مریم نواز نے چچا کی بنائی گئی ڈولفن فورس ختم کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چچا شہباز شریف کی بنائی گئی ڈولفن فورس کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد پنجاب میں جرائم خصوصاً سٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لیے ایک دہائی قبل انتہائی جدید انداز میں قائم کی جانے والی ڈولفن فورس ایک بار پھر سوالات کی زد میں ہے۔ بھاری بھرکم موٹر سائیکلوں، جدید آلات، خصوصی وردیوں اور سخت تربیت کے ساتھ شروع ہونے والی اس فورس کو کبھی پنجاب پولیس کا جدید اور عالمی معیار کا چہرہ قرار دیا جاتا تھا، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ وسائل کی کمی، پرانی موٹر سائیکلوں اور ایندھن کے مسائل نے اس کے آپریشنل نظام کو شدید متاثر کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ڈولفن فورس کی نفری اور وسائل مقامی تھانوں کے حوالے کرنے کے فیصلے کے بعد یہ تاثر زور پکڑ گیا کہ شاید پنجاب حکومت اس فورس کو ختم کرنے جارہی ہے، تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فورس ختم نہیں کی جارہی بلکہ عارضی طور پر اس کی نفری تھانوں کے ساتھ کام کرے گی۔

پنجاب حکومت نے حال ہی میں ڈولفن فورس کے اہلکاروں اور دستیاب وسائل کو مقامی تھانوں کے سپرد کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ فورس کو درپیش مالی اور انتظامی مشکلات بتائی جارہی ہیں۔ ڈولفن فورس کے لیے استعمال ہونے والی 500 سی سی کی بھاری موٹر سائیکلوں کی دیکھ بھال پر اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوا، جبکہ ان کے اسپیئر پارٹس کی دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ بن گئی۔ نتیجتاً فورس کے لیے اپنے روایتی انداز میں سڑکوں پر گشت اور فوری کارروائی جاری رکھنا مشکل ہوگیا۔

ایس پی ڈولفن فورس بلال احمد کے مطابق یہ تاثر درست نہیں کہ ڈولفن فورس کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض انتظامی مسائل کے باعث وقتی طور پر فورس کو پرانے طریقہ کار کے مطابق چلانا مشکل ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ کچھ عرصے کے لیے ڈولفن فورس کی نفری تھانوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور اس طرح مقامی پولیس کی افرادی قوت میں بھی اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق ڈولفن فورس کا ڈھانچہ اور شناخت برقرار ہے اور اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا۔

فورس کو سب سے بڑا مسئلہ ان 500 سی سی کی ہیوی موٹر سائیکلوں کا درپیش ہے جنہیں ڈولفن فورس کی بنیادی شناخت اور آپریشنل طاقت سمجھا جاتا تھا۔ حکام کے مطابق فورس کے پاس تقریباً 600 بھاری موٹر سائیکلیں تھیں، جن میں سے بیشتر اپنی طبعی عمر پوری کرچکی ہیں اور کئی موٹر سائیکلیں تقریباً چار لاکھ کلومیٹر تک چل چکی ہیں۔ مسلسل استعمال، مہنگی مرمت اور اسپیئر پارٹس کی عدم دستیابی کے باعث ان موٹر سائیکلوں کی بڑی تعداد اب مؤثر انداز میں استعمال کے قابل نہیں رہی۔

صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب سرکاری سطح پر ایندھن کی کھپت کم کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ حکام کے مطابق ڈولفن فورس کی موٹر سائیکلیں ہائی آکٹین پر چلتی ہیں، جبکہ سرکاری گاڑیوں کے لیے ہائی آکٹین کے استعمال پر پابندی کے باعث جو موٹر سائیکلیں کسی حد تک چلنے کے قابل بھی تھیں، وہ ایندھن کی دستیابی نہ ہونے کے باعث سڑکوں سے ہٹ گئیں۔ چونکہ ڈولفن فورس کا بنیادی تصور ہی تیز رفتار موٹر سائیکل گشت اور فوری رسپانس پر مبنی تھا، اس لیے موٹر سائیکلوں کے بغیر اس فورس کی وہ خصوصی حیثیت تقریباً ختم ہوجاتی ہے جو اسے عام پولیس نفری سے ممتاز کرتی تھی۔

ڈولفن فورس کا قیام اپریل 2016 میں پنجاب میں اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے اور جدید طرز کی شہری پولیسنگ متعارف کرانے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس کا افتتاح اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں کیا تھا۔ اس فورس کا تصور ترکیہ کے شہر استنبول کی پولیس کے مشہور موٹر سائیکل پٹرولنگ یونٹ ’’یونس پلس‘‘ سے لیا گیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ گنجان آبادیوں، تنگ سڑکوں اور شدید ٹریفک والے علاقوں میں پولیس روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پہنچ سکے اور شہریوں کو فوری تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

ڈولفن فورس کے قیام کا بنیادی مقصد ڈکیتی، موبائل چھیننے، گاڑیوں کی چوری اور دیگر اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال موصول ہونے کے بعد اہلکار پانچ سے دس منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچیں، جبکہ مخصوص وردی، جدید مواصلاتی نظام، جی پی ایس، باڈی کیمروں اور بھاری موٹر سائیکلوں کے ذریعے شہری علاقوں میں مسلسل گشت کیا جائے۔ اس تصور نے ابتدائی برسوں میں پنجاب پولیس کے روایتی طریقہ کار سے ایک مختلف اور جدید ماڈل پیش کیا۔

فورس کے قیام کے ابتدائی منصوبے کے لیے تقریباً 39 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، لیکن جدید 500 سی سی ہونڈا موٹر سائیکلوں، باڈی کیمروں، جی پی ایس لوکیٹرز اور دیگر جدید آلات کی خریداری کے باعث اس کا ابتدائی بجٹ ایک ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔ فورس کے اہلکاروں کو خصوصی تربیت بھی دی گئی۔ مارچ 2015 میں 25 پولیس افسران کو ترکیہ بھیجا گیا جہاں استنبول پولیس کے ماہرین نے انہیں موٹر سائیکل حکمت عملی اور جدید شہری پولیسنگ کی تربیت دی۔ بعد ازاں انہی ماسٹر ٹرینرز نے پاکستان میں 1200 سے زائد اہلکاروں کو تربیت فراہم کی۔

لاہور میں اس ماڈل کو متعارف کرانے کے بعد ڈولفن فورس کا دائرہ کار 2017 اور 2018 میں راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور بہاولپور سمیت دیگر بڑے شہروں تک بڑھایا گیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز قائم کرکے ایک ایسا آزاد اور جدید اسٹریٹ پولیسنگ نظام تشکیل دیا جائے جو شہری علاقوں میں جرائم کے خلاف فوری کارروائی کرسکے۔

لیکن تقریباً دس سال بعد یہی فورس وسائل کے بحران سے دوچار ہے۔ بعض مقامات پر موٹر سائیکلوں کی عدم دستیابی کے باعث ڈولفن اہلکاروں کو پیدل ناکوں پر کھڑا کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس نے فورس کے بنیادی تصور ہی پر سوال اٹھا دیا۔ اگر ایک ایسی فورس جسے تیز رفتار موٹر سائیکل گشت اور فوری رسپانس کے لیے بنایا گیا تھا، اسے پیدل ڈیوٹی انجام دینا پڑے تو اس کی افادیت اور مقصد دونوں متاثر ہونا فطری ہے۔

تاہم پولیس حکام ابھی اس فورس کے مستقبل سے مایوس نہیں۔ ایس پی بلال احمد کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کو ایک تفصیلی تجویز بھیجی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر حکومت کے پاس بھاری موٹر سائیکلوں کے لیے مطلوبہ بجٹ دستیاب نہیں تو عام موٹر سائیکلوں کے ذریعے بھی ڈولفن فورس کو دوبارہ فعال کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے کام کیا جاچکا ہے اور امید ہے کہ حکومت کی جانب سے تجویز منظور ہونے اور نئی موٹر سائیکلوں کی فراہمی کے بعد فورس دوبارہ اسی انداز میں سڑکوں پر فعال ہوجائے گی۔

یوں موجودہ صورتحال کو ڈولفن فورس کا خاتمہ کہنا شاید قبل از وقت ہوگا۔ فی الحال معاملہ زیادہ تر وسائل، بجٹ، موٹر سائیکلوں اور ایندھن کی دستیابی کا دکھائی دیتا ہے۔ حکومت اگر نئی موٹر سائیکلوں کے لیے بجٹ فراہم کردیتی ہے اور فورس کو اس کے اصل مقصد یعنی فوری شہری پولیسنگ کے لیے دوبارہ منظم کردیا جاتا ہے تو ڈولفن فورس ایک مرتبہ پھر فعال ہوسکتی ہے۔ تاہم اگر یہ عارضی انتظام مستقل شکل اختیار کرگیا اور ڈولفن اہلکار عام تھانوں کی نفری میں ضم ہوگئے تو پھر یہ ضرور کہا جاسکے گا کہ پنجاب میں ایک دہائی قبل جدید پولیسنگ کے نام پر قائم کیا جانے والا ایک اہم تجربہ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اصل سوال یہی ہے کہ کیا حکومت اربوں روپے کے اخراجات سے قائم کی گئی اس فورس کو ختم کرے گی یا اسے نئے وسائل اور نئے ماڈل کے ساتھ دوبارہ فعال کرے گی؟ کیونکہ ڈولفن فورس صرف چند موٹر سائیکلوں اور وردیوں کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے پولیسنگ ماڈل کا تصور تھا جس کا مقصد شہریوں کو فوری تحفظ اور جدید طرز کی پولیس سروس فراہم کرنا تھا۔ اب فیصلہ حکومت کو کرنا ہے کہ اس ماڈل کو نئے تقاضوں کے مطابق زندہ رکھا جائے یا اسے روایتی تھانہ کلچر کا حصہ بنا دیا جائے۔

Back to top button