عمران خان نے ملک کو ڈیفالٹ کرانے کی سازش کیوں رچائی؟

ایک ایسے وقت میں جب ملک میں نئی حکومت کی تشکیل کا عمل آئین کے مطابق مرحلہ وار جاری ہے اور معاشی صورت حال کو نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے، پاکستان تحریک انصاف نے عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کو لکھے گئے ایک خط میں پاکستان کو قرض دینے سے قبل آٹھ فروری کے انتخابات کے آڈٹ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب اتحادی سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر آئی ایم ایف کو حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے لکھے گئے خط کو پاکستان کو ڈیفالٹ کرنے کی کوشش، ملک دشمنی اور ریاست سے بغاوت قرار دے رہی ہیں۔‘

سیاسی اختلافات کے باوجود آئی ایم ایف کو خط لکھنا اس وقت ملک میں ایک موضوع بحث بنا ہوا ہے اور سیاسی و معاشی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کی اہمیت کیا ہے اور اس کے اثرات کتنے گہرے ہو سکتے ہیں؟

ماہرِ معیشت سید محمد علی کے مطابق’آئی ایم ایف ایک بین الاقوامی ادارہ ہے، جس سے کئی ممالک معیشت کی بہتری کے لیے وقتا فوقتاً رجوع کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کا آئی ایم ایف سے بہت پرانا تعلق ہے، یہ پہلا موقع ہے جب کوئی سیاسی جماعت پاکستان کی معیشت کے لیے ریلیف سے متعلق آئی ایم ایف کے فیصلوں اور پروگرام پر براہ راست اثر انداز ہونے کی کوشش کررہی ہے۔‘بقول سید محمد علی: ’یہ نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی اور مفادات کے منافی ہے بلکہ یہ اقدام عالمی اداروں کے پاکستان پر اعتماد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی مالیاتی ادارے، خصوصاً ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف ممالک کے معاشی اشاریوں معاہدوں کو اہمیت دیتے ہیں، وہ ان ممالک سے توقع کرتے ہیں کہ ملک میں سیاسی ماحول ایسا ہو کہ معاشی معاہدے پورے کیے جا سکیں۔‘سید محمد علی کا مزید کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف کا براہ راست تعلق معیشت سے ہے، سیاسی معاملات سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ تاہم ادارہ یہ چاہتا ہے ریاست کے فیصلے اور معاملات ایسے ہوں جو آئی ایم ایف کے اعتماد کو تقویت دیتے ہوں۔ اس خط سے بین الاقوامی ادارے کے پاکستان پر اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو پاکستان کی سلامتی کے خلاف بھی ہے۔‘

اسی حوالے سے ماہرِ معیشت ڈاکٹر افضل اقدس کا کہنا ہے کہ ’آئی ایم ایف کو عمران خان کے خط سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف ممالک کے سیاسی حالات سے دامن بچا کر کام کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف حکومت اور ریاست سے معاہدے کرتا ہے۔‘ان کے مطابق: ’آئی ایم ایف جنرل ضیا اور جنرل مشرف سے بھی معاہدے کر چکا ہے اس لیے آئی ایم ایف کو خط لکھنا بے سود ثابت ہو گا۔ڈاکٹر افضل اقدس کا مزید کہنا ہے کہ ’عالمی مالیاتی فنڈ ملک کے سیاسی حالات کو خاطر میں نہیں لاتا۔ آئی ایم ایف ملک کی معیشت کے ذرائع، ان میں اضافے کی وجوہات اور انٹرسٹ ریٹ کو دیکھتا ہے۔ نہیں لگتا کہ عمران خان کے خط کا پاکستان کی ڈیل پر کوئی اثر پڑے گا۔‘ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’پی ٹی آئی کی جانب سے لکھے گئے خط کی کوئی زیادہ حیثیت نہیں ہے اور اس کا امکان بہت کم ہے کہ اس سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات، تعلقات یا ڈیل پر کوئی اثر پڑے۔‘

دوسری جانب ماہر معاشیات خرم شہزاد بھی سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف کو لکھے گئے پی ٹی آئی کے خط کا کوئی ’خاص اثر‘ نہیں ہوگا۔’عمران خان کا عالمی مالیاتی فنڈ کو خط لکھنا بے سود ہے۔ خط کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ آئی ایم ایف پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات پر کوئی بات نہیں کرے گا۔ یہ اس کا مینڈیٹ ہی نہیں۔‘ان کے مطابق: ’اس بارے میں آئی ایم ایف کی جانب سے پہلے ہی ایک بیان سامنے آ چکا ہے جس میں اس نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کی جو بھی نئی حکومت ہو گی ہم اس کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں۔‘

بقول خرم شہزاد: ’آئی ایم ایف نے ڈکٹیٹرشپ کے دور میں مصر کو بھی قرضے دیے ہیں۔ بنگلہ دیش بھی آئی ایم ایف پروگرام میں ہے، حالانکہ وہاں اپوزیشن جیل میں ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی ایسا تو نہیں ہوا کہ اپوزیشن نے آئی ایم ایف کو لکھنا شروع کر دیا۔ معاہدہ ریاست کے ساتھ ہوتا ہے، کسی جماعت کے ساتھ نہیں۔ تمام پارٹیوں کو یہ سمجھنا چاہیے،عمران خان کا یہ اقدام صرف سیاسی ایجنڈا ہے، جو انتہائی غلط ہے۔‘ ’سیاسی طور پر یہ پی ٹی آئی کی غلطی ہے کیونکہ اس سے ان کے بانی عمران خان کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ اس خط سے کچھ نہیں ہوگا صرف جماعت اور ملک کی بدنامی ہو گی۔‘

Back to top button