مدارس کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے،مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے الزام عائد کیا ہے کہ دینی مدارس کو بدنام کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے اور ان اداروں کو کمزور کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔
بھکر میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فلسطینی قوم ایک خودمختار ریاست کے حق میں جدوجہد کر رہی ہے، مگر اسلامی دنیا محض تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرنا فلسطینی حقوق کی نفی کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو مدعو کرتے اور ان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے رہے، حالانکہ عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے کر گرفتاری کا حکم دے رکھا ہے۔ مولانا نے سوال اٹھایا کہ اگر صدام حسین پر مقدمہ چل سکتا ہے تو نیتن یاہو کیوں استثنا کا حق دار ہو؟
ان کا کہنا تھا کہ فتنوں کا مقابلہ صرف علما کی نہیں بلکہ پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 70 ہزار سے زائد فلسطینی بچے، خواتین، مرد اور بزرگ شہید ہو چکے ہیں، لیکن اقوام متحدہ اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ جب تک فلسطین کی مزاحمتی جماعت حماس کوئی فیصلہ نہیں کرتی، کوئی اور فریق فلسطین کے مستقبل پر فیصلے کا مجاز نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دینی مدارس کے خلاف جاری منفی مہم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ "ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ ہم مسائل کا پرامن حل چاہتے ہیں، اور جیسے اپنے بچوں کے لیے بہتر سوچتے ہیں، ویسا ہی سوچ قوم کے ہر بچے کے لیے ہونا چاہیے،
