آزادکشمیرکےنومنتخب وزیراعظم نےحلف اٹھالیا

آزادکشمیرکےنومنتخب وزیراعظم بیرسٹرافتخارگیلانی نےحلف اٹھالیا۔

وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد ایوان میں اپنے پہلے خطاب میں بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ نہيں، یہ اقوام متحدہ کی  قرارداوں کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے۔

نو منتخب وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کی مذمت کرتے ہيں، قانون سازی سے کشمیر کو بھارت کا حصہ نہيں بنایا جا سکتا۔

بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ افواج پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے شکر گزار ہيں، پاک فوج کی وجہ سے کشمیری سکون کی نیند سوتے ہيں۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ وزير اعظم شہباز شریف، نواز شریف اور مریم نواز کا بھی شکریہ، کشمیر میں اسی طرح تبدیلی لائيں گے جیسے مریم نواز  پنجاب میں تبدیلی لائیں۔

انہوں نے کہا کہ ریکروٹمنٹ کے لیے این ٹی ایس کی طرح تھرڈ پارٹی سسٹم لائيں گے، آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ نہيں لیکن چیزيں بہتری کی طرف جائيں گی، ڈيجیٹل اکانومی کی طرف جائيں گے اور سکلڈ بیسڈ ایجوکیشن پر کام کریں گے۔

بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ محکمہ صحت اور تعلیم میں اصلاحات لائيں گے اور عوامی شکایت کے لیے ڈيجٹل سیٹزن پورٹل لانچ کریں گے۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے  بیرسٹر افتخار گیلانی آزادکشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔

نومنتخب وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی نے 30 ووٹ حاصل کیے جبکہ پیپلز پارٹی کے سردار مختار خان نے 14ووٹ حاصل کیے۔

افتخار گیلانی پہلی بار 2011میں منتخب ہوکر آزادکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پہنچے تھے، افتخار گیلانی آزادکشمیر کے وزیرتعلیم بھی رہ چکےہیں۔

افتخار گیلانی حالیہ انتخابات میں ٹیکنو کریٹ نشست پر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

Back to top button