مکہ سے اتحاد کا پیغام

تحریر: انصار عباسی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
دہائیوں سے یہ دیکھنے کیلئے آنکھیں ترس گئی تھیں۔ مسلمانوں کی کئی نسلیں مسلم امہ اور اتحاد کا خواب دیکھتے دیکھتے اس دنیا سے چلی گئیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ اس خواب کی تعبیر ہمیں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ہمارے رب نے شاید ہماری قسمت میں یہ لکھا تھا کہ ہم وہ مایوس کن دور اپنی آنکھوں سے دیکھیں جب مسلمانوں کو دنیا کے سامنے بار بار سخت تذلیل کا نشانہ بنایا گیا، ایک کے بعد دوسرے مسلم ملک کو تباہ کیا گیا، بستیاں اجاڑی گئیں، لاکھوں مسلمان بے گھر ہوئے اور عالمِ اسلام کی اجتماعی قوت محض ایک خواب بن کر رہ گئی۔
خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا سیاسی طور پر بکھرتی چلی گئی۔ نقشے بدل گئے، سرحدیں کھینچ دی گئیں، مسلم ممالک الگ الگ ریاستوں میں تقسیم ہوگئے اور ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کی طاقت درجنوں ملکوں میں بٹ کر رہ گئی۔ فلسطین کا المیہ، کشمیر کا مسئلہ، عراق، شام، لیبیا، افغانستان اور دوسرے ممالک کی تباہی نے اس احساس کو مزید گہرا کیا کہ مسلمان تعداد میں بہت ہیں مگر اجتماعی قوت کے اعتبار سے کمزور ہیں۔ اسی پس منظر میں مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا تاریخی دفاعی معاہدہ محض تین ملکوں کے درمیان ایک معمول کا دفاعی سمجھوتہ نہیں۔ یہ ایک ایسی خبر ہے جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے۔ الحمدللہ، ہماری زندگی کی بڑی خوشیوں میں اب یہ خوشی بھی شامل ہوگئی ہے۔ اس معاہدے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ تینوں ممالک نے اس اصول کو تسلیم کیا ہے کہ ایک رکن پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے اسے نیٹو کے آرٹیکل 5 کے تکنیکی طور پر مماثل قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عام طور پر ’’مسلم نیٹو‘‘ کا نام دیا جارہا ہے۔ تاہم اس کی اصل اہمیت نام میں نہیں بلکہ اس اجتماعی عزم میں ہے جو اس معاہدے کے پیچھے موجود ہے۔ یہ منظر اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اس اتحاد میں تین مختلف مگر انتہائی اہم مسلم طاقتیں اکٹھی ہوئی ہیں۔ پاکستان کے پاس ایک بڑی اور تجربہ کار فوج اور جوہری صلاحیت ہے، ترکیہ ایک مضبوط عسکری اور دفاعی صنعتی طاقت ہے، جبکہ سعودی عرب عالمِ اسلام میں اپنی مذہبی اور معاشی اہمیت رکھتا ہے۔ ان تینوں کی قوتیں مل کر ایک ایسا دفاعی وزن پیدا کرتی ہیں جسے دنیا نظرانداز نہیں کرسکتی۔ اور شاید اس سے بھی زیادہ خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ دروازہ بند نہیں کیا گیا۔ ترک قیادت کی طرف سے واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ دوسرے ممالک بھی اس انتظام کا حصہ بن سکتے ہیں اور مصر کی شمولیت کی خاص طور پر بات کی گئی ہے۔
مصر کی شمولیت اس اتحاد کو ایک اور تاریخی جہت دے سکتی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر پہلے ہی باقاعدہ مشاورت اور رابطے میں ہیں۔ اگر آنے والے دنوں میں قطر، کویت اور دیگر اہم عرب و مسلم ممالک بھی اس دفاعی تعاون کا حصہ بنتے ہیں تو یہ محض ایک دفاعی معاہدہ نہیں رہے گا بلکہ عالمِ اسلام کی اجتماعی سلامتی کے ایک نئے تصور کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کون سا ملک کب شامل ہوگا، لیکن اس معاہدے کا دروازہ دوسروں کے لیے کھلا رکھنا بذاتِ خود ایک بڑی پیش رفت ہے۔ مجھے اس موقع پر سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ کئی دہائیوں سے مسلمان جس اجتماعی قوت کے لیے دعائیں کرتے رہے ہیں، اس کی ایک عملی شکل دکھائی دینے لگی ہے۔ ہم نے برسوں تک یہ منظر دیکھا کہ مسلم ممالک الگ الگ نشانہ بنتے رہے اور باقی مسلم دنیا صرف مذمت، قراردادوں اور بیانات تک محدود رہی۔ اب اگر ایک مسلمان ملک کے خلاف جارحیت کو تین ملک اپنے خلاف جارحیت سمجھنے لگیں تو یہ ذہنیت کی ایک بڑی تبدیلی ہے۔
گزشتہ برس بھارت کے ساتھ جنگ میں پاکستان کی کامیابی نے بھی عالمِ اسلام میں پاکستان کے بارے میں ایک نیا اعتماد پیدا کیا۔ اس کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون ایک ایسے سلسلے کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے جو مسلم دنیا میں پاکستان کے کردار کو مزید اہم بنا سکتا ہے۔ کچھ حلقوں میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ اتحاد ایران کے خلاف ہے۔ میرے خیال میں یہ تصور درست نہیں۔ ترک وزیر خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ ایران یا کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔ ایران عالمِ اسلام کا ایک اہم ملک ہے۔ اس لیے اگر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ واقعی مسلم دنیا کی وسیع تر اجتماعی سلامتی چاہتے ہیں تو بہتر ہوگا کہ مستقبل میں ایران کو بھی اس دفاعی تعاون کا حصہ بننے کی دعوت دی جائے۔ ایران کی طرف سے اس وقت اس معاہدے کے بارے میں کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا لیکن امید کرنی چاہیے کہ تہران بھی اسے مسلم ممالک کی اجتماعی سلامتی کے تناظر میں دیکھے گا۔ یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف جنگ کی دعوت نہیںاس کے برعکس اس کی اصل طاقت جنگ کو روکنے کی صلاحیت میں ہونی چاہیے۔ ایک مضبوط دفاع دشمن کو حملے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی اجتماعی دفاع کا فلسفہ ہے۔ بلاشبہ اس پیش رفت سے اسرائیل اور بھارت کافی پریشان ہیں۔ ایک طرف اسرائیل کے لیے یہ پیغام ہے کہ مسلم دنیا ہمیشہ منتشر اور بے بس نہیں رہے گی، جبکہ دوسری طرف بھارت کے لیے یہ حقیقت اہم ہے کہ پاکستان اب صرف ایک ملک نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے مسلم دفاعی تعاون کا ایک مرکزی ستون بن رہا ہے۔
لیکن اس اتحاد کی اصل کامیابی کسی ملک کو شکست دینے میں نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف جارحیت کے امکانات کو کم کرنے میں ہوگی۔ ہمیں اس خوشی کے ساتھ دعا بھی کرنی چاہیے کہ یہ آغاز محض کاغذی معاہدہ ثابت نہ ہو۔ مسلم ممالک دفاع کے ساتھ معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم، تجارت اور سفارت کاری میں بھی ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ اگر مسلم دنیا اپنی انسانی، قدرتی، معاشی اور عسکری قوتوں کو باہم جوڑ لے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے نظرانداز نہیں کرسکتی۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم اتحاد کا خواب دیکھنے والی نسلیں تو رخصت ہوگئیں، مگر خواب ختم نہیں ہوا۔ آج مکہ مکرمہ سے آنے والی یہ خبر اس خواب میں نئی جان ڈال رہی ہے۔ الحمدللہ! شاید ہم اپنی آنکھوں سے اس سفر کا آغاز دیکھ رہے ہیں جس کی دعا ہمارے بزرگ دہائیوں سے کرتے آئے تھےکہ ایک ایسی مسلم امہ جو تقسیم اور بے بسی کی علامت نہیں بلکہ اتحاد، وقار، امن اور اجتماعی طاقت کی پہچان ہو۔ یہ سفر ابھی بہت طویل ہے، مگر پہلا قدم اٹھ چکا ہے۔ اور بعض اوقات تاریخ میں ایک قدم ہی آنے والی کئی دہائیوں کی سمت متعین کردیتا ہے۔
