شُرلی، پٹاخہ اور بم!

تحریر: سہیل وڑائچ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
اس کا اصلی نام تو کسی کو یاد نہیں سب اسے بلّا راکٹ کہہ کر بلاتے ہیں جبکہ وہ خود کو بِلّو راکٹ کہلوانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ بلّو پیشے کے اعتبار سے آتش باز رہا ہے، اسے آتش بازی ،آتش گیری اور آتش گری کے تمام مراحل کابخوبی علم ہے۔بلّو راکٹ وہ نہیں جسکی ہر بات سے پھول جھڑتے ہیں ۔ بلّو راکٹ سیاست، مذہب، معاشرت یا معیشت جیسے معاملات پر بھی بات کرے تو آتش بازی کے استعاروں اور مثالوں سے کرتا ہے۔ حالیہ سیاست میں شفا اسپتال کی بجائے عمران خان کو پمز لیجانے کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے بلّوراکٹ نے کہا یہ شُرلی تھی، پہلے پٹاخے پھوٹیں گے اور پھر آخر میں بم۔شُرلی کو پٹاخہ نہ سمجھیں اور پٹاخے کوبم نہ گردانیں آتش بازی شُرلی سے آغاز ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ زور پکڑتی ہے۔
بلّو راکٹ اب بیرون ملک مقیم ہے مگر حب الوطنی کی آگ اسے ایک پل بھی وطن سے جدا نہیں کرسکی۔ اسے ہر طرف آگ ہی آگ نظر آتی ہے۔ مہتابی، انار، پھلجھڑی، راکٹ اور بم یہ سب وہ مترادفات ہیں جو بلّو راکٹ کی لغت میں ثبت ہیں وہ دھوکہ بم، دھواں بم اور تباہی بم کی تراکیب بھی اکثر استعمال کرتا ہے۔ ابھی کے ابھی بلّو نے کہا ’’ اے آگ اور طاقت سے ناآشنا لوگو! تمہیں سیاست کی الف ب کا بھی علم نہیں، تم دھوکہ بم کو اصلی بم اورشُرلی کوراکٹ سمجھ لیتے ہو، حالیہ آتش بازی تومحض آغاز تھا، فائر ورکس میں پہلے انتباہی فائر(Warning)چلتے ہیں تاکہ ہوشیار،خبردار اور تیار کا منظربن جائے پھر فائر ورکس آہستہ آہستہ اپنی رفتار بڑھاتے ہیں۔ محفل میں موجود نون خان اور پیپل خان نے بلوراکٹ کو کہا ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا اشاروں میں باتیں نہ کرو آسان الفاظ میں سمجھاؤ کہ ہو کیا رہا ہے اور ہوگا کیا؟ بلّوراکٹ ان سوالوں پر سنجیدہ ہوکرخاموش ہوگیا مگر پھر کسی مدبر شاعر کی طرح پنجابی کے یہ شعر گنگنانے لگا۔’’ جوہویا ایہہ ہونا ای سی/ تے ہونی روکیاں رکدی نہیں/ اک واری جدوں شروع ہوجاوے/ گل فیر اینویں مکدی نئیں ۔نون خان اور پیپل خان اس شعر پر لاجواب ہوگئے اور انصاف خان نے بڑھ بڑھ کر داد دی تو حضرت بلّو راکٹ نے بڑماری کہ یہ شعر مجھے منیرنیازی نے خودسنائے تھےجب میں نے ان سے سوال کیا تھاکہ اب آگے کیا ہوگا؟
بلّا راکٹ ساٹھ سے اوپر کا ہوچکاہے، ایک طرف وطن کی یاد ہے اور پھر اندر کی محرومیاں بھی ہیں،اسے ایسا لگتا ہے کہ اندر کی آگ اسے جلائے جارہی ہے کچھ وہمی، کچھ ناراض، کچھ تلخ اور کچھ مایوس سا ہوگیا ہے خود کہتا ہے کہ جس طرح بچے شبِ برات کودیواروں کے ساتھ رگڑ کرپٹاخےتڑ تڑ چلاتے ہیں اسی طرح میں بھی اب ہر وقت کُکڑی کی طرح کُڑ کُڑکرتا رہتا ہوں، دل جو کڑھتا ہے تو کیا کروں؟ بلا راکٹ جب سے بیرون ملک گیا ہے بہت عقل مند ہوگیا ہے اسے کئی دفعہ لگتا ہے کہ وہ اپنے والد سے بھی زیادہ عقل مند ہے اس کے پاس اپنے وطن کے ہر مسئلے کا حل ہے۔ بلّا راکٹ گو بیرون ملک مقیم ہے اور اسکے واپس وطن آنے کا نہ کوئی ارادہ ہے اور نہ اسکی بیوی اور اولاد کبھی اس پر آمادہ ہونگے مگر بلّو کی خواہش ہے کہ اسے بھی معین قریشی، شوکت عزیز یا شاہد جاویدبرکی جیسا چانس ملے تاکہ وہ انکی طرح تھوڑے عرصے کیلئےملک کی خدمت کرسکے اور جب حکومت ختم ہوگی تووہ پھر بیوی بچوں کے پاس سات سمندر چلا جائےگا۔ بلّو راکٹ کا خیال ہے کہ معین قریشی ورلڈ بینک کے سینئر وائس پریذیڈنٹ کی حیثیت سے دنیا کے مالیاتی نظام کو جانتے تھے، شوکت عزیز سٹی بینک میں ہونے کی وجہ سے سرمائے کی ایک سے دوسرے ملک منتقلی کے عمل سے واقف تھے، شاہد جاوید برکی اپنے تجربے کی وجہ سے مالیاتی ڈسپلن کو جانتے تھے۔بلّو راکٹ بھی انہی کی طرح آتش بازی کے بین الاقوامی امور کا ماہر ہے بلّو راکٹ کا خیال ہے کہ اگر اسے وزیر یا وزیر اعظم بنادیا جائے تو وہ آتش بازی کے فن میں وطن کو بین الاقوامی مقام دلا دےگا ،دنیا بھر سے لوگ آتش بازی دیکھنے آیا کریں گے، لاکھوں سیاح کروڑوں ڈالر خرچ کرینگے پھر ہم پھلجھڑیاں،مہتابیاں، انار، بم اور پٹاخے بیچ کر اسقدر زرمبادلہ کما سکتے ہیں کہ ہر کسی کے دلِدّر دور ہوجائیں گے۔ بلوراکٹ اب خود کو ٹیکنوکریٹ سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ جو کام شوکت عزیز نہ کرسکے وہ آتش بازی کی تکنیک سے ملک کی تقدیر بدل دے گا۔ بلّو راکٹ کو اپنے شعبے پر اسقدر عبور اور اعتماد ہے کہ اسکے خیال میں اب مصنوعی ذہانت کا دور نہیں آتش بازی کا دور آنے والا ہے، بلو راکٹ کا کہنا ہے کہ ڈرون، راکٹ اور میزائل سب آتش بازوں کی ایجادہیں وہ تو کئی دہائیوں سےفائر ورکس میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے تھے باقی دنیا نے یہ فن آتش بازوں سے سیکھاہے۔ اسکے ملک میں جب بھی حکومتی ہل چل شروع ہوتی ہے تو بلّوراکٹ کے خون کی گردش تیز ہوجاتی ہے، کُڑ کُڑ بڑھ جاتی ہے، کھد بد شروع ہوجاتی ہے بار بار خیال آتا ہے کہ اسکے پاس تقدیر بدلنے کا مجرب نسخہ موجود ہےتو پھر آخر وطنی لوگوں اور بااختیار طاقتوں کو بیرون ملک مقیم یہ محب وطن ٹیکنوکریٹ کیوں یاد نہیں آتا؟
بلّوراکٹ کواسکے ایک انتہائی مخلص دوست نے مشورہ دیا کہ بِلّو یا بِلّا جیسے ناموں والے شخص کو وزیر نہیں بنایا جاسکتا پہلے تو بلّو بدک گیا اور کہنے لگا اگر مودی وزیر اعظم بن سکتا ہے تو بلّا کیوں نہیں؟ اگر چھوٹو رام اپنا نام بناسکتا ہے تو بلّا راکٹ کیوں نہیں۔ جب دوچار اور مخلص دوستوں نے بھی یہی مشورہ دیا تو بلّو نے مغربی تقاضوں کے مطابق اپنے نام کوتبدیل کرکے اب بل ریکٹ(Bill Rackat) کرلیا ہے، اب بلّو کے سب دوستوں کو یقین ہے کہ بل کوٹیکنوکریٹ حکومت میں وزارت ضرور ملے گی اور پھر ملک آتش بازی کی صنعت میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا۔
بل ریکٹ( پرانا نام بلو راکٹ) نے حال ہی میں اپنے مستقبل کے ارادوں کے بارے میں ایک تفصیلی بیان دیا ہے، انہوں نے کہاکہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ ملک بھر میں آتش بازی کا جال بچھادینگے ہر چھوٹی بڑی جگہ پر آتش بازی کے ماہرین روز رات کو آتش بازی کا اہتمام کیا کرینگے ، آتش بازی کوصنعت کا درجہ دیدیا جائے گا ،آتش بازوں کو حکومت سستے قرضے فراہم کرے گی، ہر تحصیل اور ضلع میں آتش باز افسر مقرر ہوگا ،چھوٹے انتظامی یونٹس میں آتش بازی کے فن کے فروغ سے ملک بھر میں ایکسپورٹ کوفروغ ملےگااور دنیا بھر میں آتش بازی کا سامان ملک سے ہی جایا کرے گا۔ آتش بازی ہی ملک کا مستقبل ہے اسی راستے سے منزل کا تعین ہوگا یہی وہ چشمہ ہے جس سے بالآخر پانی نکلے گا….!!
