کیا نون لیگ کی وزیر اعظم کی امیدوار مریم نواز ہیں؟

نون لیگ کی جانب سے متعدد مواقع پر اس بات کا برملا اظہار کیا جا چکا ہے کہ مسلم لیگ ن کے الیکشن جیتنے کی صورت میں نواز شریف ہی پارٹی کی جانب سے آئندہ وزارت اعلی کا منصب سنبھالنے کے امیدوار ہونگے۔ تاہم مریم نواز کے پارٹی کی انتخابی مہم لیڈ کرنے اور حافظ آباد جلسے میں نواز شریف کے بعد آخر میں خطاب کرنے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ نواز شریف خود وزیر اعظم نہیں بنیں گے بلکہ نواز شریف وزارت عظمی کیلئے مریم نواز کو نامزد کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ 8 فروری کے عام انتخابات کے معاشی روڈ میپ اور پی ٹی آئی دورِ حکومت کی ناکامیوں کو انتخابی بیانیے کا حصہ بناتے ہوئےمسلم لیگ ن نے اپنی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیاہے۔ تاہم مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم میں اس وقت تیزی دیکھنے میں آئی جب نواز شریف اور مریم نواز کے جلسوں کا شیڈول جاری کیا گیا۔باقاعدہ انتخابی مہم کے لیے مسلم لیگ ن نے 15 جنوری کو پہلا جلسہ اوکاڑہ میں کیا۔ مبصرین کا خیال تھا کہ ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل سے فراغت کے بعد نواز شریف ن لیگ کی انتخابی مہم کو لیڈ کریں گے۔ خود مسلم لیگ ن کی قیادت بھی کچھ یہی تاثر دے رہی تھی۔ لیکن پہلے جلسے میں نا تو نواز شریف نظر آئے اور نہ ہی شہباز شریف بلکہ انتخابی مہم کا افتتاح مریم نواز سے کروایا گیا۔

اسی سلسلے میں دوسرا جلسہ جمعرات کو حافظ آباد میں ہوا، ن لیگ کی جانب سے تشہیر کی گئی کہ نواز شریف خود اس جلسے میں شرکت کریں گے اور اپنا بیانیہ اور منشور دونوں کارکنوں کے سامنے رکھیں گے۔ تاہم نواز شریف نے حافظ آباد جلسہ گاہ میں انتہائی مختصر خطاب کیا۔مبصرین کے مطابق 10 منٹ پر محیط اپنی تقریر میں انہوں نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ اپنی حکومت ختم کیے جانے کا شکوہ کیا اور آئندہ حالات بہتر کرنے کا وعدہ کیا اور تقریر ختم۔تاہم دلچسپ یہ ہوئی کہ اپنی تقریر کے بعد انہوں نے مریم نواز کو خطاب کا کہا۔ یہ ایک مختلف صورت حال تھی۔ جبکہ دوسرے روز خانیوال کے جلسے میں نواز شریف خود نہیں گئے اور اپنی جگہ پر صرف مریم نواز کو شرکت کیلئے بھیج دیا۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’نواز شریف نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ مریم نواز ان کی جانشین ہیں۔ ان کو اپنی حکومت نظر آ رہی ہے اس لیے وہ تقریروں اور بیانیے کی بحث میں الجھنے کی بجائے ان جلسوں کو مریم نواز کو سیاسی طور پر مضبوط کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔‘’ایک دفعہ انہوں نے پہلے بھی آزاد کشمیر  میں مریم نواز کو اپنے بعد تقریر کرنے کا کہا تھا، اس کے بعد پھر حالات بدل گئے۔ اب وہ چاہ رہے ہیں کہ ان کا ووٹر اور سپورٹر اپنے آپ کو اب مریم نواز سے جوڑے۔‘عام طور پر اس طرح کی سیاسی تقاریب اور جلسوں میں سب سے آخر میں مہمان خصوصی کی تقریر رکھی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں حافظ آباد جلسے میں نواز شریف نے مریم نواز کو مہمان خصوصی کا درجہ دیا۔

خیال رہے کہ شیڈول کے مطابق آئندہ دنوں میں نواز شریف مانسہرہ جلسہ سے خطاب کریں گے جبکہ قصور جلسے میں نواز شریف اور شہباز شریف دونوں شرکت کریں گے۔دوسری جانب اینکر پرسن اجمل جامی کے مطابق ’ن لیگ کی انتخابی مہم اور طریقہ کار کو سادہ لفظوں میں سمجھا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ن لیگ کے اندر طاقت صرف نواز کیمپ میں رہے گی۔ چاہے ٹکٹوں کی تقسیم کا معاملہ ہو یا عوام سے رابطے مضبوط کرنے کا، تو وہ اب نواز شریف کے بعد مریم نواز کریں گی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف تو پھر بھی کارآمد جُزو کی طرح رہیں گے البتہ حمزہ شہباز کی لائن بظاہر اس وقت تک کٹ چکی ہے۔ قدرت نے انہیں وزیراعلٰی پنجاب کی کرسی دی تھی تاہم ان کی کارکردگی مایوس کن رہی تھی اس لیے اب ن لیگ کے جلسوں اور فیصلہ سازی میں صرف مریم نواز ہی نظر آئیں گی۔‘

دوسری جانب سیاسی حلقوں میں جہاں سابق وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے انتخابی مہم میں نظر نہ آنے پر چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں وہیں مریم نواز کی سرگرمیوں پر صارفین کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے انہیں اپنے ساتھ رکھ کرموقع دے رہے ہیں اور ان کی ٹریننگ کر رہے ہیں ۔کیونکہ یہ افواہیں بھی سرگرم ہیں کہ نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم نہیں بنیں گے بلکہ وہ کسی کو نامزد کریں گے اور اس کے لیے مریم نواز ہی بہتر آپشن ہیں ۔جنھیں میاں نواز شریف کی حمایت حاصل ہوگی اوروہ مریم نواز شریف کو اگلا وزیر اعظم بنانے کی بھرپور کوششیں کریں گے جبکہ ن لیگ کی اس مہم میں میاں شہباز شریف سمیت پوری پارٹی ان کے ساتھ ہوگی۔میمونہ اختر لکھتی ہیں کہ حافظ آباد جلسے میں نواز شریف نے مریم نواز کو وزیراعظم بنانے کا واضح اشارہ دے دیا۔ایک صارف نے لکھا کہ حافظ آباد جلسے میں میاں نواز شریف نے مریم نواز کو اپنے بعد خطاب کرنے کا موقع دے کر واضع عندیہ دیا ہے کہ ن لیگ کی کوشش ہوگی کہ انتخابات میں اکثریت ملی تو وزیر اعظم کی امیدوار مریم نواز شریف ہی ہوں گی۔

Back to top button