حکومت کا سوشل میڈیاکے مجوزہ قوانین پر نظر ثانی کا فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ میں آٹھ صدارتی آرڈنینس کیخلاف سماعت۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر حکومت ریگولیٹرز کو آرڈیننس کے ذریعے ختم کرسکتی ہے تو پھر ہائیکورٹ بھی ختم کرسکتی ہے۔ یہ بہت اہمیت کا حامل معاملہ ہے آئندہ سماعت پر حتمی دلائل دیں۔سماعت 12 مارچ تک ملتوی۔۔

صدارتی آرڈیننس کےخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے حتمی دلائل اور معاونین سے رائے طلب کرلی۔۔۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے بنی ہائی کورٹ کو کیا آرڈیننس کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟ چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت ہے۔۔۔۔۔۔آپ کلونیئل لاء پر بات نہ کریں۔۔۔1973 کے آئین کی طرف آئیں۔۔ احتشام کیانی کی رپورٹ
Package
76
منٹاج۔۔
مسلم لیگ ن کی 8 صدارتی آرڈیننسزکےخلاف درخواست۔۔۔۔۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے سماعت کی۔۔

فوٹیج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیٹ

دوران سماعت درخواست گزار محسن شاہنواز رانجھا نے دلائل دیئے کہ پارلیمنٹ میں جو بحث 1973 میں ہوئی تھی اس کا ریکارڈ بھی عدالت کو فراہم کر دیں گے۔۔۔صدر کو صرف جنگ کی طرح کی صورتحال میں آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار ہے۔۔۔

فوٹیج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیٹ

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھرنے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر حکومت مستقل ریگولیٹرکو ختم کر سکتی ہے پھر تو ہائی کورٹ بھی آرڈیننس کے ذریعے ختم کر سکتے ہیں۔۔۔یہ ہائی کورٹ 2010 کے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت بنی۔۔۔کیا یہ ٹھیک ہے کہ آپ آرڈیننس کے ذریعے اس ہائی کورٹ کو ختم کر دیں۔۔

فوٹیج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیٹ

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو آرٹیکل 89 پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس کے حوالے سے کیا ایگزیکٹو کو یہ اختیار نارمل حالات میں حاصل ہیں؟۔۔۔اس کے مطابق تو آپ آرڈیننس صرف جنگ کی حالت میں جاری کر سکتے ہیں۔۔۔جیسے کروناوائرس کے حوالے سے معاملہ ابھی موجود ہے۔۔۔آپ نے مطمئن کرنا ہے کہ یہ قانون سازی مختلف کس طرح ہے۔۔۔

فوٹیج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیٹ

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو پرانی تاریخ کا حوالہ دینے سے روکتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ ہر دفعہ کلونیئل لاء کی طرف کیوں چلے جاتے ہیں۔۔۔یہ جمہوریت ہے۔۔1973 کے آئین کی طرف آئیں۔۔۔۔تینوں آئین ایک جیسے نہیں ہیں۔۔۔ان میں فرق ہے۔۔۔ عدالت نے حتمی دلائل اور معاونین سے رائے طلب کرتے ہوئے سماعت 12مارچ تک ملتوی کردی۔۔ احتشام کیانی ٹونٹی فور نیوز اسلام آباد
اسلام آباد ہائیکورٹ نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اداروں کے خاتمے پرسوالات اٹھا دیئے
ثاقب بشیر 2 گھنٹے پہلے
شیئرٹویٹشیئرای میلتبصرے
مزید شیئر
آرڈیننس کی گنجائش صرف جنگ کی حالت میں ہے، جسٹس اطہرمن اللہ فوٹو: فائل
آرڈیننس کی گنجائش صرف جنگ کی حالت میں ہے، جسٹس اطہرمن اللہ فوٹو: فائل

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اداروں کے خاتمے پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے 8 آرڈیننسز کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی درخواست پر سماعت کی۔

مسلم لیگ (ن) کے محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ صدر مملکت کو صرف جنگی حالات میں آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار ہے، جیسے کورونا وائرس کے حوالے سے معاملہ ابھی موجود ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے (پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹیل کونسل) کا نام لئے بغیر آرڈیننس کے ذریعے تحلیل کرنے کے حکومتی اقدام پر ریمارکس دیئے، چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ریگولیٹری ادارے کو ختم کیا گیا، کیا حکومت آرڈیننس سے ہائی کورٹ کو بھی ختم کر سکتی ہے؟ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر سے سوال کیا کہ کیا ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت بنی ہائی کورٹ کو بھی آپ ختم کر سکتے ہیں؟ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 89 کے مطابق تو آرڈیننس کی گنجائش صرف جنگ کی حالت میں ہے۔ آرڈیننس کے حوالے سے کیا ایگزیکٹو کو یہ اختیار نارمل حالات حاصل ہے؟

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ بہت اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر عدالتی معاونین بابر اعوان، رضا ربانی اور عابد منٹو سے بھی دلائل طلب کر لیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button