پیپلز پارٹی کا سانحۂ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ پبلک کرنے کا مطالبہ

پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے سانحۂ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ فوراً پبلک کرنے کا مطالبہ کردیا۔
رہنما پیپلز پارٹی سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے کہ شواہد کو مٹا نہ دیا جائے،پمز کو 3 سال میں 22 ارب روپے ملے،وہ پیسہ کہاں لگا؟ آڈٹ کرایا جائے، یہ سب گٹھ جوڑ ہے،شفاف تحقیقات کیسے ہوں گی؟
سینیٹر پلوشہ خان نے کہاکہ خدشہ ہے کہ چھوٹے افسران پر ملبہ ڈال دیاجائے گا اور بڑے حکام کو بچایا جائےگا جو اصل ذمے دار ہیں۔
سانحہ پمز: سیکرٹری صحت کو عہدے سے ہٹانے کی وجوہات سامنے آگئیں
واضح رہے کہ سانحۂ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی ہے۔
ذرائع کےمطابق انکوائری کمیٹی کے سربراہ سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان نے رپورٹ جمع کروائی ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے سانحہ پمز کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین بھی کردیا ہے۔رپورٹ میں ریسکیو ٹیموں کو امدادی کارروائیوں میں درپیش مسائل کا بھی ذکر موجود ہے، پمز کا جو متعلقہ عملہ غیرحاضر تھا ان کےخلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کےلیے سفارشات بھی دی گئی ہیں۔
