90 روزمیں الیکشن کا فوری انعقاد ممکن کیوں نہیں؟

وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کی جانب سے پنجاب اسمبلی تحلیل کیے جانے کے بعد 90 روز کی آئینی مدت کے دوران نئے انتخابات کا انعقاد تکنیکی طور پر نا ممکن نظر آتا ہے، چنانچہ وقت سے پہلے الیکشن کروانے کا عمران خان کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ فوری الیکشن کے انعقاد میں عمران خان کے دور حکومت میں کیا جانے والا ایک فیصلہ ہی سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آرہا ہے جس کے تحت قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ڈیجیٹل مردم شماری کے مکمل ہونے کے بعد ہی منعقد ہوں گے۔ یہ فیصلہ عمران خان نے وزیراعظم کی حیثیت سے، مشترکہ مفادات کی کونسل میں کیا تھا اور اب اسی کے تحت پنجاب اسمبلی کے الیکشن موخر کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل رائے شماری کا عمل مارچ یا اپریل میں مکمل ہونا ہے جس کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیاں ہوں گی جس کے لیے مزید چند مہینے درکار ہوں گے۔چنانچہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیوں کے انتخابات بھی باقی دو صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے انتخابات کے ساتھ ہی وفاقی حکومت کی آئینی معیاد پوری ہونے پر منعقد ہوں۔

پی ٹی آئی قبل از وقت الیکشن کروانے کی تاریخ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں توڑ کر وفاقی حکومت کو وقت سے پہلے الیکشن کرانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ عمران خان کا خیال ہے کہ جب صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن وقت سے پہلے ہوں گے تو ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی فتح اور عوامی مقبولیت کا ٹیمپو برقرار رہنے سے اسے دوبارہ اکثریت مل جائے گی۔ ان کو یقین ہے کہ اس حکمتِ عملی سے وہ مرکز میں آسانی سے حکومت بنانے کیلئے بہتر نتائج حاصل کرلیں گے۔ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے اتحادی جماعت مسلم لیگ ق  عمران کی ضد اور خواہش کے سامنے ڈھیر ہوگئی اور’’بخوشی‘‘ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کی ایڈوائس گورنر کو بھیج دی۔ آئین کے تحت نوے روز کے اندر الیکشن ہونا ہیں، مگر نئے الیکشن کیلئے مردم شماری کا عمل یکم فروری سے چار مارچ تک مکمل ہونا ہے۔ اس مردم شماری کے نتیجے میں اسمبلیوں اور انتخابی حلقہ بندیوں کے معاملات طے ہونے ہیں جس میں کم از کم بھی ایک دو مہینے مزید لگ سکتے ہیں۔ جبک 23 یا 24 مارچ سے رمضان المبارک شروع ہورہا ہے۔ اگرچہ رمضان میں انتخابی عمل پر آئین میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، لیکن ماضی میں رمضان کے دوران عام انتخابات کی روایت نہیں ہے۔ یوں پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز کے اندر نئی مردم شماری اور حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا لہٰذا فوری الیکشن کا امکان بھی نظر نہیں آتا۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی مردم شماری کی بنیاد پر الیکشن کروانا ضروری نہیں اور یہ عمل پرانی مردم شماری کی بنیاد پر بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی کے الیکشن پرانی مردم شماری اور قومی اسمبلی کے الیکشن نئی مردم شماری کی بنیاد پر نہیں کروائے جاسکتے۔ آئینی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دو آئینی پابندیاں عملدرآمد کی متقاضی ہوں گی تو پھر یہ معاملہ عدالت میں ہی حل ہوگا۔ حکومت یا انتظامیہ اسے حل نہیں کر سکتی۔

صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل سے متعلق سابق وفاقی سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور دلشاد نے بتایا کہ ’’اگر صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہوتی ہیں تو نوے روز کے اندر اندر الیکشن کرانا، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ کوئی بھی صوبائی اسمبلی اگر وقت سے پہلے تحلیل ہوجائے تو پھر ضمنی الیکشن نہیں ہوں گے، بلکہ اگلے پانچ برس کے لیے الیکشن ہوں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن مردم شماری اور حلقہ بندیوں کا عمل مکمل نہ ہونے کی بنیاد پر الیکشن میں تاخیر کرے گا تو اپوزیشن یہ معاملہ عدالت میں لے جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے 2023 کے عام انتخابات کے لئے حکومت سے 47 ارب روپے کا بجٹ مانگا تھا جس میں سے 18ارب روپے انتخابات کی تیاریوں کےلئے مل چکے ہیں، جس سے بیلٹ پیپر کا خصوصی سیکورٹی فیچرز کا حامل کاغذ باہر سے منگوایا جائے گا۔ لہذا اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کے الیکشن 90 روز کے اندر منعقد ہو پاتے ہیں یانہیں؟

Back to top button