پنجاب کے سرکاری سکول فوجی نگرانی میں دینے کا فیصلہ

پنجاب حکومت نے صوبے کے تعلیمی نظام میں نگرانی اور جدید تعلیم کے حوالے سے بیک وقت دو اہم اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک طرف سرکاری اور متعلقہ تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کے لیے فوجی اہلکاروں کو بھرتی کیا جائے گا، جبکہ دوسری جانب سرکاری سکولوں میں مصنوعی ذہانت کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق پنجاب کے تعلیمی نظام میں حکومت نے بیک وقت دو بڑے فیصلے کیے ہیں جو صوبے کے تعلیمی ڈھانچے پر دور رس اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ ایک طرف صوبے کے 22 اضلاع میں تعلیمی اداروں کی نگرانی کے لیے فوجی اہلکاروں کو مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن افسران کے طور پر ایک سالہ معاہدے پر بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کو لازمی مضمون بنانے کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔ ایک فیصلے کا مقصد تعلیمی اداروں میں نگرانی، نظم و ضبط اور جوابدہی بہتر بنانا ہے، جبکہ دوسرے کا ہدف نئی نسل کو مستقبل کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ تاہم اس صورتحال نے ایک بنیادی سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ اگر اسکولوں کی نگرانی بہتر بنانے کے لیے فوجی اہلکاروں کی خدمات لینا پڑ رہی ہیں تو کیا یہ موجودہ تعلیمی انتظامی نظام کی کمزوری کی نشاندہی نہیں کرتا؟
پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں کی نگرانی کے لیے صوبے کے 22 اضلاع میں فوجی ملازمین کو مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن افسران کے طور پر ایک سالہ معاہدے پر بھرتی کرنے کی منظوری دی ہے۔ ان افسران کو ماہانہ 60 ہزار روپے تنخواہ دی جائے گی جبکہ محکمہ تعلیم کے قواعد کے مطابق دیگر سہولیات اور مراعات بھی فراہم کی جائیں گی۔ فیلڈ مانیٹرنگ کے لیے سرکاری موٹر سائیکل بھی دی جائے گی۔ یہ بھرتیاں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت کی جائیں گی اور اہلکاروں، جی سی اوز اور این سی اوز سے 7 ستمبر تک درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ امیدواروں کے لیے عمر کی حد 30 سے 55 سال، کم از کم تعلیمی قابلیت گریجویشن اور پنجاب کا ڈومیسائل لازمی قرار دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 28 افسران بھرتی ہوں گے جن میں 21 فوجی اور 7 سویلین افسران شامل ہوں گے۔
تعلیمی اداروں کی نگرانی بنیادی طور پر محکمہ تعلیم کی انتظامی ذمہ داری ہے، اس لیے اس عمل میں فوجی اہلکاروں کو شامل کرنے کا فیصلہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر فوجی پس منظر رکھنے والے اہلکار نظم و ضبط، فیلڈ مانیٹرنگ اور انتظامی نگرانی کے ذریعے اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس اقدام کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں، تاہم یہ بھی ضروری ہوگا کہ مانیٹرنگ کا عمل صرف اساتذہ کی حاضری یا سرکاری ریکارڈ کی جانچ تک محدود نہ رہے بلکہ تدریس کے معیار، طلبہ کی حاضری، بنیادی سہولتوں، صفائی، نظم و ضبط اور تعلیمی نتائج کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے۔ اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب مانیٹرنگ افسران صرف خامیوں کی نشاندہی کرنے کے بجائے ان کے مستقل حل کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کریں۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے محکمہ تعلیم میں روزانہ اجرت کی بنیاد پر کام کرنے والے تقریباً ڈیڑھ لاکھ انٹرنز کے ختم ہونے والے معاہدوں میں مزید 9 ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سرکاری اسکولوں میں تدریسی عملے کی دستیابی ایک اہم مسئلہ ہے۔ انٹرنز کی موجودگی سے اگر اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کسی حد تک پوری ہورہی ہے تو معاہدوں میں توسیع سے تعلیمی عمل کا تسلسل برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم طویل مدت کے لیے مستقل، تربیت یافتہ اور باقاعدہ تدریسی عملے کا مؤثر نظام بھی ضروری ہوگا۔
پنجاب حکومت کا دوسرا بڑا فیصلہ صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کا ہے۔ موجودہ دور میں دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کی طرف بڑھ رہی ہے اور تعلیم، صنعت، تجارت، تحقیق اور روزگار سمیت زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں اس ٹیکنالوجی کا کردار بڑھتا جارہا ہے۔ ایسے میں اگر پنجاب کے طلبہ کو اسکول کی سطح سے ہی مصنوعی ذہانت کی بنیادی سمجھ فراہم کی جاتی ہے تو یہ انہیں مستقبل کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ چیلنجز کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
تاہم مصنوعی ذہانت کو لازمی مضمون قرار دینا صرف نصاب میں ایک نیا مضمون شامل کرنے کا نام نہیں۔ اس فیصلے کی کامیابی کے لیے اسکولوں میں جدید کمپیوٹر لیبارٹریز، مناسب انٹرنیٹ سہولت، بجلی، جدید آلات اور سب سے بڑھ کر ایسے تربیت یافتہ اساتذہ کی ضرورت ہوگی جو خود مصنوعی ذہانت کے بنیادی تصورات سے واقف ہوں۔ حکومت نے مجوزہ منصوبے کے تحت اسکولوں کی کمپیوٹر لیبارٹریز کو جدید بنانے اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو مصنوعی ذہانت کی تعلیم دینے کے قابل بنانے کے لیے تربیت فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اگر یہ تمام اقدامات عملی طور پر مکمل کیے جاتے ہیں تو یہ منصوبہ پنجاب کے تعلیمی نظام میں ایک اہم تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔
پنجاب حکومت کے یہ دونوں فیصلے بظاہر دو مختلف سمتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک طرف حکومت تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط، نگرانی اور جوابدہی کا نظام مضبوط بنانے کی کوشش کررہی ہے، جبکہ دوسری طرف طلبہ کو مستقبل کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ اگر فوجی اہلکاروں کی مانیٹرنگ حقیقی انتظامی بہتری کا باعث بنتی ہے، انٹرنز کی توسیع سے تدریسی خلا پُر ہوتا ہے اور مصنوعی ذہانت کے منصوبے کے لیے مطلوبہ بنیادی سہولیات اور اساتذہ کی تربیت یقینی بنائی جاتی ہے تو یہ اقدامات پنجاب کے تعلیمی نظام میں نمایاں بہتری لاسکتے ہیں۔
لیکن اصل امتحان اعلانات کا نہیں بلکہ عمل درآمد کا ہوگا۔ اگر مانیٹرنگ کا نظام محض حاضری اور کاغذی کارروائی تک محدود رہا، جدید کمپیوٹر لیبارٹریز فراہم نہ کی گئیں، اساتذہ کی مناسب تربیت نہ ہوئی اور مصنوعی ذہانت کا مضمون صرف نصابی کتابوں تک محدود ہوگیا تو یہ منصوبہ بھی ماضی کے کئی تعلیمی منصوبوں کی طرح مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے گا۔ پنجاب کے تعلیمی نظام کو حقیقی معنوں میں بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ نگرانی کے ساتھ ساتھ تدریس کے معیار، اساتذہ کی تربیت، طلبہ کی کارکردگی اور بنیادی سہولیات پر بھی یکساں توجہ دی جائے۔
یوں پنجاب حکومت کے سامنے ایک بڑا موقع موجود ہے۔ اگر تعلیمی اداروں کی نگرانی، اساتذہ کی دستیابی اور جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم کے ان اقدامات کو مربوط حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو صوبے کے سرکاری اسکولوں میں نہ صرف نظم و ضبط اور جوابدہی بہتر ہوسکتی ہے بلکہ طلبہ کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے اس دور کے لیے بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر یہ فیصلے صرف اعلانات، عارضی بھرتیوں اور کاغذی منصوبوں تک محدود رہے تو مطلوبہ تبدیلی شاید ایک بار پھر خواب ہی بن کر رہ جائے گی۔
