انگلینڈ بورڈ نے کرکٹ کو سیاست کے لیے کیسے استعمال کیا؟

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے دوران پہلی مرتبہ ایک بڑے بین الاقوامی کرکٹ مقابلے کی لائیو کوریج میں کھانے کے وقفے کے دوران عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان کا سیاسی نوعیت کا انٹرویو نشر کیے جانے پر ایک تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

یاد ریے کہ کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھنے کی روایت رہی ہے اور بین الاقوامی کرکٹ میچوں کی براہ راست نشریات میں زیادہ تر توجہ کھیل، کھلاڑیوں اور میچ سے متعلق معاملات پر ہی مرکوز رہتی ہے۔ تاہم 27 اگست کو لارڈز میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز سکائی سپورٹس نے عمران خان کے دونوں بیٹوں کا 18 منٹ طویل انٹرویو نشر کیا، جس میں ان کے والد کی صحت، جیل میں حالات، سیاسی حیثیت اور حکومت کے رویے سے متعلق متعدد دعوے اور الزامات سامنے آئے۔ اس انٹرویو نے اس لیے بھی خاصی توجہ حاصل کی کہ یہ کسی عام سیاسی پروگرام کے دوران نہیں بلکہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری ایک بڑے بین الاقوامی کرکٹ مقابلے کی نشریات کے دوران کھانے کے وقفے میں کیا گیا۔ اس طرح دنیا بھر میں میچ دیکھنے والے بڑی تعداد میں ناظرین کے سامنے عمران خان کے بیٹوں کا سیاسی مؤقف بھی پہنچا۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ارب پتی گولڈ سمتھ خاندان نے پاکستان اور انگلینڈ کے میچ کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا لائیو انٹرویو چلوانے کے لیے سکائی نیوز کو پیسے دیے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سکائی نیوز سے میچ کے دوران ایئر ٹائم خریدا گیا تھا جس کے دوران انٹرویو چلایا گیا۔ تاہم ماضی میں کرکٹ کی تاریخ میں ایسی کوئی روایت نہیں ملتی کہ کسی سیاسی معاملے کو چلتے میچ کے دوران ڈسکس کیا گیا۔ اس معاملے پر لندن میں مقیم پاکستانی صحافی اظہر جاوید نے برطانیہ کے نشریاتی ریگولیٹر "آف کام” میں سکائی سپورٹس کے خلاف باقاعدہ شکایت بھی دائر کر دی ہے۔

اپنی شکایت میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ انہیں سکائی اسپورٹس یا انگلینڈ کے سابق کپتان اور معروف کرکٹ مبصر مائیکل ایتھرٹن کی جانب سے عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو کرنے پر اصولی اعتراض نہیں، بلکہ ان کی شکایت انٹرویو کے ادارتی انداز، غیر جانب داری، درستگی، سیاق و سباق اور مخالف مؤقف کی مناسب عکاسی سے متعلق ہے۔ اظہر جاوید نے آف کام سے درخواست کی ہے کہ وہ مکمل انٹرویو کا جائزہ لے اور یہ دیکھے کہ کیا سکائی سپورٹس نے ایک لائیو کرکٹ میچ کے دوران ایسے سنگین اور متنازع سیاسی الزامات نشر کرتے ہوئے برطانوی نشریاتی ضابطے کے تحت درکار غیر جانب داری اور درستگی کے اصولوں پر عمل کیا یا نہیں۔

ان کی شکایت میں کہا گیا ہے کہ انٹرویو کے دوران عمران خان کی قید، صحت، جیل میں حالات اور پاکستانی ریاستی اداروں کے کردار سے متعلق سنگین دعوے سامنے آئے۔ چونکہ یہ معاملات پاکستان میں انتہائی متنازع سیاسی اور قانونی موضوعات ہیں، اس لیے ضروری تھا کہ ناظرین کو یہ بھی بتایا جاتا کہ ان الزامات پر پاکستانی حکومت اور متعلقہ حکام کا کیا مؤقف ہے۔ اظہر جاوید نے آف کام سے یہ بھی معلوم کرنے کی درخواست کی ہے کہ کیا سکائی سپورٹس نے پروگرام نشر کرنے سے پہلے پاکستانی حکومت سے ان الزامات پر ردعمل حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اگر حکومت سے کوئی جواب لیا گیا تھا تو یہ بھی دیکھا جائے کہ اسے پروگرام میں پیش کیا گیا یا نہیں۔

اظہر جاوید کا کہنا ہے کہ انٹرویو میں یہ واضح ہونا چاہیے تھا کہ کون سی بات آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے، کون سا دعویٰ عمران خان کے بیٹوں یا ان کے حامیوں کی جانب سے کیا گیا ہے، کون سی بات متنازع ہے اور پاکستانی حکومت کا اس بارے میں کیا مؤقف ہے۔ ان کے مطابق ایک بڑے بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے وابستہ پروگرام میں کیے جانے والے سنگین الزامات کے بارے میں ناظرین کو مناسب سیاق و سباق فراہم کرنا ضروری ہے۔ سکائی سپورٹس کے انٹرویو کے علاوہ عمران خان کے بیٹے سلیمان خان نے بی بی سی نیوز سے گفتگو میں بھی اپنے والد کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا طبی معائنہ کسی غیر جانب دار ڈاکٹر یا ان کے اپنے ڈاکٹر سے کرایا جائے اور اس کے نتائج بھی منظر عام پر لائے جائیں۔
سلیمان خان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی حکومت کے مطابق ان کے والد کی صحت ٹھیک ہے تو حکومت کو اس کا ثبوت فراہم کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران عمران خان کی صحت بتدریج خراب ہوئی ہے اور اب صورتحال تشویش ناک حد تک پہنچ چکی ہے۔

عمران خان کے دوسرے بیٹے قاسم خان نے بھی اپنے والد کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور سلیمان اپنے والد کو ہمیشہ ایک مضبوط اور باوقار شخصیت کے طور پر دیکھتے آئے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کے بارے میں ذہنی دباؤ، اضطراب، بلند فشار خون اور دل کی دھڑکن تیز ہونے جیسی اطلاعات دونوں بھائیوں کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہیں۔ قاسم خان نے کہا کہ دونوں بھائی اپنے والد سے ملنا چاہتے ہیں تاکہ خود یہ دیکھ سکیں کہ ان کی حالت کیا ہے۔

تاہم دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے پمز میں ہونے والے طبی معائنے کے دوران الشفا ہسپتال کے چھ ڈاکٹرز کے بورڈ نے عمران خان کو مکمل طور پر صحت مند قرار دیا تھا۔ اس میڈیکل چیک اپ کے دوران اپنے بھائی کے ساتھ موجود عمران کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمی خان نے بھی بعد اذاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ عمران خان مکمل صحت مند ہیں اور ان کا بلڈ پریشر بھی مکمل طور پر نارمل ہے۔ یہ تنازہ ابھی جاری تھا کہ سکائی نیوز نے چلتے کرکٹ میچ کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو کر ڈالا۔

اس معاملے میں سب سے زیادہ اہم بات انٹرویو کا وقت اور مقام ہے۔ عمران کے بیٹوں کا یہ انٹرویو تب نشر کیا گیا جب لارڈز میں جاری ٹیسٹ میچ کو دنیا بھر میں کرکٹ شائقین دیکھ رہے تھے۔ ایسے میں ایک سابق وزیر اعظم کے بیٹوں کا سیاسی انٹرویو، جس میں حکومت اور ریاستی اداروں کے بارے میں سنگین الزامات بھی سامنے آئے، کرکٹ اور سیاست کو الگ رکھنے کی روایت کے حوالے سے ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ یاد ریے کہ اس سے پہلے گزشتہ ہفتے مائیکل ایتھرٹن سمیت 21 سابق کرکٹرز نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ایک خط لکھا تھا، جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ عمران کو جیل میں مناسب طبی سہولتیں فراہم کیے جانے کو یقینی بنایا جائے۔ اس خط پر بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے سابق کپتانوں کے دستخط بھی تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے لائیو میچ کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا سیاسی انٹرویو چلانے پر کوئی موقف نہیں دیا۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ آف کام اس حوالے سے سینیئر صحافی اظہر جاوید کی دائر کردہ شکایت کا جائزہ لیتا ہے یا نہیں؟

Back to top button