سانحہ گل پلازہ انتظامیہ کی غفلت سے پیش آیا،رپورٹ پبلک کردی گئی

سندھ حکومت نے کراچی کے معروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں پیش آنے والے اندوہناک سانحے پر کی جانے والی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی، جس میں اداروں کی ناکامی کا ذکر کیا گیا ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے تشکیل دیے گئے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ 78 صفحات پر مشتمل جاری کردی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ افسوسناک واقعہ 17 جنوری 2026 کو پیش آیا جس میں 72 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے 4 فروری 2026 کو جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا گیا۔
جوڈیشل کمیشن نے رپورٹ میں لکھا کہ سانحہ گل پلازہ میں جانیں صرف آگ نے نہیں لیں، اس المناک واقعے میں ریسکیو آپریشن میں تاخیر، اندھیرے، بند راستوں، غیر فعال حفاظتی نظام اور اداروں کی ناکامیوں کی ایک طویل فہرست ہے۔
78 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق خطرات پہلے سے معلوم تھے اور نقائص کی نشاندہی بھی ہوچکی تھی، اختیارات اور ادارے بھی موجود تھے مگر بروقت کارروائی نہ ہوسکی۔
جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے ذمہ داری کسی ایک ادارے تک محدود نہیں رکھی بلکہ مجموعی نظام کی ناکامی کو جانی نقصان کی بڑی وجہ قرار دیا۔
جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں حادثے میں فریقین کی ذمہ داریوں کا تعین کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ عمارت خطرناک اور فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کی حالت میں مسلسل تجارتی استعمال میں رہی۔ گل پلازہ کی انتظامیہ نے معلوم نقائص دور نہیں کیے۔
