امریکہ ایران کو شکست دینے میں کامیاب کیوں نہیں ہو سکا؟

دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہونے کے باوجود امریکہ اب تک ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں کامیابی کیوں حاصل نہیں کر سکا؟ اس سوال کا جواب امریکا اور ایران کی فوجی طاقت کا روایتی موازنہ کرنے سے نہیں ملے گا کیونکہ دونوں ممالک کی عسکری صلاحیت میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایران پر واضح عسکری برتری کے باوجود امریکہ اس طویل جنگ کی قیمت کس حد تک برداشت کرسکتا ہے۔
سینیئر صحافی عامر خاکوانی اپنے تجزیے میں ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ امریکا کا دفاعی بجٹ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر سالانہ ہے اور اس کے پاس دنیا کی جدید ترین فضائی، بحری اور میزائل صلاحیت موجود ہے۔ اس کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز، جدید جنگی طیارے، کروز میزائل، پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے میزائل شکن نظام اور وسیع فوجی رسد کا نیٹ ورک ہے۔ ایران ان میں سے کسی بھی شعبے میں امریکا کا ہم پلہ نہیں، لیکن جنگ صرف طاقت کے بڑے اعداد و شمار سے نہیں جیتی جاتی۔
ایران کے لیے بنیادی مسئلہ امریکا کو روایتی جنگ میں شکست دینا نہیں بلکہ اسے جنگ کی قیمت مسلسل بڑھانے پر مجبور کرنا ہے۔
ایران کے پاس امریکا کے مقابلے میں محدود وسائل ضرور ہیں، لیکن میزائل، ڈرونز اور دیگر نسبتاً کم لاگت والے ہتھیار استعمال کرکے وہ امریکی دفاعی نظام پر مسلسل دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اس طرح ایران ایک ایسی جنگ لڑ سکتا ہے جس میں اسے امریکا کو شکست دینے کے بجائے امریکی کامیابی کو مہنگا اور مشکل بنانا ہو۔
امریکا کے لیے سب سے اہم چیلنج جدید میزائل اور دفاعی انٹرسیپٹرز کے ذخائر ہیں۔ پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے نظام ایرانی میزائلوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ان کے انٹرسیپٹر لامحدود نہیں۔ ایک میزائل چند سیکنڈ میں فائر کیا جاسکتا ہے، مگر اس کی جگہ نیا میزائل تیار کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طویل جنگ میں امریکا کو صرف فوجی کارروائی نہیں بلکہ اپنے ہتھیاروں کے ذخائر کا حساب بھی رکھنا پڑتا ہے۔
عامر خاکوانی کے مطابق ایران کی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ امریکا کو مسلسل دفاعی وسائل استعمال کرنے پر مجبور کرے۔ اگر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے مہنگے امریکی انٹرسیپٹر بڑی تعداد میں استعمال ہوتے رہیں تو جنگ کا معاشی حساب بھی اہم ہوجاتا ہے۔ ایک نسبتاً سستا ڈرون گرانے کے لیے بہت مہنگا میزائل استعمال کرنا امریکا کے لیے طویل مدت میں ایک مشکل سودا ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکی فوج کے پاس دنیا کی سب سے جدید
فضائی طاقت موجود ہے اور وہ ایران کے اہم فوجی اور دفاعی اہداف کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن ایران جیسے بڑے، جغرافیائی طور پر پیچیدہ اور وسیع ملک کے خلاف صرف فضائی حملے فیصلہ کن سیاسی فتح کی ضمانت نہیں دیتے۔ کسی ملک کی فوجی تنصیبات کو تباہ کرنا اور اس ملک کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کرنا دو مختلف اہداف ہیں۔
ایران کے پاس میزائلوں اور ڈرونز کی ایسی صلاحیت موجود ہے جس کے ذریعے وہ خطے میں امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو خطرے میں رکھ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا ایران پر حملے کرکے اسے نقصان تو پہنچا سکتا ہے، لیکن اسے یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ ایران جواب میں جنگ کو کس حد تک وسیع کرسکتا ہے اور امریکی افواج اور مفادات کے لیے خطرہ کتنا بڑھ سکتا ہے۔ ایک اور اہم مسئلہ جنگ کا دورانیہ ہے۔ امریکا کے پاس ایران کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت شاید مختصر مدت میں موجود ہو، لیکن اگر جنگ کئی ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہتی ہے تو امریکی فوجی ذخائر، میزائل شکن نظام، جنگی طیاروں، بحری وسائل اور رسد پر دباؤ بڑھتا جائے گا۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایران کی کم فوجی طاقت بھی امریکا کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بن سکتی ہے۔
امریکی طاقت کی ایک بڑی علامت اس کے طیارہ بردار بحری جہاز اور جدید جنگی بحری بیڑے ہیں، لیکن یہ بھی محدود وسائل ہیں۔ انہیں طویل عرصے تک ایک ہی خطے میں تعینات رکھنے کے لیے مسلسل ایندھن، رسد، مرمت اور عملے کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ جنگ جتنی طویل ہوتی جائے گی، امریکا کے لیے فوجی طاقت برقرار رکھنا اتنا ہی پیچیدہ ہوتا جائے گا۔
عامر خاکوانی کے تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ امریکا کے پاس ایران کے مقابلے میں اتنی فوجی طاقت ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتا ہے، لیکن تباہی پھیلانا اور جنگ جیتنا ایک ہی چیز نہیں۔ امریکا اگر ایرانی فوجی تنصیبات، میزائل اڈوں اور دیگر اہداف کو مسلسل نشانہ بھی بنائے تو اسے آخرکار یہ سوال درپیش ہوگا کہ ایران کو کب اور کیسے اپنی سیاسی شرائط ماننے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
یہی ایران کی ممکنہ حکمت عملی کا سب سے اہم پہلو ہے۔ کمزور فریق بعض اوقات طاقتور دشمن کو شکست دینے کے بجائے اس کی فتح کو ناممکن یا ناقابل برداشت بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ایران جنگ کو طویل کرکے امریکی وسائل خرچ کراتا، مسلسل میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھتا اور امریکا کو بڑے پیمانے پر دفاعی نظام استعمال کرنے پر مجبور کرتا ہے تو وہ اپنی محدود فوجی طاقت کے باوجود جنگ کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
امریکا کے لیے ایک اور مشکل یہ ہے کہ جدید ہتھیار انتہائی پیچیدہ اور مہنگے ہیں۔ جنگ کے دوران استعمال ہونے والے میزائل اور انٹرسیپٹر فوری طور پر دوبارہ نہیں بن سکتے۔ اس لیے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں امریکی فوجی برتری بہت واضح ہوسکتی ہے، لیکن طویل جنگ میں سوال تبدیل ہوجاتا ہے کہ امریکا اپنے جنگی وسائل کتنی دیر تک اسی رفتار سے استعمال کرسکتا ہے۔ ویت نام اور افغانستان کی مثالیں بھی یہ بتاتی ہیں کہ دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت ہونا سیاسی فتح کی ضمانت نہیں۔ امریکا ان دونوں جنگوں میں اپنے مخالفین سے کہیں زیادہ طاقتور تھا، لیکن بالآخر اسے ایسے نتائج کا سامنا کرنا پڑا جو امریکی خواہشات کے مطابق نہیں تھے۔ ایران کے معاملے میں بھی اصل امتحان یہی ہے کہ امریکا اپنی فوجی برتری کو کس طرح ایک واضح اور قابل حصول سیاسی کامیابی میں تبدیل کرتا ہے۔
چنانچہ ایران کے خلاف موجودہ جنگ کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ امریکا ایران کو کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے؛ اس سوال کا جواب واضح ہے کہ امریکی فوجی طاقت ایران سے کہیں زیادہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکا ایران کو اتنے طویل عرصے تک دباؤ میں رکھ سکتا ہے کہ تہران اپنی شرائط چھوڑنے پر مجبور ہوجائے، اور کیا وہ اس دوران اپنے میزائل، انٹرسیپٹرز، طیاروں، بحری وسائل اور دیگر جنگی صلاحیت کو مسلسل برقرار رکھ سکتا ہے۔ بظاہر ایران اس جنگ میں امریکہ کے خلاف طویل عرصے تک مزاحمت پر تیار دکھائی دیتا ہے۔
