9/11 مقدمہ:خالد شیخ کے اعترافی بیانات بطور ثبوت ناقابلِ قبول قرار

امریکا کی ایک فوجی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ 9/11 حملوں کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد نے ایف بی آئی کے ایجنٹوں کے سامنے جن جرائم کا اعتراف کیا تھا، وہ بطور ثبوت قابلِ قبول نہیں اور مقدمے میں ان کے خلاف استعمال نہیں کیے جا سکتے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ فیصلہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کو 25 برس مکمل ہونے سے چند روز قبل سامنے آیا ہے۔
نائن الیون حملوں میں نیویارک، واشنگٹن اور پنسلوینیا میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق خالد شیخ محمد اور حملوں کی سازش میں مبینہ طور پر شریک 3 دیگر ملزمان کے مقدمے کی سماعت کے لیے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ مقدمے کی سماعت کیوبا کے گوانتاناموبے میں قائم امریکی بحری اڈے پر ہوگی۔
خالد شیخ محمد کو ’کے ایس ایم‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انہیں مارچ 2003 میں پاکستان سے گرفتاری سے قبل القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے اہم ترین ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق استغاثہ پہلے ہی خالد شیخ محمد کے ان بیانات کو مقدمے سے خارج کر چکا ہے جو انہوں نے گرفتاری کے بعد دیے تھے۔ اس دوران انہیں سی آئی اے کی بیرون ملک قائم جیلوں میں رکھا گیا اور واٹر بورڈنگ سمیت شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں 2006 میں انہیں گوانتاناموبے منتقل کردیا گیا۔
مقدمے کی سماعت کرنے والے جج لیفٹیننٹ کرنل مائیکل شراما نے قرار دیا کہ 2007 میں گوانتاناموبے میں خالد شیخ محمد سے کی جانے والی بعد کی پوچھ گچھ کے دوران حاصل کیے گئے بیانات بھی بطور ثبوت قابلِ قبول نہیں ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ خالد شیخ محمد نے ایف بی آئی کو اپنی آزاد مرضی سے بیانات دیے تھے۔
یہ فیصلہ فوری طور پر منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق فیصلے کا غیر خفیہ حصہ دیکھنے والے متعدد وکلا نے اس کے مندرجات کی تصدیق کی ہے۔
امریکی فوجی عدالت کے ترجمان نے اے ایف پی کی جانب سے تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ’سی آئی اے کی جانب سے نفسیاتی طور پر قابو میں رکھنے اور شدید دباؤ ڈالنے کی کارروائیوں کے بلا تعطل جاری رہنے‘ کا حوالہ بھی دیا۔ جج نے قرار دیا کہ ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے جان بوجھ کر خالد شیخ محمد کو یہ نہیں بتایا کہ انہیں خاموش رہنے اور وکیل سے مشورہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
استغاثہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتا ہے۔
خالد شیخ محمد کے مقدمے کی سماعت کئی مرتبہ ملتوی ہوچکی ہے۔ گزشتہ سال ایک اقبالی معاہدہ بھی واپس لے لیا گیا تھا، جس کے تحت سزائے موت کا امکان ختم ہوجاتا۔ 9/11 حملوں میں ہلاک ہونے والے بعض افراد کے لواحقین نے اس معاہدے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
9/11 کے ملزمان کے مقدمات میں زیادہ تر قانونی بحث اسی سوال کے گرد گھومتی رہی ہے کہ آیا سی آئی اے کی حراست میں تشدد کا نشانہ بننے کے بعد ان ملزمان کے خلاف منصفانہ مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
