75 روپے کے یادگاری نوٹ پر مارخور کی تصاویر کیوں ہیں؟

پاکستان کی آزادی کے 75 برس مکمل ہونے پر سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والے 75 روپے کے یادگاری نوٹ پر مارخور کی تصویر سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے کیونکہ مارخور آئی ایس آئی کے لوگو میں بھی موجود ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے یوم آزادی پر جاری کیے گئے یادگاری نوٹ پر بھی اس ادارے کا لوگو لگا دیا گیا ہے جس نے ملک اور قوم کو پچھلے 75 برس سے یرغمال اور غلام بنا رکھا ہے۔ 75 روپے کا یہ اعزازی نوٹ کمرشل بینکوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے، اس سے ہر کوئی خرید و فروخت کر سکتا ہے، سبز رنگ کے نوٹ کے ایک طرف بانیِ پاکستان محمد علی جناح، علامہ اقبال، فاطمہ جناح اور سر سید احمد خان کی تصاویر موجود ہیں تو دوسری جانب مارخور اور دیودار کے درخت موجود ہیں۔
اس نوٹ کی رونمائی ہوتے ہی سوشل میڈیا پر تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں ایک طرف تو ستائش کی گئی تو دوسری طرف اس کی مالیت، اس کے ڈیزائن، اور تصاویر خاص کر مارخور کی تصویر پر تنقید کی بھرمار ہے، مزاحیہ انداز میں کیے جانے والے تبصروں کے علاوہ کچھ سوالات بھی پوچھے جا رہے ہیں۔ یادگاری نوٹ پر اہم شخصیات کے علاوہ مارخور کی تصاویر کے بارے میں تنقید کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان نے تحریری طور پر وضاحت کی ہے کہ اہم دنوں پر سکّے اور ڈاک ٹکٹ جاری ہوتے ہیں لیکن ایسا کم ہوتا ہے کہ سٹیٹ بینک کوئی یادگاری بینک نوٹ جاری کرے۔ یہ اب تک جاری ہونے والا دوسرا بینک نوٹ ہے، اس سے قبل، سٹیٹ بینک نے پاکستان کی آزادی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر 1997میں پہلا ایسا نوٹ جاری کیا۔اپنے تحریری موقف میں سٹیٹ بینک نے کہا ’نوٹ بنیادی طور پر سبز ہے، اسے پُر کشش بنانے کے لیے اس میں سفید شیڈز اور کسی قدر زرد رنگ کی آمیزش کی گئی ہے۔ سبز رنگ ترقی اور نمو کو ظاہر کرتا ہے اور ملک کی اسلامی شناخت کی علامت ہے، جبکہ سفید رنگ آبادی کے مذہبی تنوع پر زور دیتا ہے، نوٹ پر جس طرف مارخور کی تصویر ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ نوٹ کی پشت پر مارخور اور دیودار کے درخت موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہمارے قومی عزم کو اُجاگر کرتی ہیں۔
مارخور اور دیودار دونوں ان موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ماحولیاتی انحطاط کا مقابلہ کرنے اور اسے روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اس یادگاری نوٹ کے سلسلے میں جاری کردہ سرکلر کے مطابق سر سید احمد خان نے آزادی کی بنیاد علی گڑھ تحریک کے ذریعے رکھی اور انہیں دو قومی نظریے کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ فاطمہ جناح کی تصویر کے بارے میں سٹیٹ بینک کہتا ہے کہ انھوں نے اپنے بھائی محمد علی جناح کی تحریک پاکستان میں بھرپور مدد کی اور اس کے ساتھ ان کی اس نوٹ پر تصویر کی صورت میں موجودگی تحریک پاکستان میں خواتین کے کردار کی بھی عکاسی کرتی ہے، دوسری جانب نوٹ کے ڈیزائن کے بارے میں سٹیٹ بینک کہتا ہے کہ مارخور اور دیودار والی سائیڈ آرٹسٹ سارہ خان کی جانب فراہم کردہ ایک ڈیزائن پر تیار کیا گیا ہے۔
اس نوٹ کے ڈیزائن اور کلر سکیم پر مرکزی بینک کی داخلی نوٹ کمیٹی نے کام کیا اور اس کی باقاعدہ منظوری وفاقی حکومت نے دی، پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی یوم آزادی پر سٹیٹ بینک کی جانب سے 75 روپے کے یادگاری نوٹ کی رونمائی تو کر دی گئی تاہم یہ نوٹ 30 ستمبر 2022 کو جاری کیا جائے گا اور سٹیٹ بینک کے کاؤنٹر پر دستیاب ہوگا۔
یادگاری نوٹ ایک باقاعدہ قانونی نوٹ ہے اور اس کی 75 روپے کی مالیت کا ضامن سٹیٹ بینک آف پاکستان ہوتا ہے، سٹیٹ بینک کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق اگرچہ یادگاری نوٹ کو لین دین کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم عموماً ایسا نہیں ہوتا کیونکہ لوگ یادگاری نوٹ اور اس کے اپنے پاس یادگار کے طور پر جمع کر لیتے ہیں۔اسی طرح دکانداروں کو بھی یادگاری نوٹ کے بارے میں زیادہ آگاہی نہیں ہوتی اس لیے وہ بھی اس کو لینے سے کتراتے ہیں تاہم یہ باقاعدہ ایک نوٹ ہوتا ہے اور اسے لین دین میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
