انسانی سمگلنگ کے دھندے میں 7 پاکستانی خواتین ملوث نکلیں

ایف آئی اے کی جانب سے مربوط کارروائیوں کے دعوؤں کے باوجود پاکستان سے انسانی سمگلنگ کا مکروہ دھندا زوروشور سے جاری ہے جبکہ پاکستان میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین انسانی سمگلرز کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے نے انسانی سمگلنگ میں ملوث 143 سمگلرز کی فہرست پر مبنی ’ریڈ بُک‘ جاری کر دی ہے۔ ریڈ بک میں سات خواتین انسانی سمگلرز بھی شامل ہیں جن کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں درجنوں مقدمات درج ہیں۔فہرست میں انسانی سمگلنگ میں ملوث میاں بیوی بھی شامل ہیں جن کے خلاف 216 مقدمات قائم ہیں۔ ایف آئی اے کی جاری کردہ فہرست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں سات خواتین بھی شامل ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سمگلنگ کا یہ مکروہ دھندہ محض کسی ایک جنس تک محدود نہیں رہا بلکہ خواتین بھی اس دھندے کا حصہ بن چکی ہیں۔
ایف آئی اے کی فہرست میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ریڈ بک 2025 میں کل 143 ملزمان کے نام شامل ہیں۔ ریڈ بک میں سب سے زیادہ مقدمات لاہور زون سے تعلق رکھنے والے اسیم محمود ملک اور ان کی اہلیہ زوبیہ رباب ملک کے خلاف درج ہیں۔ دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی ویزے اور دستاویزات فراہم کر کے شہریوں کو یورپ کے مختلف ممالک بھیجنے کے نام پر خطیر رقوم وصول کیں۔ ایف آئی اے کے مطابق ان کے خلاف 216 مقدمات درج ہیں جو اس فہرست میں کسی بھی ملزم کے خلاف سب سے زیادہ ہیں۔ یہ دونوں اس وقت بیرون ملک روپوش بتائے جاتے ہیں اور انٹرپول کے ریڈ نوٹس کے ذریعے ان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔
ریڈ بک میں شامل خواتین سمگلرز کی بات کی جائے تو ان میں لاہور زون سے تعلق رکھنے والی زوبیہ رباب ملک سر فہرست ہیں۔ جو 216مقدمات میں نامزد ہیں جبکہ وہ اس وقت برطانیہ میں روپوش ہیں۔ جن کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ فہرست میں موجود خاتون انسانی سمگلر انعم حسیب کے خلاف 2016 اور 2019 میں سات مقدمات درج ہوئے۔ یہ مقدمات جعلی ویزوں اور بیرون ملک بھیجنے کے بہانے شہریوں کو لوٹنے سے متعلق ہیں۔ ایف آئی اے کے ریکارڈ کے مطابق انعم حسیب نے کئی متاثرین سے لاکھوں روپے وصول کیے لیکن کسی کو قانونی طریقے سے باہر نہ بھیج سکیں۔ وہ لاہور کے علاقے سمن آباد کی رہائشی ہیں اور تاحال روپوش ہیں۔
اسی طرح فریال خالد عباسی کے خلاف 2017 اور 2018 میں درج مقدمات موجود ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ اسلام آباد اور لاہور سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو یورپ بھیجنے کے لیے جعلی دستاویزات فراہم کرتی رہیں۔ ان کے خلاف کم از کم پانچ مقدمات درج ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق فریال خلد ایک منظم گروہ کا حصہ ہیں جو اسلام آباد میں سرگرم رہا ہے تاہم آج کل روپوش ہے۔
ایف آئی اے کی ریڈ بک میں شامل نادیہ نایاب شیخ کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں جن میں 2015 اور 2017 کے نمایاں کیسز شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ بیرون ملک نوکریاں دلانے کے بہانے شہریوں سے بھاری رقوم لیتی رہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق ان مقدمات میں متاثرین کی تعداد درجنوں میں ہے اور ان کے خلاف کل چھ مقدمات درج ہیں۔
اسی طرح ریڈ بک میں شامل نسرین انجم کے خلاف کم از کم چار مقدمات درج ہیں جن میں 2016 اور 2018 کے کیسز شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ خلیجی ممالک بھیجنے کے لیے جعلی ایجنسی کے ذریعے رقوم بٹورتی رہی ہیں۔
اسلام آباد زون کی رفعت ماہا کے خلاف ایف آئی اے نے 2019 اور 2020 میں مقدمات درج کیے۔ ان مقدمات میں ان پر دستاویزات میں جعل سازی اور شہریوں کو غیر قانونی طور پر یورپ بھیجنے کے الزامات لگے۔ ان کے خلاف کل پانچ مقدمات موجود ہیں اور ایف آئی اے نے انہیں خطرناک سمگلرز کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
راولپنڈی زون کی ناہید کوثر کا تعلق ٹیکسلا سے ہے۔ ان کے خلاف 2015 سے 2019 کے درمیان کم از کم چھ مقدمات درج ہوئے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ویزہ اور نوکری دلانے کے وعدوں پر شہریوں سے لاکھوں روپے بٹورتی رہیں اور کسی کو قانونی طریقے سے بیرون ملک نہ بھیج سکیں۔ ایف آئی اے کے مطابق ان کے متاثرین زیادہ تر پنجاب کے شمالی اضلاع سے تھے۔
ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق انسانی سمگلنگ میں ملوث خواتین زیادہ تر اپنے شوہروں یا قریبی رشتہ داروں کے ساتھ مل کر اس دھندے میں شامل ہوتی ہیں۔ کئی کیسز میں یہ بات سامنے آئی کہ شوہر یا بھائی پہلے سے انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک میں سرگرم تھے اور خواتین ان کے ساتھ مل کر شہریوں کو قائل کرنے یا مالی معاملات سنبھالنے کا کردار ادا کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سمگلر خواتین کے خلاف درج زیادہ تر مقدمات دھوکہ دہی، جعلی کاغذات اور غیر قانونی ویزہ فراہمی جیسے جرائم پر مبنی ہیں۔
متاثرہ شہریوں کے مطابق عموما خواتین کو عام طور پر زیادہ قابلِ اعتماد اور کم خطرناک سمجھا جاتا ہے اس لئے خواتین ایجنٹس بھروسہ جیتنے میں کامیاب رہتی تھیں تاہم اسی اعتماد کو ان سمگلرز نے چالاکی سے اپنے دھندے کا بنیادی ہتھیار بنا لیا۔ متاثرین کے مطابق یہ خواتین ایجنٹس بڑے سہانے خواب دکھاتیں، بیرونِ ملک روزگار، بہتر مستقبل اور خوشحال زندگی کے جھانسے دیتیں اور پھر اسی امید کو زنجیر بنا کر لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا لیتی ہیں۔ حقیقت میں یہ دھوکہ دہی صرف مالی نقصان تک محدود نہیں رہتی بلکہ کئی معصوم شہری اپنی زندگیاں اور عزتیں بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسانی سمگلنگ اب محض ایک مجرمانہ کاروبار نہیں رہا بلکہ ایک نفسیاتی کھیل بن چکا ہے، خواتین کی شمولیت نے اس جرم کو مزید خطرناک اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
