’’ نعرہ بازوں‘‘کا ہجوم

تحریر: مجیب الرحمٰن شامی
بشکریہ: روزنامہ دنیا
اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے سب سے بڑے ہسپتال پمز (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) میں بچوں کی نرسری عین اُس دن آتشیں دھماکے سے اُڑ گئی جب پوری پاکستانی قوم بلکہ پورا عالمِ اسلام اپنے رسولِ اکرم و معظمﷺ کی ولادت کا جشن منا رہا تھا۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں فوجی دستے توپوں کی سلامی اپنے آقا و مولاﷺ کے حضور پیش کر رہے تھے کہ اس المناک خبر نے منظر تبدیل کر دیا‘ مسرت کے لمحات غم کی گھڑیوں میں تبدیل ہو گئے۔ 14نومولود لقمۂ اجل بن گئے تھے۔ ایک ایک‘ دو دو دن کے بچے بِن کھلے مرجھا گئے تھے۔ پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا‘ ہر شخص کو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس کا بچہ اس سے چھین لیا گیا ہے۔ تحقیقات کے مطالبے ہونے لگے‘ ذمہ داروں کو سزا دینے پر زور دیا جانے لگا۔ وزیر صحت مصطفی کمال تو کراچی میں تھے‘ وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس بلایا اور سیکرٹری صحت کو ان کے نہ صرف عہدے سے ہٹایا بلکہ معطل بھی کر دیا۔ تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی گئی‘ جسے 48گھنٹے میں ابتدائی اور ایک ہفتے میں حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ وزیراعظم نے تو یہ احکامات جاری کر کے (بزعم خود) عوامی غم و غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی لیکن پمز کے اندر اور باہر کسی کو چین نہیں تھا۔ اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے اپنی کمیٹی بنا دی‘ سی ڈی اے حرکت میں آئی اور تحقیق و تفتیش کے لیے اپنے کارندے میدان میں اتار دیے۔ شہری انتظامیہ بھی لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اُتر آئی اور ذمہ داروں سے تفتیش کے لیے اپنی حرکات کا مظاہرہ کرنے لگی۔ اسی پر بس نہیں ہوا‘ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیاں بھی ہڑ بڑا کر اُٹھیں۔ ان کے ارکان جائے وقوعہ پر پہنچے‘ وزیراعظم اور وزیر صحت کے لّتے لینے لگے۔ استعفوں کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال‘ جو سانحہ گُل پلازہ کے بعد سندھ حکومت کے ذمہ داروں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے پائے گئے تھے‘ اب پیپلز پارٹی اور اس کے ہم نواؤں کی زَد پر تھے۔ غیرجانبدار مبصرین بھی ”ہائی مورل گراؤنڈ‘‘ کی توقع لگائے بیٹھے تھے۔ وزیر صاحب ٹیلی ویژن سکرین پر بغلیں جھانکتے دکھائی دے رہے تھے۔ اشاروں کنایوں میں یہ اطلاع فراہم کر رہے تھے کہ انہوں نے وزیراعظم کو استعفیٰ پیش کیا تھا تاہم وہ قبول نہیں کیا گیا۔ وہ بھی ”ذمہ داروں‘‘ کو سخت سزا دینے کے مطالبے میں پوری قوت سے شریک تھے۔ سوشل میڈیا پر دھینگا مشتی شروع تھی۔ سیکرٹری صحت پر جو نزلہ گرا اس کا سبب پوچھا جا رہا تھا‘ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اپنی نشست پر جم کر بیٹھے تھے‘ دوسرے منصب دار بھی جوں کے توں تھے‘ سیکرٹری بے چارے ”عضوِ ضعیف‘‘ کی مانند نزلے کی زد میں آ گئے تھے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کمیٹی پر کمیٹی بنانے کے بجائے وزیراعظم کی نامزد کردہ کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کر لیا جاتا‘ باقی سب کچھ اس کے بعد ہوتا لیکن یہاں صبر کا یارا کسی کو نہیں تھا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اپنی کمیٹی قائم کر کے تحقیقات کا اعلان کر دیا۔ قائدین حزبِ اختلاف وزیراعظم اور وزیر صحت کے استعفوں کا مطالبہ کرنے میں مگن تھے لیکن کوئی سُن نہیں رہا تھا۔ حادثے کی سنگینی اپنی جگہ‘ اس میں مزید سنگینی یہ پیدا ہو گئی اور ہوتی چلی جا رہی ہے کہ ہم بحیثیت قوم نظم و ضبط سے عاری نظر آ رہے ہیں‘ نہ احتیاطی تدابیر پر یقین رکھتے ہیں‘ نہ ادارہ جاتی اصلاح پر‘ گویا ہنگامہ اٹھانے اور ایک دوسرے کو زچ کرنے کے علاوہ ہمیں کوئی اور کام نہیں آتا۔ ماضی میں کتنے چھوٹے بڑے حادثے ہوئے‘ کتنی تباہ کاریاں ہوئیں لیکن تحقیقات کا کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا گیا۔ نہ ہی ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں سزا دینے کی روایت مستحکم کی جا سکی۔ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل کی واردات سے لے کر سقوطِ ڈھاکہ سے ہوتے ہوئے سانحۂ پمز تک پہنچ جائیے‘ ایک ایسی دردناک کہانی کا تسلسل ہے کہ چھپائے نہیں چھپتا۔ ہاؤ ہو کے عالم میں پاکستان ریڈ کریسنٹ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر سعید الٰہی نے وزیراعظم اور کئی دوسرے مقتدرین کو ایک خط لکھ کر جو نکات پیش کیے‘ وہ ہم تک بھی پہنچے۔ ان کے اٹھائے گئے انتہائی سنجیدہ سوالات یقینا تحقیقات کا محور ہونے چاہئیں۔ وہ پوچھتے ہیں:
٭… کیا اس سانحے کی ذمہ دار دانستہ انتظامی غفلت تھی؟
٭… کیا فائر الارم اور آگ بجھانے کا سامان فعال اور قابلِ استعمال تھا؟
٭… کیا مناسب مقدار میں پانی اور ہنگامی وسائل دستیاب تھے؟
٭… کیا بجلی کا نظام محفوظ تھا اور اس کی مناسب دیکھ بھال کی جا رہی تھی؟
٭… کیا ہنگامی راستے اور اخراج کے دروازے قابلِ رسائی تھے؟
٭… کیا عملہ آگ لگنے کی ہنگامی صورتحال میں مؤثر طریقے سے کارروائی کرنے کیلئے تیار تھا؟
٭… کیا کھڑکیاں اور دروازے امدادی کارکنوں کیلئے قابلِ رسائی تھے؟
٭… کیا باقاعدہ ”فائر ڈرلز‘‘ اور ہنگامی ردِعمل کے منصوبے موجود تھے؟
٭… کیا کسی افسر‘ سرکاری اہلکار‘ ٹھیکیدار یا ادارے نے اپنی قانونی یا پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا؟
٭… کیا غفلت‘ بدعنوانی‘ ناقص انفراسٹرکچر یا ضابطہ جاتی ناکامی نے ان اموات میں کوئی کردار ادا کیا؟
٭… کیا ریسکیو 1122یا سی ڈی اے کے فائر فائٹرز کو اطلاع دی گئی تھی‘ ان کا ردِعمل کیا تھا؟ رسپانس ٹائم اور عملی کارروائی کیا تھی؟
٭… ضلعی انتظامیہ کا ردِعمل کیا تھا؟
اگر شواہد سے مجرمانہ غفلت ثابت ہو جائے تو جن افراد کو قانوناً ذمہ دار قرار دیا جائے‘ ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ ایسے اقدامات بھی کیے جائیں کہ کوئی ایسا شخص بیرونِ ملک فرار نہ ہونے پائے۔ ڈاکٹر سعید الٰہی کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ملک بھر میں سرکاری اور نجی اداروں کے فائر اینڈ لائف سیفٹی آڈٹ کا حکم دیا جائے جہاں بھی حفاظتی انتظامات میں سنگین خامیاں پائی جاتی ہوں‘ وہاں فوری اصلاحی اقدامات لازمی قرار دیے جائیں۔
ڈاکٹر صاحب کے اٹھائے گئے سوالات اور لاتعداد ذہنوں میں پیدا ہونے والے لاتعداد خدشات کا ازالہ کیسے ہو گا؟ درست سمت میں کوئی قدم اٹھایا بھی جا سکے گا یا نہیں‘ اس سے قطع نظر یہ بات بہرحال یاد رکھنے کی ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم اپنے مزاج اور انداز پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ہم نعرہ بازوں کا ہجوم بن کر رہ گئے ہیں‘ مستقل مزاجی اور ثابت قدمی کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاح کا عزم جب تک نہ کیا جائے گا‘ ہم ایک حادثے کے بعد دوسرے کا شکار ہوتے چلے جائیں گے۔ سفارش‘ غفلت اور کرپشن کے ناسور ہمارے تعاقب میں ہیں یا یہ کہیے کہ ہمیں نگلنے کو ہیں۔ زبانی جمع خرچ سے کسی قوم کی تقدیر اب تک بدلی ہے‘ نہ بدلی جا سکے گی۔
