سانحہ پمزکے اصل ذمہ دارانجام کو کب پہنچیں گے؟

پمز سانحے کے بعد حکومت نے کارروائی تو شروع کر دی، مگر اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آٹھ افسران کی معطلی کیا واقعی احتساب کی پہلی سیڑھی ہے یا چند دن بعد یہ معاملہ بھی فائلوں میں دب جائے گا؟ مبصرین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی نے سرکاری اداروں میں ایک واضح پیغام ضرور دیا ہے کہ غفلت اور نااہلی کو اب نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معطلیاں مقدمات اور حتمی سزاؤں تک پہنچیں گی؟ کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو پمز کا سانحہ پاکستان کے سرکاری اداروں میں جوابدہی کے ایک نئے دور کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے، اور اگر معطلیاں محض وقتی اقدام ثابت ہوئیں تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ سرکاری افسران کے خلاف کارروائی صرف عوامی دباؤ کم کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔اصل فیصلہ اب عدالتوں، محکمانہ کارروائی اور سروسز ٹربیونلز کے مرحلے پر ہوگا، جہاں معطل افسران اپنے خلاف کارروائی کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ یعنی اصل جنگ معطلی کے حکم سے نہیں، اس حکم کو انجام تک پہنچانے سے شروع ہوگی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پمز میں پیش آنے والے سانحے کے بعد حکومت کی جانب سے اعلیٰ سطح پر کارروائی نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا پاکستان کے سرکاری اداروں میں غفلت، نااہلی اور انتظامی ناکامی پر واقعی ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں حتمی سزا تک پہنچایا جاسکے گا؟
وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر سمیت آٹھ افسران کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ بظاہر یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت نے پمز سانحے کو محض ایک انتظامی واقعہ سمجھنے کے بجائے اسے جوابدہی کے لیے ایک مثالی مقدمہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق اس کارروائی کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ احتساب کا آغاز نچلی سطح سے نہیں بلکہ ادارے کی اعلیٰ انتظامیہ سے کیا گیا ہے۔ اگر یہ معطلیاں محکمانہ تحقیقات، مقدمات اور بالآخر حتمی سزاؤں میں تبدیل ہوجاتی ہیں تو اس کا اثر صرف پمز تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک بھر کے سرکاری اداروں کے سربراہان تک ایک واضح پیغام پہنچے گا کہ اختیار کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ سرکاری اداروں میں اکثر کسی ناکامی کے بعد ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ فائلیں حرکت کرتی ہیں، تحقیقات کے اعلانات ہوتے ہیں، کچھ افسران کو عارضی طور پر عہدوں سے ہٹایا جاتا ہے اور کچھ عرصے بعد معاملہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔پمز کے معاملے میں اگر ایسا ہی ہوا تو موجودہ کارروائی اپنی معنویت کھو دے گی۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے افسران معطل ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ میں جن ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے، کیا ان کے مطابق حتمی کارروائی بھی ہوگی؟اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ اقدام سرکاری افسران کے لیے ایک حقیقی خطرے کی گھنٹی ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر معطلی کے بعد معاملہ اپیلوں، عدالتی کارروائیوں اور طویل محکمانہ مراحل میں الجھ کر ختم ہوگیا تو یہ تاثر پیدا ہوگا کہ حکومت نے وقتی دباؤ سے نکلنے کے لیے کارروائی کی تھی۔
پمز کی صورتحال کے حوالے سے پہلے ہی متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرائی گئی تھی۔ اس کے باوجود اگر انتظامی اور حفاظتی معاملات میں مؤثر بہتری نہ لائی جاسکی تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟رپورٹ نے مبینہ طور پر ادارے کے انتظامی نظام میں موجود خامیوں اور انسانی ہمدردی کے فقدان کی نشاندہی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اوپر کی سطح پر کارروائی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔یہ معاملہ صرف پمز تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
ملک کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی تربیت، انخلا کے طریقہ کار اور حفاظتی نظام کو دوبارہ جانچنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ہسپتال وہ جگہیں ہیں جہاں مریض پہلے ہی جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور حالت میں ہوتے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں معمولی انتظامی غفلت بھی بڑے انسانی سانحے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
حکومت کے موجودہ اقدام کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ معطلی کو حتمی احتساب تک کیسے پہنچایا جاتا ہے۔معطلی بذاتِ خود سزا نہیں بلکہ ایک انتظامی اقدام ہے۔ اس کے بعد محکمانہ تحقیقات، قانونی کارروائی اور متعلقہ فورمز پر اپیلوں کے مراحل آتے ہیں۔ متاثرہ افسران کو اپنے دفاع کا قانونی حق بھی حاصل ہوگا۔یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں حکومت کی سنجیدگی کا اصل امتحان ہوگا۔اگر ذمہ داری ثابت ہونے کے بعد حتمی سزائیں بھی دی جاتی ہیں تو پمز کا سانحہ پاکستان کے سرکاری اداروں میں جوابدہی اور انتظامی ذمہ داری کے نئے معیار کی بنیاد بن سکتا ہے۔لیکن اگر افسران طویل قانونی اور محکمانہ کارروائی کے بعد دوبارہ اپنے عہدوں پر واپس آگئے تو سوال اٹھے گا کہ فوری معطلی کا مقصد کیا تھا؟
ماہرین کے مطابق سرکاری اداروں میں احتساب کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے سروسز ٹربیونلز کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے۔اگر کسی افسر کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو اسے قانونی حق حاصل ہے کہ وہ متعلقہ فورم سے رجوع کرے۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے مقدمات برسوں تک زیرِ التوا نہ رہیں اور فیصلہ بروقت ہو۔حقیقی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب ایک طرف افسران کے قانونی حقوق محفوظ ہوں اور دوسری طرف ثابت شدہ نااہلی یا غفلت پر کارروائی بھی منطقی انجام تک پہنچے۔
پمز کا سانحہ اگر صرف چند افسران کی معطلی تک محدود رہا تو یہ ایک اور انتظامی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔ لیکن اگر اس کے نتیجے میں سرکاری ہسپتالوں کے حفاظتی نظام، ہنگامی تربیت، انتظامی نگرانی اور جوابدہی کے طریقہ کار میں مستقل اصلاحات کی جاتی ہیں تو یہی سانحہ ایک بڑے ادارہ جاتی سبق میں تبدیل ہوسکتا ہے۔اب حکومت کے سامنے اصل چیلنج یہی ہے کہ معطلی کو سزا، سزا کو مثال اور مثال کو نظام کی اصلاح میں تبدیل کیا جائے۔کیونکہ عوام اب صرف یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ کون معطل ہوا؟عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کون ذمہ دار ثابت ہوا، کس کو سزا ملی اور آئندہ ایسا سانحہ روکنے کے لیے کیا بدلا؟اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب پمز سانحے کے بعد حکومت کی حقیقی سنجیدگی کا تعین کرے گا۔
