مسئلہ وسائل کی ناہمواری کا ہے

تحریر: ایاز میر
بشکریہ: روزنامہ دنیا

کہنا تو چاہیے تھا کہ مسئلہ غربت کا ہے لیکن جہاں معصوم جانوں کی بات ہو الفاظ سوچ کے چننے پڑتے ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں آج کل کون جاتا ہے؟ یا تو افسر جن کی دیکھ بھال ہو جاتی ہے‘ یا بے چارے وہ لاچار جن کے پاس پرائیویٹ علاج کرانے کے وسائل نہیں ہوتے۔ جہاں بچے کی ڈلیوری کا معاملہ ہو باوسیلہ افراد سرکاری ہسپتالوں میں نہیں جاتے‘ چاہے وہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال ہو یا پمز اسلام آباد۔ جس کے پاس تھوڑے سے بھی وسائل ہوں ڈلیوری کے لیے پرائیویٹ کلینک یا پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ اسی لیے ان ڈاکٹروں کی چاندی لگی ہوئی ہے۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ سرکاری ہسپتال بدانتظامی کا شکار ہیں تو یہ ہمارا عمومی مسئلہ ہے کیونکہ جس ادارے کو دیکھیں وہاں پاکستانی معاشرے کی خاصیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رشوت چلتی ہے‘ سفارشیں کارفرما ہوتی ہیں اور بڑوں سے لے کر نیچے طبقے تک کام کرنے کا شوق ناپید ہوتا ہے۔
عسکری ادارو ں کی بات اور ہے مگردوسرا کون سا شعبہ یا محکمہ ہے جہاں دیانت یا لگن نام کی چیز نظر آئے۔ ایک سرکاری محکمے کا کوئی نام تو لے جہاں رشوت اور بدعنوانیاں نہیں پائی جاتیں۔ محکمہ مال ہو یا پولیس‘ واپڈا ہو یا کوئی اور محکمہ قائداعظم والی تصویر جیب میں نہ ہو تو کام ہونا تو دور کی بات رہی آپ کو سننے کے لیے کوئی تیار نہ ہو گا۔ انگریز یہاں ریلوے چلا گئے‘ ہندوستان میں ریلوے نظام ٹھیک سے چل رہا ہے ہم سے نہ چلایا گیا اور اب تو ریلوے نظام تباہی کے دہانے سے آگے پہنچ چکا ہے۔ روسیوں نے ہمیں کراچی میں سٹیل مل لگا کے دی وہ ہم سے نہ چلی۔ ایک زمانے میں پی آئی اے کا نام ہوا کرتا تھا لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد پی آئی اے کو بھی معاشرے کی عمومی خاصیتوں نے دھر لیا۔ ان سب تباہیوں کے تناظر میں اسلام آباد کے بڑے ہسپتال یعنی پمز کا حال کیسے مختلف رہ سکتا تھا؟ یہ ہسپتال جاپان کے پیسے سے بنا اور شروع دن سے ہی جب اس کی کنسٹرکشن ہو رہی تھی تو نظر آتا تھا کہ پاکستانی ہاتھ اس منصوبے کو لگ گئے ہیں کیونکہ کنسٹرکشن کا معیار بہت غیرمعیاری تھا۔ باہر کا پیسہ کسی پراجیکٹ کے لیے آ رہا ہو اور یہاں کام ٹھیک سے ہو جائے یہ ناممکن ہے۔ اس میں گھپلے ہونے ہی ہیں۔ نیلم جہلم پراجیکٹ کا حال دیکھ لیں۔ پراجیکٹ مکمل ہوا تھا کہ اُس میں نقص آنے لگے اور اب ناجانے کس قسم کی مرمت کے لیے پراجیکٹ بند پڑا ہے۔ کسی اور ملک میں ایسا ہوتا تو گردنیں اُڑ جاتیں لیکن یہاں کون پوچھنے والا ہے۔
ایسا مضحکہ خیز معاشرہ بن چکا ہے کہ بری امام کے گرد کم طاقت رکھنے والے افراد کے گھر مسمار کیے جائیں تو کچھ نہیں ہوتا۔ کانسٹیٹیوشن ایونیو والی بلڈنگ کی بے ضابطگیوں کا مسئلہ سامنے آئے تو وزیراعظم کا دفتر حرکت میں آ جاتا ہے۔ عدالت کے آرڈر ہیں کہ پراجیکٹ غیر قانونی ہے لیکن اوپر کی مداخلت کی وجہ سے کوئی گمنام قسم کی انکوائری چل رہی ہے‘ بلڈنگ کھڑی ہے اور اُس کے بااثر مکینوں کی آنیاں جانیاں جاری ہیں۔ پمز میں یہ اندوہناک واقعہ ہو گیا کہ معصوم جانیں لقمۂ اجل بن گئیں نہیں تو سالوں سے پمز کے حالات تو ایسے ہی ہیں۔ سارے سپیشلسٹ بیٹھے ہوئے ہیں‘ ساروں کی پرائیویٹ پریکٹس ہے۔ دفتری اوقات میں جن کے پاس جائیں تو لمبا منہ بن جاتا ہے‘ شام کو پرائیویٹ کلینک میں فیس دیں توچہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ پمز صرف اسلام آباد کی آبادی کو کور نہیں کرتا۔ پورے شمالی پنجاب کے مریض جب ان کا علاج کہیں اور نہ ہو سکے تو پمز کی طرف آتے ہیں۔ یعنی اس ادارے پر مریضوں کا بوجھ بہت ہے اور وہ اس لیے کہ عوام کو طبی سہولتیں فراہم کرنا وہ تو یہاں کی کبھی ترجیح نہیں رہی۔ چکوال کا ڈی ایچ کیو اچھا بھلا بڑا ہسپتال ہے‘ ڈاکٹروں سے بھرا پڑا ہے لیکن تھوڑی سی پیچیدہ بیماری ہوئی اور ڈاکٹروں نے فوراً بے نظیر ہسپتال کا یا پمز کا لکھ دیا۔ برسوں سے ایسا ہوتا رہا ہے کہ گاؤں یا چکوال کے لوگ آ کے کہتے کہ پمز جا رہے ہیں کسی ڈاکٹر سے پلیز کہہ دیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر یا کسی اور کو فون کیا بھی اور وہاں سے ریسپانس بھی آیا لیکن یہ تو انفرادی رسائی کی بات ہوئی۔ حالات ہی پمز کے ایسے ہیں کہ کوئی ایمرجنسی میں پہنچے تو یوں سمجھیے کہ رُل جاتا ہے۔ کوئی سفارش یا پہچان ہو گئی تو کام ہو گیا نہیں تو حالات کیا ڈاکٹروں کے لیے اور کیا مریضوں کے لیے بس ویسے ہی ہیں۔
سرکار اپنے کاموں میں لگی رہتی ہے۔ حکمرانی کے اللے تللے دیکھیں تو کہیں ختم نہیں ہوتے۔ مانگے تانگے پر ملک چل رہا ہے لیکن فضولیات کے لیے یہاں پیسہ بہت ہے۔ جو عوام کی بنیادی سہولتیں ہیں اس پر بس زبانی جمع خرچ ہوتا ہے۔ نظامِ صحت اور نظامِ تعلیم یہ ہماری ریاست میں کہاں بڑی ترجیحات رہی ہیں؟ اگر صحت کے حوالے سے پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے تو پڑھائی کے شعبے میں بھی یہی صورتحال ہے۔ نچلی سطح پر سرکاری سکولوں میں مجبور اور لاچار لوگ ہی جاتے ہیں۔ میں گاؤں میں دیکھتا ہوں کہ پرائیویٹ سکول کھلے ہوئے ہیں‘ جس کے پاس تھوڑے سے وسائل بھی ہوں انہی سکولوں میں اپنے بچے کا داخلہ کرتے ہیں۔ یہ جو پمز کا واقعہ ہوا ہے اس کا کیا کہیں؟ مجبوری اور بدقسمتی کی داستانوں میں سے ایک اور داستان۔ دو سرکاری ہسپتال ہیں اسلام آباد میں‘ ایک پمز دوسرا پولی کلینک وہ ہم سے ٹھیک طرح چلتے نہیں اور یار لوگ اسی پر خوش ہوتے ہیں کہ ملک کا پروفائل بڑھ گیا ہے‘ پاکستان کی بات واشنگٹن اور تہران میں سنی جاتی ہے۔
گناہ کی فہرستیں ہم نے خوامخواہ لمبی بنائی ہوئی ہیں حالانکہ سب سے بڑا گناہ پاکستان میں غریب ہونا ہے۔ غربت کے مارے آپ ہوں تو جینا یہاں مشکل ہے۔ ہر چیز کے لیے محتاج ہونا ہر چیز کے لیے ہاتھ اٹھانا۔ سڑکوں پر حال دیکھ لیں‘ کسی بڑی گاڑی کو ٹریفک والا نہیں روکے گا۔ موٹرسائیکل سواروں کو دھر لیا جائے گا۔ تھانے میں قدم رکھیں تو محرر سے لے کر ایس ایچ او تک اوپر سے نیچے نظر دوڑائے گا کہ کتنے کی اسامی ہے اور کتنا دینے والا ہو سکتا ہے۔ پٹواری کو پہلے شیرینی نہ پیش کی جائے تو اوپر دیکھے گا نہیں۔ کسی سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی میں چلے جائیں ڈاکٹر بیزار نظر آئیں گے۔ تعیناتی کے لیے مرتے ہیں‘ تب جتنا ناک رگڑنا پڑے اس کے لیے تیار ہوں گے‘ سرکاری ہسپتال میں تعیناتی ہو گئی تو پرائیویٹ پریکٹس کا سوچنے لگیں گے۔
جہاں تک بڑے ہیں ان کی بات نہ کیجئے۔ عجیب پاکستانی بیماری ہے کہ جن کے پاس بہت ہے وہ (پنجابی کا لفظ ہے) ‘رجتے‘ نہیں۔ اوپر سے لے کر نیچے تک بدعنوانی اور رشوت لینا سرکاری کردار کا حصہ بن گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہا جاتا تھا کہ سی ایس ایس اور پی ایس پی کے افسر رشوت نہیں لیتے۔ عدلیہ کے بارے میں بھی ایک زعم ہوا کرتا تھا۔ سب زعم ختم ہو گئے ہیں۔ جس کا جتنا بس چلے بہتی ندی میں ہاتھ چلاتا ہے۔
لی کوان یو‘ سنگارپور کے تاریخی وزیراعظم‘ اگلے روز ان کی ایک پرانی تقریر سن رہا تھا۔ کہہ رہے تھے کہ جن معاشروں میں کرپشن اور بدعنوانی اوپر سے نیچے رچ بس جائے یہ کیفیت پھر عام طریقوں سے ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ درست کرنے کے لیے پھر ایک انقلاب چاہیے ہوتا ہے۔ یہاں کون انقلاب لائے گا؟ یہاں تو بس ایسا ہی کام چلتا رہے گا۔

Back to top button