قرارداد مقاصد اور مولانا شبیر احمد عثمانی

تحریر : وجاہت مسعود ۔۔۔۔ بشکریہ روزنامہ جنگ

مطالبہ پاکستان کے محرکات اور مقاصد کے بارے میں قائداعظم محمد علی جناح کے ارشادات کا بیان ابھی ختم نہیں ہوا۔ تاہم کچھ دستوری نکات وضاحت طلب ہیں۔ علم سیاسیات کا معمولی طالب علم بھی جانتا ہے کہ ایک سیکولر حکومت جمہوری بھی ہو سکتی ہے اور غیر جمہوری بھی۔ تاہم ایک جمہوری حکومت کیلئے سیکولر بندوبست لازم ہے۔ سیکولرازم کے دو بنیادی مفروضات ہیں۔ (1) سیکولرازم میں پیشوائیت اور سیاست میں علیحدگی کا اصول 1648 کے معاہدہ ویسٹ فیلیا میں طے پا گیا تھا۔ ( 2) سیکولر ریاست میں قانون سازی اور بندوبست ریاست عوام کی رائے سے طے پاتے ہیں۔ قانون سازی اور اس کے متعلقہ ضابطے ریاست کے ہم عصر معاشی، معاشرتی، ثقافتی اور علمی تقاضے مدنظر رکھتے ہوئے مدون کیے جاتے ہیں۔ قائداعظم ایک بلند پایہ قانون دان تھے اور اپنا مقدمہ لڑنے کی غیر معمولی قابلیت رکھتے تھے۔ انہوں نے جمہوریت کا نصب العین کبھی ترک نہیں کیا تاہم جہاں کہیں انہوں نے مسلم قومیت یا اسلامی مملکت کا ذکر کیا، ہمیشہ اسلام کے بنیادی اخلاقی اصولوں مثلاً سماجی انصاف، مساوات اور معاشی مواقع کا حوالہ دیا۔ قائداعظم کو مسلمانوں کا اتحاد درکار تھا۔ مذہبی عالم نہ ہوتے ہوئے بھی انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ اس سے زیادہ تفصیل میں جانا مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے فروعی تنازعات میں الجھنے کے مترادف تھا۔ نیز یہ کہ ایک قومی ریاست میں مذہبی پیشوائوں کی بالادستی قابل عمل ہی نہیں تھی۔ راجہ صاحب محمود آباد قائداعظم کے قریبی رفیق اور مسلم لیگ کے خزانچی تھے۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ 13 اگست 1947ء کو راجہ صاحب موصوف کوئٹہ سے ہوائی جہاز کے ذریعے ایران کے شہر زاہدان چلے گئے تھے تاکہ بھارت میں انکی جائیداد کو اس بنا پر متروکہ املاک میں شمار نہ کیا جائے کہ وہ قیام پاکستان کے وقت ہجرت کر چکے تھے۔ مشہد میں مدفون راجہ صاحب محمود آباد کی معاشی ژرف نگاہی اپنی جگہ، تاہم انہوں نے خود اپنے ایک مضمون بعنوان ’کچھ یادیں‘ میں لکھا:’’میری طرف سے اسلامی ریاست کی حمایت پر جناح صاحب کیساتھ میرے اختلافات پیدا ہو گئے۔ جناح صاحب میرے خیالات سے قطعاً اتفاق نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے مسلم لیگ کے اجتماعات میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے منع کر دیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہو سکتا تھا کہ جناح صاحب میرے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہیں اور میں انکے ایما ہی پر عوامی اجتماعات میں ایسی آرا پیش کرتا ہوں۔ مجھے اپنی رائے کی اصابت پر پورا یقین تھا لیکن میں جناح صاحب کو بھی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ چنانچہ میں نے ان سے فاصلہ پیدا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اگلے دو برس کے دوران ہماری ملاقاتیں مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس یا رسمی مواقع تک محدود رہیں۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ ماضی میں ہمارے نہایت قریبی تعلقات رہے تھے۔ اب میں مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں کس قدر غلطی پر تھا۔‘ (مشیر الحسن کی مرتب کردہ کتاب India’s Partition, Process, Strategy and Mobilisation ۔ صفحہ 425 )

راجہ صاحب محمود آباد کے اسلامی ریاست کے بارے میں آخر ایسے کیا خیالات تھے جن پر قائد اعظم محمدعلی جناح اس قدر برافروختہ ہوئے۔ راجہ صاحب محمود آباد نے 1939ء میں ممتاز مورخ محب الحسن کے نام ایک مکتوب میں لکھا تھا۔ ’جب ہم اسلام میں جمہوریت کا ذکر کرتے ہیں تو اس کا مطلب طرز حکومت میں جمہوریت نہیں ہوتا بلکہ زندگی کے سماجی اور ثقافتی پہلوئوں میں جمہوریت مراد ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام میں ہمہ گیر اور یک جماعتی (Totalitarian) ریاست کا تصور پایا جاتا ہے۔ ہمیں قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ ہم قرآنی قوانین کی آمریت چاہتے ہیں۔ اور ہم یہ مقصد حاصل کر کے رہیں گے نیز یہ کہ ہم اس منزل تک عدم تشدد اور گاندھی کے طریقہ کار کی مدد سے نہیں پہنچیں گے‘۔ قیام پاکستان کے بعد یک جماعتی مذہبی آمریت کے حامی راجہ صاحب محمود آباد کا فکری تلون مختار مسعود کی کتاب ’آواز دوست‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔ ’مسلم لیگ نے پاکستان نہیں بنایا۔ مسلم لیگ کہاں اتنی منظم تھی کہ اتنا بڑا کارنامہ انجام دے سکتی۔ اس ملک کی تعمیر کے عوامل کچھ اور ہی تھے۔ ہندوئوں کا زور اور ظلم، دفاتر کے مسلم عملے کی طلبِ جاہ و مرتبہ اور مسلم تاجر کی حرص و ہوا۔‘ مسلم لیگ کے رجعت پسند رہنما نواب بہادر یار جنگ حیدرآباد سے تعلق رکھتے تھے۔ 26 دسمبر 1943ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ کراچی سے بہادر یار جنگ کا خطاب مسلم لیگی سیاست میں بڑھتی ہوئی مذہبیت کی واضح نشاندہی کرتا تھا۔ یاد رہے کہ جنرل ضیا الحق نے 12اگست 1983ء کو اپنی خود ساختہ مجلس شوریٰ سے خطاب کرتے ہوئے بہادر یار جنگ کی اس تقریر کے اقتباسات لہک لہک کر سنائے تھے۔ بہادر یار جنگ نے کہا کہ ’پلاننگ کمیٹی آپ کیلئے جو دستوری اور سیاسی نظام مرتب کرے گی اس کی بنیادیں کتاب اللّٰہ اور سنت رسول اللّٰہ پر استوار ہوں گی۔ سن لیجیے اور آگاہ ہو جائیے کہ جس سیاست کی بنیاد کتاب اللّٰہ اور سنت رسول اللّٰہ پر نہیں ہے وہ شیطانی سیاست ہے اور ہم ایسی سیاست سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ ہمارے پنڈال سے وہ لوگ اٹھ جائیں جو خدا کے انکار پر اپنے معاشی نظام کی بنیاد رکھتے ہیں۔ قرآن کے واضح اور اٹل احکامات میں تحریف و اضافہ کر کے مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں اور جو روٹی، کپڑے کے بدلے مسلمان کا ضمیر اور ایمان خریدنا چاہتے ہیں۔‘ اس کے بعد نواب بہادر یار جنگ قائداعظم سے مخاطب ہوئے۔’قائداعظم، میں نے پاکستان کو اسی طرح سمجھا ہے اور اگر آپ کا پاکستان یہ نہیں ہے تو ہم ایسا پاکستان نہیں چاہتے۔‘ قائداعظم نے مسکراتے ہوئے کہا، ’آپ مجھے قبل از وقت کیوں چیلنج دے رہے ہیں؟‘ غور فرمائیے، قائد اعظم نے ایک اچھے وکیل کی طرح دوٹوک جواب دینے کی بجائے اس قضیے ہی کو ’قبل از وقت‘ قرار دے دیا۔ بہادر یار جنگ ہی کے ایک ہم وطن سید ابو الاعلیٰ مودودی کا تعلق اورنگ آباد سے تھا۔ مطالبہ پاکستان پر ان کا مؤقف اور پھر مقاصد پاکستان کے بارے میں ان کے مؤثر بہ ماضی خیالات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہیں۔ ان پر بشرط زندگی آئندہ نشست میں بات ہو گی۔

Back to top button