معیشت بحالی مشن، پاکستان کا اگلا وزیر خزانہ کون ہو گا؟

پاکستان میں پچھلے ماہ ہونے والے عام انتخابات اور اس کے نتائج کے تناظر میں پارلیمان کے ایوان زیریں میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین ایک نئےسیاسی اتحادکے بعد یہ واضح ہے کہ ملک میں نئی حکومت بھی انہیں دو جماعتوں کے اشتراک سے بنے گی۔ تاہم آنے والی حکومت کو سیاسی عدم استحکام کے دوران بڑے معاشی چیلنجز کا سامنا ہو گا۔ ایسے میں سیاسی حلقوں میں ایک اہم سوال زیر بحث ہے کہ وزیر خزانہ کے اہم منصب کے لیےنون لیگ اور پیپلزپارٹی کا انتخاب کون ہوگا؟

اس حوالے سے دونوں سیاسی جماعتوں کھ مابین ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات سے واقف ذرائع نے بتایا کہ اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق اس اہم منصب کے لیے اسحاق ڈار، شمشاد اختر اور حبیب بینک کے صدر محمد اورنگزیب کے نام زیر غور ہیں۔دوسری جانب مسلم لیگ ن سے منسلک ذرائع کے مطابق اس منصب کے لیے اب بھی اسحاق ڈار کا نام سر فہرست ہے، جو پہلے بھی چار بار پاکستان کے وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔

اسحاق ڈار اس سال الیکشن سے پہلے شہباز شریف کے دور حکومت میں بھی وزیر خرانہ تھے۔ تاہم اس دور میں ان کی کارکردگی کے حوالے سے انہیں اب مسلم لیگ ن کے اتحادیوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔اپنے دفاع میں اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے مالی پیکج کی منظوری کو یقینی بنانے اور ڈیفالٹ کے خطرے کو ٹالنے کے لیے انہیں بطور وزیر خزانہ کچھ مشکل فیصلے اور سخت اقدامات کرنے پڑے۔تاہم جس دوران پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین اس پیکج کے لیے مذاکرات کیے جا رہے تھے، ڈار عالمی مالیاتی فنڈ پرتنقید بھی کرتے رہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ نہیں بنایا جاتا تو ہو سکتا ہے کہ ان کی جماعت ان کو بطور نائب وزیر اعظم وفاقی کابینہ میں شامل کرے۔تاہم لیگخ سینیٹرعرفان صدیقی کے مطابق وزیر خزانہ کے عہدے کے لیے شاید اسحاق ڈار کو ہی منتخب کیا جائے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ کے لیے شمشاد اختر کا نام بھی زیر غور ہے، جو حالیہ نگران حکومت کے دور میں بھی اس منصب پر فائز رہیں اور پاکستان کے مرکزی بینک، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی گورنر بھی رہ چکی ہیں۔بطور نگران وزیر خزانہ وہ پاکستان کے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق اہم پالیسیوں کے حوالے سے کام کرتی رہی ہیں۔ یہاں یہ ذکر بھی اہم ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے نگران حکومت کی اقتصادی استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں کو سراہا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی حکومت محمد اورنگزیب کو بھی وزیر خزانہ بنا سکتی ہے، جو اس وقت ملک کے سب سے بڑے بینک، حبیب بینک لمیٹڈ کے صدر ہیں۔اس سے قبل یہ جے پی مورگن کے ایشیا میں قائم کارپوریٹ بینک کے چیف ایگزیکٹو آفسر بھی رہ چکے ہیں۔ان کے بطور وزیر خزانہ منتخب ہونے کے امکانات کے حوالے سے حبیب بینک نے کہا ہے کہ وہ "افواہوں اور قیاس آرائیوں” پر تبصرہ نہیں کرے گا۔

تاہم دوسری جانب یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ نئے وزیر خزانہ کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟ مبصرین کے مطابق پاکستان کے نئے وزیر خزانہ کو نہ صرف آئی ایم ایف سے ایک نئے پیکج کی منظوری کے لیے مذاکرات کرنے ہوں گے، بلکہ اس دوران انہیں ملک کی تباہ حال معیشت کی بحالی کے لیے بھی کام کرنا ہوگا کیونکہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین طے پانے والے حالیہ معاہدے کی مدت 11 اپریل کو ختم ہو جائے گی اور عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے ایک نئے پیکج کی منظوری ملک کے موجودہ اقتصادی حالات میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔اس کے علاوہ نئے وزیر خزانہ کے پاس نیا وفاقی بجٹ بنانے کے لیے بھی صرف تین ماہ کا وقت ہوگا، جس میں انہیں معیشت کی بحالی اور سخت اصلاحات متعارف کرانے پر توجہ دینی ہوگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت عوام میں بڑھتی مہنگائی کے حوالے سے بھی غم و غصہ ہے اور اس مسئلے سے نمٹنا نئے وزیر خزانہ کے لیے ایک اور چیلنج ہوگا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کو بطور وزیر خزانہ ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جس کے پاس وسیع اور گہرا بین الاقوامی تجربہ ہو تا کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کر پائے جن سے کئی اور ممالک کو اقتصادی بحران سے نکلنے میں مدد ملی ہے۔‘‘

Back to top button