سانحہ پمز،ایگزیکٹو ڈائریکٹرسمیت 8 افرادمعطل،فوجداری کارروائی کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز سانحے پر ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت 8 افراد کو فوری معطل کر کےکارروائی کرنےکی منظوری دے دی۔
وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پمز واقعے پر لاہور میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔
اعلامیےکے مطابق وزیر اعظم کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔
وزیر اعظم نےکمیٹی کی نشاندہی پر 8 افرادکو فوری معطل کرکےکارروائی کرنےکی منظوری دے دی۔ وزیراعظم کی کمیٹی کی نشاندہی پر ذمہ داران کے خلاف محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
اعلامیےکے مطابق ان 8 افراد میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر شامل ہیں۔ سکیورٹی پر مامور کمپنی اور عہدیداران کے خلاف کارروائی کی بھی منظوری دی گئی ہے،معطل ہونے والوں میں جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی عبدالرحمان، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر سعدیہ ریاض اور سینئر رجسٹرار بھی معطل ہونے والوں میں شامل ہیں۔
وزیراعظم آفس کےمطابق متاثرہ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈکو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔وزیراعظم نے ان افراد کے خلاف بلا امتیاز فوجداری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
پمز واقعے میں بچےکو بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت دینےکی منظوری دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنےکی ہدایت کی ہے۔وزیر اعظم نے ہٹائے گئے افراد کی جگہ نئے افراد کی فوری اور ایک ساتھ تعیناتی کی ہدایت بھی کی ہے۔
