کینسر سے بچاؤ کی ویکسین تیار

یونیورسٹی آف آکسفورڈ اور دوا ساز کمپنی موڈرنا نے مشترکہ طور پر ایک ایسی ویکسین تیار کی ہے جس کا مقصد اُن افراد کو بچانا ہے جو آنتوں اور بیضہ دانی کے کینسر کے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ تاہم، ویکسین کا آزمائش کے مرحلے سے گزارنا ابھی باقی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ویکسین ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور مستقبل میں اسی ٹیکنالوجی کو دیگر اقسام کے کینسر کی روک تھام کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ تحقیق خاص طور پر لِنچ سنڈروم کے مریضوں پر مرکوز ہے۔ یہ ایک موروثی عارضہ ہے جو آنتوں، رحم، بیضہ دانی، معدے، لبلبے، گردوں اور جلد سمیت کئی اقسام کے کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں تقریباً ہر 300 افراد میں سے ایک شخص لنچ سنڈروم کا شکار ہے۔ مگر صرف پانچ فی صد افراد کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ جبکہ ہر سال انگلینڈ میں تقریباً 1100 آنتوں کے کینسر کے کیسز لنچ سنڈروم کی وجہ سے سامنے آتے ہیں۔

Back to top button