گلگت کی سیر کو جانے والے 75000 سیاح محصور کیوں ہو گئے؟

موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران سیاحوں کی بڑی تعداد شمالی علاقہ جات کے پہاڑی علاقوں کا رخ کرتی ہے، اس مرتبہ بھی سیاح بڑی تعداد میں ان علاقوں میں موجود ہیں لیکن وہ مختلف مقامات پر احتجاج اور دھرنوں کے باعث سڑکیں بند ہونے کے سبب ہوٹلوں اور گیسٹ ہائوسزمیں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ گلگت اور ہنزہ میں گزشتہ کئی دنوں سے عوامی احتجاج جاری ہے اور دو مختلف ایشوز پر احتجاج کرنے والے سینکڑوں مظاہرین نے اہم شاہراہوں کو دھرنے دے کر بند کیا ہوا ہے۔
دوسری جانب ضلع انتظامیہ گلگت کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان آنے والے سیاح اور مسافر پہلے راستے کی معلومات حاصل کر کے سفر کریں اور گلگت کنٹرول روم کے ذریعے مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ ہوٹل ایسوسی ایشن آف گلگت بلتستان کے جنرل سیکریٹری کوثر حسین کے مطابق اس وقت ساٹھ سے ستر ہزار پاکستانی اور لگ بھگ پانچ ہزار کے قریب غیر ملکی سیاح گلگت بلتستان کے مختلف شہروں میں موجود ہیں، اس صورتحال کے باعث سب ہی لوگ پریشان ہیں۔
گلگت بلتستان میں اس وقت دو مقامات گلگت اور ہنزہ کے قریب احتجاج ہو رہا ہے، گلگت میں مقامی ’اسیران کمیٹی‘ کے زیر انتظام احتجاج جاری ہے جہاں مظاہرین کی جانب سے 2005 میں ہونے والے ہنگاموں میں 25 سال قید کی سزا پانے والے مجرموں کی رہائی کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ دوسرا احتجاج ہنزہ کے قریب کیا جا رہا ہے جس میں ناصرہ آباد کے مقامی لوگ ماربل نکالنے کا ٹھیکہ مبینہ طور پر گلگت بلتستان کی غیر مقامی کمپنیوں کو دینے پر احتجاج کر رہے ہیں، گلگت بلتستان اسمبلی کی مذاکرات کے لیے بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کے ممبر امجد حسین ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اس وقت گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر حالات اتنے اچھے نہیں ہیں کیونکہ گلگت شہر مکمل طور پر بند ہے۔
گلگت میں اسیران کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر امجد علی چنگیزی نے بتایا کہ ’ہم لوگوں نے تنگ آ کر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ معاملہ فقط سزا پانے والے 13 افراد کا نہیں بلکہ 13 خاندانوں کا ہے جن میں سے ایک شخص رحمت علی ہارٹ اٹیک سے ہلاک ہو چکا ہے۔ چنگیزی کے مطابق اس وقت کئی قیدیوں کی صورتحال تشویشناک ہے جبکہ ایک ستر سال سے زائد عمر کا قیدی گلگت ہسپتال میں زیر علاج ہے، سرکاری مذاکراتی کمیٹی کے رکن امجد حسین ایڈووکیٹ کے مطابق مظاہرین کے مطالبات پہلے دن ہی سے تسلیم کر لیے تھے اور مذاکراتی کمیٹی نے تمام اعلیٰ حلقوں سے بات کی تھی، جس میں قانون اور قاعدے کے مطابق آگے چلنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
حمزہ کے بجلی پر ریلیف کیخلاف پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کو خط
گلگت بلتستان میں دوسرا احتجاج ہنزہ کے علاقے ناصرہ آباد میں ہو رہا ہے۔ احتجاج کی قیادت کرنے والے ناصر علی کے مطابق یہ احتجاج ناصرہ آباد اور گلگت بلتستان میں قدرتی معدنیات کے ٹھیکے غیر قانونی طور پر غیر مقامی لوگوں کو دینے پر کیا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ مظاہرین سے مذاکرات کے ذریعے سے احتجاج ختم کروایا جائے، گلگت سے صحافی وجاہت علی کے مطابق شاہراہ قراقرم سات مقامات سے دھرنوں اور احتجاج کے سبب بند ہے، جس کی وجہ سے گلگت، نگر اور ہنزہ میں سیاح اور مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔
ہوٹل ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے جنرل سیکریٹری کوثر حسین کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں یہ چار، پانچ ماہ ہی سیاحت کا عروج ہوتا ہے جس دوران سیاح بڑی تعداد میں اس علاقے کا رُخ کرتے ہیں، ہم سیاحوں کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں کچھ متبادل راستوں سے ان کا آنا جانا ممکن بنانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس میں زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاحت کو صنعت کا درجہ دینا ہے تو پھر مقامی مسائل پر بھی توجہ دینا ہو گی، لوگوں کے مسائل حل کرنا ہوں گے، لوگوں کو اتنا مجبور نہیں کرنا چاہئے کہ وہ انتہائی اقدامات پر اُتر جائیں جس سے براہ راست معیشت کو نقصان پہنچے۔
