جمائما میدان میں آگئیں، عمران خان کے بیٹوں اور زلفی بخاری کو ساتھ ملا لیا

پاکستان کی سیاست میں مذاکرات اور مزاحمت ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان بات چیت کا سلسلہ موجود ہے، تو دوسری طرف بیرونِ ملک پی ٹی آئی سے وابستہ شخصیات کی سرگرمیوں نے سیاسی دباؤ میں اضافے کا امکان پیدا کردیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا معاملہ پہلے ہی سیاسی تناؤ کا شکار ہے، مگر اب بیرونِ ملک سے اٹھنے والی آوازوں نے اس کشمکش کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی ہارڈ لائن کا انیشیٹو اب پاکستان سے باہر منتقل ہوگیا ہے اور جمائما گولڈ اسمتھ نے اس کا چارج سنبھال لیا ہے۔ ان کے مطابق اپنے بیٹوں کو آگے لانے، ذلفی بخاری کو ساتھ ملانے اور عالمی سطح پر سفارتی رابطے بڑھانے کی کوششوں سے حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب عمران خان کی صحت سے متعلق بین الاقوامی سطح پر ہونے والی بحث، سی این این کو حکومت پاکستان کی وضاحت، اسکائی اسپورٹس کی معذرت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے ردعمل نے بھی معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ محسن نقوی مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا پی ٹی آئی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے جواب میں سخت مؤقف اپناتے ہیں؟ نجم سیٹھی کے مطابق اگلے چند دن اس سیاسی منظرنامے کی سمت واضح کرسکتے ہیں۔
سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے نجی ٹی وی پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق بین الاقوامی سطح پر ہونے والی نشریات کے معاملے پر حکومت پاکستان نے سی این این کو تفصیلی وضاحت بھیجی ہے، جسے اینکر بیکی اینڈرسن نے اپنی ویب سائٹ اور سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر شیئر کیا۔نجم سیٹھی کے مطابق اگرچہ بیکی اینڈرسن کی اپنی فالوئنگ ہے اور ان کی جانب سے کیا جانے والا پیغام اپنی جگہ اہم ہوسکتا ہے، لیکن اصل اہمیت اس بین الاقوامی نشریات کی ہے جسے دنیا بھر میں لوگوں نے دیکھا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے انٹرویو کا سیاسی مقصد حاصل کرنے میں پی ٹی آئی کامیاب رہی۔ ان کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی اس معاملے پر متعلقہ نشریاتی ادارے سے رابطہ کیا، جبکہ اسکائی اسپورٹس کی جانب سے معذرت بھی سامنے آچکی ہے۔
نجم سیٹھی کا خیال تھا کہ اب پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوشش یہی ہوگی کہ معاملے کو مزید آگے نہ بڑھایا جائے اور جو کچھ ہوچکا ہے اسے ختم سمجھا جائے۔ ان کے مطابق جن لوگوں نے اس معاملے میں حصہ لیا، ان کی جانب سے معذرت سامنے آچکی ہے۔
عمران خان کی صحت کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات نے پاکستان کی داخلی سیاست کو ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے سی این این کو وضاحت بھیجے جانے کا مقصد بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر اپنا مؤقف واضح کیا جائے۔نجم سیٹھی کے مطابق اس معاملے میں پی ٹی آئی کو اپنے سیاسی مقصد کے حوالے سے کامیابی حاصل ہوئی، کیونکہ عمران خان سے متعلق گفتگو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہوگئی۔
تاہم نجم سیٹھی کے تجزیے کا سب سے اہم حصہ پی ٹی آئی کی بیرونِ ملک سرگرمیوں سے متعلق تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک پی ٹی آئی سے وابستہ افراد کی جانب سے ہونے والی سرگرمیاں پاکستان میں جاری مذاکرات پر براہِ راست اثر انداز نہیں ہوسکتیں، کیونکہ پاکستان میں مذاکراتی عمل بیرسٹر گوہر کی قیادت میں جاری ہے۔تاہم ان کے مطابق پی ٹی آئی کی سخت گیر حکمتِ عملی کا ایک نیا پہلو پاکستان سے باہر منتقل ہوگیا ہے۔ نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا کہ جمائما گولڈ اسمتھ نے اس محاذ کا چارج سنبھال لیا ہے اور عمران خان کے بیٹوں کو بھی اس سرگرمی میں آگے لایا گیا ہے، جبکہ ذلفی بخاری بھی اس عمل کا حصہ ہیں۔ان کے مطابق بیرونِ ملک سے عالمی سطح پر سفارتی رابطے بڑھانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں اور اگر یہ سرگرمیاں منظم انداز میں آگے بڑھتی ہیں تو حکومت پاکستان پر سیاسی اور سفارتی دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہاں سب سے اہم سوال وزیر داخلہ محسن نقوی کے آئندہ لائحہ عمل کا ہے۔نجم سیٹھی کے مطابق محسن نقوی کے سامنے بنیادی طور پر دو راستے ہوسکتے ہیں۔ ایک راستہ یہ کہ وہ سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے بیرونِ ملک دباؤ کو مسترد کردیں اور واضح کردیں کہ پاکستان میں جاری مذاکرات کو اس قسم کی سرگرمیوں سے متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔دوسرا راستہ مذاکرات اور مفاہمت کا ہے، جس کے ذریعے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور کسی قابلِ قبول راستے کی تلاش کی جاسکتی ہے۔نجم سیٹھی نے محسن نقوی کے سیاسی مزاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ضرورت پڑنے پر لڑائی کے لیے بھی تیار ہوجاتے ہیں اور مذاکرات کے لیے بھی۔ تاہم اس وقت اصل سوال یہ ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ان کے مطابق حکومت ایک طرف پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کے ذریعے کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہو اور دوسری طرف بیرونِ ملک سے حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے تو محسن نقوی کا ردعمل سخت بھی ہوسکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات آگے بڑھتے ہیں یا بیرونِ ملک سے بڑھنے والا سیاسی دباؤ اس عمل کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔نجم سیٹھی کے مطابق اگلے چند دنوں میں واضح ہوجائے گا کہ محسن نقوی کس حکمت عملی کا انتخاب کرتے ہیں۔اگر حکومت مذاکرات کا راستہ برقرار رکھتی ہے تو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی کوششیں آگے بڑھ سکتی ہیں، لیکن اگر سخت مؤقف اختیار کیا گیا تو حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔یوں عمران خان کی صحت سے شروع ہونے والا تنازع اب محض ایک میڈیا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پاکستان کی سیاست، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات اور بیرونِ ملک جاری سیاسی سرگرمیوں تک پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔
