کالعدم بی ایل اے کی کم عمر بچیوں کو ورغلا کر خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش ناکام

وزیرِ داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو کا کہنا ہےکہ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے کم عمر بچیوں کو خودکش حملے میں استعمال کرنے کا کالعدم بی ایل اے کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ دہشت گرد چادر اور چار دیواری کی پامالی کرنا چاہتے ہیں،دہشت گرد بلوچ روایات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہےہیں،بلوچوں کی روایت نہیں کہ وہ پہاڑوں میں نامحرموں کے ساتھ وقت گزاریں،ان کو جھوٹے بیانِیےکو پھیلانے کےلیے ورغلایا جارہا ہے، جو قابل مذمت ہے۔
وزیرِ داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو نے کہاکہ جنوبی بلوچستان میں فتنہ الہندوستان نے کم عمر بچیوں کو ورغلا کر خودکش حملہ کرانے کی کوشش کی جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بنادیا،ان بچیوں کے والدین اور رشتے داروں پر حیرانی ہےکہ کیسے انہیں جانےدیا، 16 سالہ زینب اور 12 سالہ فاطمہ کو ورغلایا گیا، 40 دن تک ان کو کال کوٹھری میں رکھاکہ آپ نے خودکش دھماکا کرنا ہے،ان بچیوں کو مکران سے اپنے ساتھ ملایاگیا اور خودکش حملے کےلیے ورغلایا گیا۔
میر ضیااللہ لانگو نے کہاکہ حکومت بچیوں کو صحت،تعلیم اور پڑھائی کےلیے بہترین مواقع فراہم کررہی ہے، ان بچیوں کے والدین ندامت محسوس کر رہے ہیں،بچیوں کے والدین حیران ہیں کہ کیسے ان کی بچیاں غیرمردوں کے ساتھ پہاڑوں میں تھیں۔
وزیرداخلہ بلوچستان نے کہاکہ دہشت گردوں کے خلاف ہماری فورسز نبردآزما ہیں،فورسز مسلسل جنگ میں مصروف ہیں،اگر ایک واقعہ ہوتا ہےتو سکیورٹی فورسز 10 واقعات روکتی بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کی جانب سے زینب کے شوہر سمیت خاندان کے 8 سے 10 افراد کو قتل کیاگیا۔
وزیر داخلہ نے بتایاکہ کالعدم بی ایل اے کے ایک مقامی کمانڈر نے سیف کو تنظیم کے مقاصد کےلیے استعمال کرنےکی کوشش کی،اس مقصد کےلیے کمانڈر نے کسی ذریعے سے سیف کا موبائل نمبر حاصل کیا اور اس سے رابطہ کرکے اپنے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی،تاہم ناکامی کےبعد مبینہ طور پر سیف کو قتل کر دیا گیا۔
میر ضیا لانگو کےمطابق سیف کی لاش، اس کا موبائل فون اور دیگر سامان گھر پہنچایاگیا،تاہم اس کے بعد مذکورہ کمانڈر نے زینب سے رابطہ کیا اور اسے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اس کے شوہر کو ریاستی اداروں نے قتل کیا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہاکہ یہی وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے دہشت گرد نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور اپنے مقاصد کےلیے استعمال کرنے کی کوشش کرتےہیں،خواتین اور بچیوں کو پہاڑوں پر لے جاکر مسلح گروہوں کے ساتھ رکھنے کا عمل بلوچ روایات کے منافی ہے۔
میر ضیا لانگو نے کہا کہ بلوچ معاشرےمیں خواتین، بہنوں اور بیٹیوں کے احترام کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے،تاہم دہشت گرد گروہ مبینہ طور پر خواتین اور کم عمر بچیوں کو اپنے مقاصد کےلیے استعمال کر کے ان روایات کو نقصان پہنچارہے ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ نے بیرون ملک مقیم بلوچ افراد سے سوال کیاکہ کیا وہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو کسی نامحرم مرد کے ساتھ پہاڑوں پر بھیجنےاور مسلح گروہوں کے ساتھ رہنےکی اجازت دیں گے۔
انہوں نے کہاکہ دہشت گرد تنظیمیں بھارت کے بیانیے کےتحت بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں،دہشت گردی کی کارروائیوں کےلیے خواتین اور بچوں کو استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔
میر ضیا لانگو نے کہاکہ ریاست دہشت گردی کےخلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور عوام کو گمراہ کرنے کےلیے پھیلائے جانے والے بیانیے کا بھی مقابلہ کیا جائے گا۔
اس موقع پر زینب نے انکشاف کیاکہ کالعدم بی ایل اے کمانڈر نے میرے شوہر کے قتل کا الزام اداروں پر لگایا،مجھے شوہر کے قتل کا بدلہ لینے کےلیے آمادہ کیاگیا،کم عمر فاطمہ میری کزن اور ہروقت میرے ساتھ ہوتی تھی،میرے ساتھ ہونےکی وجہ سے فاطمہ مقامی کمانڈر سے رابطے میں آئی۔
زینب نےبتایا کہ فاطمہ کے والد کو بھی کالعدم بی ایل اے نے دہشت گردی کا نشانہ بنایا،فاطمہ کو میری طرح جذباتی بناکر بی ایل اے کا حصہ بننے پر راضی کیاگیا،ہم دونوں اداروں سے بدلہ لینے کی باتوں میں آکر بی ایل اے کے پاس پہنچیں۔
فیلڈ مارشل کا آرڈیننس فیکٹری واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا
زینب نے مزید بتایاکہ ہمیں 40 روز تک نامعلوم مقام پر رکھاگیا،نامعلوم مقام پر موجود لوگوں نے ہمیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔
