سانحہ پمز: سیکرٹری صحت کو عہدے سے ہٹانے کی وجوہات سامنے آگئیں

 

 

 

پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے سانحے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے ہٹائے جانے کی وجوہات سامنے آگئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے باعث 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے کے بعد وفاقی سیکرٹری صحت کو اس مبینہ ناکامی کی وجہ سے عہدے سے ہٹایا گیا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی اسلام آباد کے ہسپتالوں کے معائنے کی بار بار دی جانے والی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک سے زائد مرتبہ سیکرٹری صحت کو ہدایت کی تھی کہ وہ خود ہسپتالوں کا دورہ کریں اور موقع پر صورت حال کا جائزہ لیں، جس میں علاج معالجے کا معیار، سہولیات اور مریضوں کےلیے مجموعی انتظامات شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی سیکرٹری صحت کو خصوصی طور پر جدید ترین آلات اور الیکٹرو میڈیکل آلات کی فراہمی یقینی بنانے کو کہاگیا تھا،تاہم سیکرٹری مطلوبہ دورے نہیں کرسکے۔

سانحہ پمزپرخصوصی کمیٹی بنانےکی تحریک منظور

ذرائع کا کہنا ہےکہ وزیراعظم شہباز شریف نے پمز کے سانحے سے 4 روز قبل بھی سیکرٹری کو یہی ہدایت جاری کی تھی،لیکن دورہ نہ ہوسکا۔ آئی سی یو میں آتشزدگی کے نتیجے میں بچوں کی اموات کے بعد وزیراعظم نے فوری طور پر سیکرٹری کو ان کے عہدے سے ہٹادیا۔تاہم فوری کارروائی کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں کہ سانحے کی ذمہ داری کا مکمل تعین کرلیا گیا ہے۔

 

Back to top button