کم عمری کی شادی ثابت ہونے پر قانون خاموش کیوں ہے؟

گھر سے بھاگ کر لاہور کے ایک نوجوان سے شادی رچانے والی کراچی کی دعا زہرہ کی میڈیکل رپورٹ میں عمر 14 سے 15 سال ثابت ہو جانے کے بعد اسکے والد نے اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے ایک بار پھر عدالت سے رجوع کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس کی شادی غیر قانونی ہے اور اسے اغوا کرنے والے ظہیر احمد کے خلاف چائلڈ میرج کرنے کے الزام پر کارروائی کی جائے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادی پر ہمارا قانون خاموش ہے۔
سندھ ہائی کورٹ میں مہدی علی کاظمی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں دعا زہرہ کے مبینہ شوہر ظہیر احمد کے علاوہ محکمہ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ ،ایس ایچ او تھانہ الفلاح و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ دعا زہرہ کو ظہیر احمد نے اغوا کیا اور پنجاب لے جا کر چائلڈ میرج کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دعا زہرا کی عمر سے متعلق نادرا دستاویزات، تعلیمی اسناد، پاسپورٹ اور برتھ سرٹیفکیٹ موجود ہے اور جب اغوا کا واقعہ ہوا اس وقت دعا کی عمر 13 سال 11 ماہ اور 19 دن تھی۔
مہدی کاظمی کا کہنا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے جب دعا کو اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ بھی جانے کی اجازت دی تو اس کی بنیاد سنگل میڈیکل بورڈ کی رپورٹ تھی جس میں اسکی عمر 17 برس کے قریب بتائی گئی تھی، تاہم نئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق دعا زہرا کی عمر 15 سال سے کم ثابت ہو چکی ہے۔ درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب میرج ایکٹ 2016
زرداری نے ایک منجھے ہوئے کپتان کو کیسے کلین بولڈ کیا؟
کے مطابق دعا اور ظہیر کی شادی غیر قانونی ہے اور عدالت دعا زہرا کو بازیاب کروانے کا حکم دے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دعا کو ظہیر احمد کی ’غیر قانونی حراست‘ سے بازیاب کروا کر والدین کے حوالے کیا جائے اور اگر مغویہ کے ساتھ اگر جنسی زیادتی ثابت ہوتی ہے تو ملزم ظہیر کے خلاف کارروائی کی جائے۔دعا کے والد نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ دعا زہرا کو ملک سے باہر جانے سے بھی روکا جائے۔ اس سے قبل 4 جولائی کو دعا زہرہ کی میڈیکل رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں جمع کروائی گئی تھی جس کے مطابق ان کی عمر 15 اور 16 سال کے درمیان اور 15 سال کے قریب ہے۔ دعا کے والد مہدی کاظمی کے وکیل جبران ناصر نے عدالت میں جمع کروائی گئی میڈیکل رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیکل بورڈ نے دعا کے والدین کے مؤقف کی تصدیق کی ہے اور گذشتہ میڈیکل رپورٹ کو مسترد کیا ہے جس میں دعا زہرہ کی عمر 17 سال بتائی گئی تھی۔
دعا زہرہ کے والد کا موقف ہے کہ قانون کے مطابق اگر لڑکی کی عمر 16 سے کم ہو تو اس کیس میں اغوا، چائلڈ میرج اور جنسی تشدد جیسے جرائم شامل ہوتے ہیں۔ لیکن دعا کے مطابق اس نے اپنی مرضی سے شادی کی اور اس کی عمر 18 سال ہے، لیکن اب لڑکی کے دانتوں اور ہڈیوں کے معائنے کے بعد اس کا موقف غلط ثابت ہوگیا ہے۔
لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ کہ پاکستان میں چائلڈ میرج کے خلاف قانون موجود ہے، پنجاب کے قانون کے مطابق شادی کے لیے لڑکا اور لڑکی کی عمریں 16 سال ہونا ضروری ہیں جبکہ سندھ کے قانون کے مطابق یہ عمر 18 سال مقرر ہے، سندھ چائلڈ ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 کے مطابق کسی کم عمر لڑکی سے شادی کرنے والے یا کروانے والے والدین یا نکاح خواں کو تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
لیکن دعا اور اس کے شوہر کا موقف ہے کہ اس معاملے میں شرعی قانون بھی لاگو ہوتا ہے جس کے مطابق جب لڑکا اور لڑکی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کا نکاح کیا جا سکتا ہے، دعا کی شادی کی قانونی حیثیت پر بات کرتے ہوئے انسانی حقوق کے کارکن ممتاز گوہر نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ شادی نہیں بلکہ ’’چائلڈ ابیوز‘‘ ہے۔ میڈیکل ٹیم کو ابہام پیدا نہیں کرنا چاہیے اور واضح کرنا چاہیے تھا کہ دعا کی عمر 15 سال یا 16 سال ہے۔ تاہم اگر اسکی عمر 15 سال کے قریب ہے تو یہ شادی ختم ہونی چاہئے، دوسری طرف وکیل امتیاز احمد سومرو کی رائے ہے کہ اس وقت تک دعا زہرہ کی شادی قانونی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ ’بالغ لڑکی اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہے اور اس میں کوئی قدغن نہیں۔
ان کے مطابق پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں لڑکی کے لیے شادی کی کم سے کم عمر 16 سال ہے اور صرف سندھ میں 18 سال ہے، اسلامی نظریاتی کونسل شادی کے لیے بلوغت کی عمر پر زور دیتی ہے جبکہ ہمارا قانون کہتا ہے کہ لڑکی کی عمر 16 یا 18 سال ہونی چاہیے، اور یہی مسئلے کی وجہ ہے۔ ادھر عاصمہ جہانگیر فائونڈیشن سے منسلک ایڈووکیٹ ندا علی کا کہنا ہے کہ قانون یہ تو کہتا ہے کہ 16 یا 18 سال کی عمر کی بچی کی شادی نہیں ہو سکتی اور اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے یا کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو جرمانے کے ساتھ چھ ماہ کی قید ہوگی، اس کے علاوہ اس نکاح کو روکا جائے گا۔ تاہم وہ بتاتی ہیں کہ ان قوانین میں کچھ خامیاں بھی موجود ہیں، اور اس سے آگے قانون خاموش ہے، قانون یہ نہیں بتاتا کہ اگر کم عمری کا نکاح ہو چکا ہو تو پھر کیا کرنا ہے اور کیا اس نکاح کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
