اسٹیبلشمنٹ کی ’ناپسندیدہ‘ مریم نواز وزیر اعلی کیسے بنیں؟

باپ کے سامنے گرفتاری پیش کرنے والی مریم نواز نے اپنے والد کے سامنے ہی بطور پہلی خاتون وزیر اعلی پنجاب کے عہدے کا حلف اٹھا کر تاریخ رقم کر دی یے۔صرف دو برس قبل تک مریم نواز انتخابات میں حصہ لینے کی بھی اہل نہیں تھیں تاہم حالیہ انتخابات کے بعد پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز صوبہ پنجاب کی وزیراعلی منتخب ہو چکی ہیں۔
صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ ابتدا میں مریم نواز اپنی سیاسی جانشینی کے لیے نواز شریف کا پہلا انتخاب نہیں تھیں ’اور وہ پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی بھی پسندیدہ نہیں رہیں۔‘ایسے میں مریم نواز پاکستان کسی بھی صوبے کی پہلی خاتون وزیراعلٰی بننے میں کیسے کامیاب ہو گئیں۔ تجزیہ نگار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ مریم نواز کے سیاست میں کردار کے حوالے سے سابق وزیراٰعظم نواز شریف کے خیال میں تبدیلی کی بنیاد ان دنوں میں پڑی جب سنہ 1999 کے مارشل لا کے بعد شریف خاندان کو سعودی عرب کی طرف ملک بدر کیا گیا۔’یہ وہ دور تھا جب سعودی عرب میں نواز شریف اپنی اہلیہ کلثوم نواز اور اپنی بیٹی مریم نواز سے گھنٹوں سیاست پر بات چیت کیا کرتے۔‘ کلثوم نواز پہلے ہی سے نواز شریف کی سیاسی فیصلہ سازی پر اپنا اثر رکھتی تھیں۔ نواز شریف ان کی رائے کو اہمیت دیتے تھے۔
صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کہتے ہیں کہ مریم نواز نے پس پردہ عملی سیاست کا پہلا ذائقہ 1999 کے اسی دور میں لے لیا تھا۔ ’جب ان کے والد اور خاندان کے دیگر مردوں کو جیل میں ڈال دیا گیا تو ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھانے میں مریم نواز شانہ بشانہ رہیں۔‘اپنے کئی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’وہ خود سے سامنے نہیں آتی تھیں لیکن بعض مرتبہ وہ بیگم کلثوم نواز سے زیادہ متحرک ہوتی تھیں۔‘
سلمان غنی کہتے ہیں کہ مریم نواز کو یہ ’قدرے سیاسی‘ کردار حالات کی وجہ سے نبھانا پڑا تاہم جلا وطنی کے برسوں اور ملک بدری ختم ہونے پر پاکستان آنے کے بعد بھی مریم نواز نے عملی سیاست سے خود کو دور رکھا۔
یہ سنہ 2011 کے بعد کی بات ہے جب عمران خان اور ان کی جماعت نے جلسے جلوسوں کے ذریعے اور خاص طور پر سوشل میڈیا کے استعمال سے نوجوان نسل کو اپنی طرف مائل کرنا شروع کیا کہ ن لیگ نے پہلی مرتبہ تیزی سے بدلتے سیاسی منظرنامے پر توجہ دی۔ سنہ 2012 میں ن لیگ پاکستان تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے اثر کا مقابلہ کرنے کے لیے مریم نواز کو میدان میں لے کر آئی۔ انھوں نے ن لیگ کے میڈیا ونگ کو متحرک کیا اور سوشل میڈیا پر خاص توجہ مرکوز کی۔
تجزیہ نگار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ یہاں سے مریم نواز نے جماعت کے اندر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا بھی شروع کیا۔ ’نواز شریف نے بھی غالبا زیادہ سنجیدگی سے ان کی سیاسی سمجھ بوجھ کو بھانپنا شروع کیا۔‘سنہ 2013 میں جب نواز شریف کی مرکز میں حکومت قائم ہوئی مریم نواز کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کی چیئرپرسن مقرر کر دیا گیا تاہم وہ زیادہ عرصہ اس عہدے پر قائم نہ رہ سکیں اور اس وقت انھیں اس کو خیرباد کہنا پڑا جب پی ٹی آئی نے ان کی تعیناتی کو ’سفارش کلچر کا شاخسانہ‘ قرار دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔اس وقت تک بھی مریم نواز یہ اصرار کرتی رہیں کہ ’وہ صرف اپنے والد کی جماعت کے سائبر سیل کی اعانت کر رہی ہیں اور ان کا عملی سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں‘ تاہم جلد ہی انھیں یہ فیصلہ بدلنا پڑا۔
سنہ 2017 میں ایک مرتبہ پھر نواز شریف وزارتِ عظمٰی کھو بیٹھے۔ اس مرتبہ پانامہ مقدمے میں ان کو سپریم کورٹ سے سزا ہوئی اور وہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کا ایک مزاحمتی بیانیہ لے کر سڑکوں پر آ گئے جس میں انھوں نے اس وقت کی فوجی قیادت اور اعلٰی عدلیہ کو نشانے پر لیا۔تاہم اس کے بعد پانامہ سے متعلق مقدمات میں جب نواز شریف کو عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑے اور بعدازاں انھیں سزائیں ہوئیں تو ان کی جگہ مریم نواز نے عوام میں جا کر ان کے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کی ترجمانی شروع کی۔ یہ عملی سیاست میں ان کا پہلا قدم تھا۔
صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس وقت تک نواز شریف کے لیے ان کے جانشین کے امیدوار صرف حمزہ شہباز شریف تھے ’لیکن اس کے بعد حالات بدل گئے۔ مریم نواز اپنے والد کے ساتھ مزاحمتی بیانیے پر ڈٹ کر کھڑی ہوئیں۔‘
سہیل وڑائچ نے اپنے ایک حالیہ کالم کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یہ پہلے ہی لکھ چکے ہیں کہ اس دور میں نواز شریف کے بیانیے پر ڈٹ کر کھڑے رہنے، ان کا ساتھ دینے، ان کے ساتھ جیل کاٹنے اور پھر ان کی غیر موجودگی میں جماعت کو فعال رکھنے جیسے اعمال سے مریم نواز اپنے والد کے لیے جانشینی کے امیدوار کی جگہ لے چکی تھیں۔’یہی وہ جگہیں ہیں جہاں حمزہ شہباز مریم نواز سے پیچھے رہ گئے اور آج وہ نہیں بلکہ مریم نواز صوبہ پنجاب کی وزیراعلٰی ہیں۔‘سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے تک ن لیگ میں پارٹی کی آرگنائزیشن کی سطح پر حمزہ شہباز ہی معاملات کو سنبھال رہے تھے۔
صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کہتے ہیں کہ بیماری کے بعد لندن روانگی کے دوران نواز شریف مریم نواز ہی کو اپنا سیاسی جانشین بنانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ ’یہی وجہ تھی کہ نواز شریف کی غیر موجودگی میں مریم نواز کو پہلے سینیئر نائب صدر اور پھر پارٹی کا چیف آرگنائزر بنا دیا گیا۔‘
صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کہتے ہیں کہ مریم نواز ابتدا ہی سے قدرتی طور پر مزاحمتی اور جارحانہ انداز اپنانے کی طرف مائل تھیں۔ ’وہ باہمت خاتون ہیں جو مشکل اور جارحانہ فیصلے لینا جانتی ہیں۔‘تاہم سنہ 2022 میں جب ان کی جماعت سمیت حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں پر مشتمل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نامی تحریک نے عمران خان کی حکومت ختم کی اور شہباز شریف کی قیادت میں اپنی حکومت قائم کی تو مریم نواز کا ’اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے خلاف‘ مزاحمت کا بیانیہ سیاسی منظرنامے پر نظر نہیں آیا۔وہ خود بھی پس پردہ چلی گئیں۔ مہنگائی اور عوام درپیش دیگر مسائل کے دور میں پی ڈی ایم حکومت کے دوران انھوں نے کچھ پریس کانفرینسز ضرور کیں تاہم ان کا کردار زیادہ تر تجاویز دینے اور نواز شریف کی امیج بلڈنگ تک محدود نظر آیا۔
پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں ’مزاحمتی بیانیے پر خاموشی‘ اور پس پردہ جانے پر صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’یہ بھی دیکھیں کہ اس وقت نواز شریف خود بھی اپنے اس مزاحمتی بیانیے پر خاموشی اختیار کرتے نظر آ رہے تھے تو مریم نے بھی وہی لائن لی۔‘
مریم نواز نے حالیہ انتخابات میں قومی اور صوبائی دونوں اسمبلیوں کے لیے ایک ایک نشست پر لاہور سے حصہ لیا اور دونوں پر کامیاب ہو گئیں۔ مرکز اور پنجاب میں سامنے آنے والی پارٹی پوزیشن کے بعد لیگی قیادت نے انھیں صوبہ پنجاب کی حکومت میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ن لیگ نے جلد ہی پارٹی کی طرف سے ان کے وزارتِ اعلٰی کے امیدوار ہونے کا اعلان کر دیا جب انھیں یہ یقین ہو گیا کہ وہ پنجاب میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آ رہے ہیں اور باآسانی حکومت بنا لیں گے۔
تاہم انتخابات کے وقت تک یہ کہنا مشکل تھا کہ وہ پنجاب کی وزارتِ اعلٰی لے پائیں گی۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اس میں ایک پہلو یہ بھی تھا کہ ’مریم نواز ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کی پسندیدہ نہیں رہیں تھیں۔‘تو حالیہ انتخابات سے قبل عمومی تاثر یہ تھا کہ ایسے کسی شخص کا کسی بڑے عہدے پر آنا مشکل ہو گا تاہم صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ ’اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نواز شریف کو کمپنسیٹ کیا گیا کیونکہ انھیں وزارت عظمٰی نہیں دی گئی۔‘تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ وزارت اعلٰی پر مریم نواز کو توجہ سے دیکھے گی۔ ’حزبِ اختلاف کو نشانہ بھی وہی ہوں گی کیونکہ وہ ان ہی کو نواز شریف کے مستقبل کے جانشین کے طور پر دیکھیں گے کسی اور کو نہیں۔‘وہ کہتے ہیں کہ مریم نواز کو ایوان کے اندر اور باہر دونوں مقامات پر حزبِ اختلاف کی طرف سے جارحانہ رویے کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور یہی ان کی صلاحیتوں کا ٹیسٹ ہو گا کہ وہ ان معاملات کو کیسے سنبھالتی ہیں۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’اب تک مریم نواز پارٹ ٹائم سیاست دان تھیں، وہ وہی کرتی تھیں جس کی ان کو نواز شریف سے ہدایات ملتی تھیں۔ ان کی فل ٹائم سیاست کا اب آغاز ہونے جا رہا ہے۔‘
