا ہوتا تو ہمارے لیے بھی کام آسان ہو جاتا اور ہم مسئلے کے حل کا جانب جا سکتے تھے۔‘
عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ ’ایک وفاقی وزیر اگر اپنے بل کی حفاظت نہیں کر سکتا تو وہ کسی کے حقوق کے لیے کیا کرے گا؟‘
سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ’اگر اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہونے دیں گے، یہ اس وجہ سے کہا جا رہا ہے آپ صرف ایک سیاسی جماعت کا نام استعمال کر رہے ہیں یہ درست نہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’لاپتہ افراد کیس میں درخواستوں پر تکنیکی اعتراضات نظر انداز کر دیے گئے۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص کسی بھی عہدے پر ہوتا ہے وہ اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈال دیتا ہے، ہر آدمی اپنی جگہ کھڑا ہو کر کام کرے تو اچھا ہوگا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کی سابق وفاقی وزیر شیرین مزاری کی جانب سے یہ کہا گیا کہ کمیٹی کے بعد سینٹ میں جانے والا اُن کا بل غائب ہوگیا، آپ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی پر بہت بڑا الزام لگا رہے ہیں۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ اتنا بڑا الزام لگا رہے ہیں تو آپ کی جانب سے انھیں اس کیس میں فریق کیوں نہیں بنایا گیا؟‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ تو مسنگ پرسن سے ہٹ کر اب تو مسنگ بل کا کیس بن گیا ہے۔‘
چیف جسٹس کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ ’آپ کی پٹیشن میں عمران ریاض اور ارشد شریف کا نام تو لیا گیا ہے جو یہ نہیں بتا رہے کہ انھیں کون لے گیا تھا مگر آپ کی جانب سے اُن کا نام نہیں لیا گیا جو بتا رہے ہیں کو انھیں کو لے گیا تھا۔‘
