ایران کی اولمپکس میڈل جیتنے والی خاتون نے ملک کوخیرآباد کہہ دیا

اولمپکس کھیلوں میں میڈل جیتنے والی ایران کی واحد خاتون ایتھلیٹ نے ناقابل یقین حالات کی وجہ سے ملک چھوڑ دیا۔ کیمیا علی زادے نامی خاتون ایتھلیٹ اولمپکس کھیلوں میں ملک کے لیے ایوارڈ جیتنے والی ایران کی اب تک کی پہلی اور واحد خاتون ہیں۔
انہوں نے 2016 میں برازیل کے شہر ریوڈی جنیرو میں منعقد اولمپکس میں ٹائی کوانڈو کراٹوں میں میڈل جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔ کیمیا علی زادے نے ریو اولمپکس میں اگرچہ کانسی کا تمغہ جیتا تھا تاہم وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی ایرانی خاتون تھیں اور اب تک ان کا ریکارڈ کوئی نہیں توڑ سکا۔ کیمیا علی زادے گزشتہ کچھ عرصے سے لاپتہ تھیں اور ان کی مبینہ گمشدگی کی چہ مگوئیاں تھیں تاہم 12 جنوری 2020 کو انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ملک کو چھوڑنے کی تصدیق کردی۔

View this post on Instagram

با سلام آغاز کنم، با خداحافظی یا تسلیت؟ سلام مردم مظلوم ایران، خداحافظ مردم نجیب ایران، تسلیت به شما مردم همیشه داغدار ایران. شما مرا چقدر می‌شناسید؟ فقط آنطور که در مسابقات، در تلویزیون، یا در حضور مقامات دیده‌اید. اجازه دهید حالا آزادانه، هویت سانسور شده‌ام را معرفی کنم. می‌گویند کیمیا پس از این چیزی نخواهد شد. خودم از این هم فراتر می‌روم و می‌گویم قبل از این هم چیزی نبوده‌ام: «من کیمیا علیزاده، نه تاریخسازم، نه قهرمانم، نه پرچمدار کاروان ایران» من یکی از میلیون‌ها زن سرکوب شده در ایرانم که سال‌هاست هر طور خواستند بازی‌ام دادند. هر کجا خواستند بردند. هر چه گفتند پوشیدم. هر جمله‌ای دستور دادند تکرار کردم. هر زمان صلاح دیدند، مصادره‌ام کردند. مدال‌هایم را پای حجاب اجباری گذاشتند و به مدیریت و درایت خودشان نسبت دادند. من برایشان مهم نبودم. هیچکداممان برایشان مهم نیستیم، ما ابزاریم. فقط آن مدال‌های فلزی اهمیت دارد تا به هر قیمتی که خودشان نرخ گذاشتند از ما بخرند و بهره‌برداری سیاسی کنند، اما همزمان برای تحقیرت، می‌گویند: فضیلت زن این نیست که پاهایش را دراز کند! من صبح‌ها هم از خواب بیدار می‌شوم پاهایم ناخودآگاه مثل پنکه می‌چرخد و به در و دیوار می‌گیرد. آنوقت چگونه می‌توانستم مترسکی باشم که می‌خواستند از من بسازند؟ در برنامه زنده تلویزیون، سوال‌هایی پرسیدند که دقیقاً بخاطر همان سوال دعوتم کرده بودند. حالا که نیستم می‌گویند تن به ذلت داده‌ام. آقای ساعی! من آمدم تا مثل شما نباشم و در مسیری که شما پیش رفتید قدم برندارم. من در صورت تقلید بخشی از رفتارهای شما، بیش از شما می‌توانستم به ثروت و قدرت برسم. من به اینها پشت کردم. من یک انسانم و می‌خواهم بر مدار انسانیت باقی بمانم. در ذهن‌های مردسالار و زن‌ستیزتان، همیشه فکر می‌کردید کیمیا زن است و زبان ندارد! روح آزرده من در کانال‌های آلوده اقتصادی و لابی‌های تنگ سیاسی شما نمی‌گنجد. من جز تکواندو، امنیت و زندگی شاد و سالم درخواست دیگری از دنیا ندارم. مردم نازنین و داغدار ایران، من نمی‌خواستم از پله‌های ترقی که بر پایه فساد و دروغ بنا شده بالا بروم. کسی به اروپا دعوتم نکرده و در باغ سبز به رویم باز نشده. اما رنج و سختی غربت را بجان می‌خرم چون نمی‌خواستم پای سفره ریاکاری، دروغ، بی عدالتی و چاپلوسی بنشینم. این تصمیم از کسب طلای المپیک هم سخت‌تر است، اما هر کجا باشم فرزند ایران زمین باقی می‌مانم. پشت به دلگرمی شما می‌دهم و جز اعتماد شما در راه سختی که قدم گذاشته‌ام، خواسته دیگری ندارم.

A post shared by 𝓚𝓲𝓶𝓲𝓪 𝓐𝓵𝓲𝔃𝓪𝓭𝓮𝓱🌟 (@kimiya.alizade) on

ذرائع نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کیمیا علی زادے نے 12 جنوری 2020 کو مقامی زبان میں شیئر کردہ پوسٹ کے ذریعے ملک چھوڑجانے کی تصدیق کی تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اب کہاں ہیں اور مستقبل میں کس ملک میں رہنا چاہتی ہیں۔ کیمیا علی زادے نے اپنی پوسٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ وہ یورپ میں ہیں اور ان کی پوسٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی کسی یورپی ملک میں رہیں گی تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ وہ کس ملک میں رہیں گی۔

اولمپکس میڈلسٹ خاتون کھلاڑی نے خود کو بھی ایران کی ان ہزاروں خواتین میں سے ایک قرار دیا جو وہاں کے سماجی و ریاستی استحصال اور دباؤ کا شکار ہیں۔ خبر رساں ادارے نے ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کیمیا علی زادے ممکنہ طور پریورپی ملک نیدرلینڈ میں ہیں جہاں وہ کچھ عرصہ قبل تربیت کے لیے گئی تھیں۔ لباس کے معاملے پر بھی سرکاری عہدیدار تنقید کا نشانہ بناتے رہے، مزید رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیما علی زادے نہ صرف ناقابل یقین ملکی حالات بلکہ وہ ریاستی و حکومتی عہدیداروں کی جانب سے صنفی استحصال کیے جانے کی وجہ سے بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق کیمیا علی زادے کو بیرون ممالک جاکر مرد حضرات کے ساتھ انتہائی بولڈ انداز میں حجاب کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور سرکاری عہدیدار ہی انہیں تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ اپنی پوسٹ میں کیمیا علی زادے نے لکھا کہ ایرانی حکومت ان کی کامیابی اور میڈلوں کا سیاسی استعمال کرتی رہی اور ساتھ ہی حکام انہیں برا بھلا بھی کہتے رہے اور انہیں لباس کے معاملے میں بھی طعنے دیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے میری کامیابیوں سے فائدہ اٹھایا مگر عہدیدار میرا استحصال کرتے رہے، کیمیا علی زادے نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں آج تک وہی بولا جو ایرانی حکومت نے چاہا اور انہوں نے وہی پہنا جس کے پہننے کی انہیں اجازت دی گئی۔ خاتون ایتھلیٹ نے اس کی بھی وضاحت کی کہ انہیں کسی بھی یورپی ملک نے شہریت کی پیش کش نہیں کی اور نہ ہی انہیں کسی اور طرح کی کوئی پیش کش ہوئی ہے۔
کیمیا علی زادے کی جانب سے ملک چھوڑے جانے کا اعلان ایک ایسے وقت میں آیا جب کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی چل رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت کشیدگی میں تیزی آئی جب کہ نیا سال شروع ہوتے ہی امریکا نے تین جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے۔
قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے 8 جنوری 2020 کو عراق میں موجود امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں سے حملہ کرکے 80 فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم امریکا نے ایران کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ میزائل حملوں میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button