بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیمیں اغوا اور بھتہ خوری کیوں کر رہی ہیں ؟

بلوچستان کا 84 فیصد علاقہ غیر ترقی یافتہ اور غیر مستحکم شمار کیا جاتا ہے۔ تاریخی جغرافیائی، لسانی اور قبائلی تقسیم کے تناظر میں لاپتہ افراد کی گمشدگی کا مسئلہ اہم ترین اور توجہ طلب مسئلہ ہے لیکن اس کی آڑ میں کچھ مسلح گروہ کچھ عسکریت پسند تنظیمیں اگر ان ناکردہ گناہوں کا بوجھ بھی حکومت کے سر تھوپ رھی ہیں۔
بھتہ خوری، اغوا، اغوا برائے تاوان میں ملوث یہ عناصر پروپیگنڈہ اور بیانہ کی جنگ میں تیز رفتاری سے سفر طے کررہے ہیں۔ ان کا بیانہ فوج کے خلاف، انٹیلیجنس اداروں کے خلاف، ایف سی کے خلاف ہے۔ ان کا ریاست مخالف ایجنڈا بڑا واضح ہے، مارو اور قتل کا الزام حکومت کے سر ڈال دو۔ بغاوت کی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو ان تحریکوں کی داغ بیل اکبر بگٹی، عطا اللہ مینگل اور خیر بخش مری کے عام انتخابات کے بائیکاٹ سے ہوئی ۔ ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے اپنی ایک تحریر میں کیا ھے ۔ وہ بتاتی ہیں کہ بلوچستان میں ترقی نہ ہونے کے برابر ہے اور وسائل کا تخمینہ لگانا بھی مشکل ترین امر ہے۔ مقامی لیڈر شپ متحد ہے نہ سنجیدہ، وہ بس یہی سوچتے ہیں کہ اگر عوام خوشحال ہوگئے تو ان کا کیا ہو گا، کل کو یہی لوگ ان کے روبرو آن کھڑے ہوں گے نواب، خان، سردار کبھی بھی ترقی اور خوشحالی نہ ہونے کے خواہاں ہیں۔ یہ بڑی رکاوٹ ہے ۔ پاکستان میں شرح خواندگی 68 فیصد ہے تو بلوچستان میں 37 فیصد ہے جو شہری علاقوں پر محیط ہے، پسماندہ، دور افتادہ علاقوں کا تو تذکرہ ہی نہیں جبکہ خواتین میں یہ شرح گر کر 17 فیصد تک باقی رہ جاتی ہے۔سیاسی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں تاہم قبائلی نظام کی جڑیں بہت مظبوط ہیں۔ شادی بیاہ کے معاملات ہو یا خانگی مسائل۔ متنازع معاملات ہوں یا ووٹرز، ٹیکسز، لا اینڈ آرڈر کے معاملات، ریاست کی ذمہ داریاں بھی قبائلی سرداروں کے سپرد ہیں۔ علاقوں کا کنٹرول قبائلی سرداروں کے ہاتھ ہے۔ قبائل ایک دوسرے کے مفادات کو تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔ بلوچستان کو بڑے درپیش چیلنجز میں دہشتگردی، قوم پرستی، پسماندگی، بے روزگاری، ہتھیاروں کی سمگلنگ شامل ہیں جبکہ ان میں ملوث بی ایل اے، بی آر اے، بی ایل ایف، یو بی اے، لشکر بلوچستان، لشکر جھنگوی، جیش السلام، داعش اور ٹی ٹی پی سر فہرست ہیں، انتہا پسند تنظیمیں ٹارگٹ کلنگ، اغوا، کرپشن، فرقہ پرستی بنیادوں پر قتل و غارت گری میں ملوث ہیں۔ برا انتظامی بندوبست بھی بلوچستان کا ایک بڑا مسئلہ ہے جس میں بیرونی عناصر کا کردار اہم ترین ہے جو بلوچستان کے مسائل کو ہوا دینے میں کار فرما ہیں۔ غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ بغاوت کی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو ان تحریکوں کی داغ بیل اکبر بگٹی، عطا اللہ مینگل اور خیر بخش مری کے عام انتخابات کے بائیکاٹ سے ہوئی۔ مری بگٹی اور خضدار میں فراری کیمپس کا قیام بغاوت کی پرزور تحریکیں ثابت ہوئیں۔
2002-2004 کے درمیان راکٹ حملے، چینی انجینیئرز ٹارگٹ کلنگ، سکیورٹی فورسز اور قومی سلامتی اداروں پر حملے، جنرل مشرف پر حملہ، آئی جی ایف سی ہیلی کاپٹر حملہ، ڈاکٹر شازیہ کیس اور 2006 میں اکبر بگٹی کا قتل اس دور کی بڑی شہ سرخیاں رہیں۔ بغاوت کے جذبات کو ہوا دی گئی اور یہ نعرہ زبان زد عام ہوا کہ آزاد بلوچستان قائم کیا جائے، 9/11 کے اثرات نے جہاں افغانستان کو متاثر کیا وہیں اثرات پڑوس میں بلوچستان پر بھی آئے، لاقانونیت کو ہوا دینے کے لیے پاکستان مخالف عناصر کا کردار اہم رہا، مسلح عسکریت پسند جتھوں نے نوجوانوں کی ذہن سازی کرنا شروع کی جن کا مقصد صرف ریاست مخالف جذبات ابھارنا تھا۔ مسلح تنظیموں کا جائزہ لینے کی بات کریں تو بی ایل اے ہربیار مری، بی آر اے براہمداغ بگٹی، بی ایل ایف ڈاکٹر اللہ نذر، بی این ایم ڈاکٹر منان، یو بی اے زمان مری جبکہ لشکر بلوچستان جاوید مینگل کے اشاروں پر کارروائیوں میں مصروف ہیں، یہ مسلح تنظیمیں بلوچستان کے مسائل کو غیر ضروری ہوا دینے میں کار فرما ہیں۔ مسلح افواج، سکیورٹی اداروں، انٹیلیجنس، ریاست حامی افراد، محب وطن بلوچ و غیر بلوچ، سیٹلرز، پنجابی، ہندوؤں پر حملوں، مسلکی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ، قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر حملوں میں ملوث ہیں۔ قومی حساس تنصیبات اور ملٹری اثاثوں پر حملے ان کے ریڈار پر رہے ہیں۔
غریدہ فاروقی کے مطابق یہ مسلح گروہ اپنے درمیان ان افراد کو نشانہ بنانے، جن پر غداری یا محب الوطنی کا شبہ ہو، یا اپنے مختلف دھڑوں میں دلچسپی کا اظہار کرنے والے افراد کا خاتمہ کرتے ہیں اور الزام سکیورٹی فورسز اور حکومت پر لگاتے ہیں تاکہ عام لوگوں میں حکومت مخالف جذبات کو مزید ہوا مل سکے۔متحارب گروپوں سے ہٹ کر مختلف تنظیموں کی بات کریں تو بی ایس او کا قیام 1961 میں ہوا جب بلوچ طلبہ نے یوتھ ایجوکیشن فورم قائم کیا جس کا مقصد بلوچستان کی زبان، تہذیب اور ثقافت کا فروغ تھا۔ 26 نومبر 1967 اس فورم کو بی ایس او میں تبدیل کردیا گیا، 1986 میں یہی بی ایس او دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی، ایک دھڑے کو یٰسین بلوچ کی قیادت ملی جبکہ دوسرے دھڑے کو قہور بلوچ نے لیڈ کیا، 2001 میں اسی بی ایس او کا ایک اور دھڑا منظر عام پر آیا۔ بی ایس او آزاد جس کی سربراہی اللہ نذر نے کی۔ 2006 میں ان تینوں دھڑوں کا ملاپ ہوا تاہم ان کے نظریاتی اختلاف برقرار رہے اور بالاخر اتحاد دو ماہ میں اختتام پذیر ہو کر نظریاتی بنیادوں پر منقسم ہوگیا۔ ایک بی ایس او پی۔ پجار دوسری بی ایس او ایم۔ محی الدین اور تیسری بی ایس او آزاد کے نام سے ماخوذ ہوئی۔ بی ایس او پی کی سربراہی امین بلوچ نے کی جو نیشنل پارٹی کے ساتھ منسلک ہے۔ بی ایس او ایم نے بی این پی ایم کے ساتھ اتحاد کیا جسے آج کل نذیر بلوچ ہیڈ کررہے ہیں۔ جبکہ بی ایس او آزاد کی سربراہی اللہ نذر ہی کرتے آ رہے ہیں۔
غریدہ فاروقی بتاتی ہیں کہ اللہ نذر کا نظریہ سب سے خطرناک ہے جو آزاد بلوچستان کے حامی ہیں، یہ پاکستان مخالف ہیں اور ہمیشہ بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کی بات کرتے آئے ہیں۔ بی ایس او آزاد کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں احساس محرومی کو اجاگر کرکے ان کے ریاست مخالف جذبات کو بھڑکانا ہے، ان نظریات کے حامل افراد کی بڑی تعداد کالجز یونیورسٹیز، مدارس حتی کہ سکولز میں بھی ہے اور حیران کن حد تک صرف طلبا ہی نہیں اساتذہ بھی ان نظریات کے حامل ہیں۔ بلوچستان میں سیاسی حکومتوں نے ہمیشہ اپنے استحکام کے لیے سرداروں کی خوشنودی حاصل کی، اپنا سیاسی کنٹرول اور اثر رسوخ قائم رکھنے کو ترجیح دی، ووٹ بنک کے استحکام کی تگ و دو میں مصروف عمل رہے۔
بلوچستان بیوروکریسی بھی مسائل سے دوچار ہے، اول تو کوئی قابل افسر وہاں جانے کے لیے تیار نہیں اور اگر کوئی ہیں بھی تو انہیں شدید خطرات لاحق ہیں جس کی وجہ سے گورننس کے بے تحاشہ مسائل ہیں۔ کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ معصوم شہریوں کو جبری گمشدہ یا لاپتہ کرنے میں کردار ادا کرے، جبری گمشدگیوں کا جاری سلسلہ رکنا چاہیے، لاپتہ افراد کا پتا لگایا جانا چاہیے، اس مسئلے کی آڑ میں ریاست مخالف سرگرمیوں کی بھی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔
