بنگلہ دیش عوامی انقلاب کے 2 برس

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
رواں برس فروری میں بنگلہ دیش عام انتخابات کی کوریج کیلئے ڈھاکہ جانا ہوا تو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما میجر جنرل (ر) فضل الٰہی اکبر سے ملاقات ہوئی جو بیگم خالدہ ضیا کے سیکورٹی ایڈوائزر رہے ہیں۔ میں جاننا چاہ رہا تھا کہ شیخ حسینہ کی رُخصتی میں بنگلہ دیش کی فوج کا کیا کردار رہا ۔ انہوں نے جولائی کی عوامی بغاوت کے حوالے سے بعض ایسے انکشافات کئے جو یقیناً آپ کیلئے بھی دلچسپی کا باعث ہونگے۔ بی این پی نے 10فروری 2026ء کی شام ڈھاکہ کے پنج تارہ ہوٹل میں غیر ملکی صحافیوں اور مندوبین کیلئے عشائیے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ تقریب ختم ہونے کے بعد جب مہمان رخصت ہونے لگے تو ایک کونے میں بیٹھے میجر جنرل (ر) فضل الٰہی اکبر نے وہ واقعات بیان کئے جن کے وہ عینی شاہد ہیں۔ بالعموم ریٹائرڈ فوجی افسر حاضر سروس فوجی قیادت سے کوئی نہ کوئی تعلق جوڑ لیتے ہیں مگر میجر جنرل (ر) فضل الٰہی اکبر نے کہا کہ ان کا آرمی چیف جنرل وقار الزماں سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ ملاقات تو کیا کبھی ٹیلیفون پر بات بھی نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ 3اور4اگست 2024ء کی درمیانی شب تقریباً 12بجکر 20منٹ پر انہیں بری فوج کے سپہ سالار جنرل وقار الزماں کی ٹیلیفون کال موصول ہوئی تو وہ حیران رہ گئے۔ ٹیلیفون پر صرف یہی کہا گیا کہ صبح دس بجے تشریف لائیں، آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔چونکہ ایجنڈا واضح نہیں تھا اسلئے میجر جنرل (ر)فضل الٰہی اکبر نے پارٹی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا اور اگلے روز جنرل وقار الزماں سے ملنے چلے گئے ۔آرمی چیف نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ وہ مزید خون خرابہ نہیں چاہتے ،ان کی یہ خواہش بھی نہیں کہ وہ عنان اقتدار پر قابض ہوجائیں ،وہ تو محض اس معاملے کے سیاسی حل کے خواہاں ہیں۔ اس تناظر میں وہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے ملنا چاہتے ہیں اور اب یہ آپکی ذمہ داری ہے کہ فوری طور پر سیاسی قیادت سے رابطہ کرکے انہیں آرمی چیف کا پیغام پہنچائیں۔ میجر جنرل (ر)فضل الٰہی اکبر نے آرمی چیف کی رہائشگاہ سے نکل کر سب سے پہلے بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر سے رابطہ کیااور انہیں فوج کے سربراہ کا پیغام دیا۔ پھر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمان اور دیگر سیاسی رہنمائوں سے بات کی۔ دوپہر کے وقت انہیں جنرل وقارالزماں کے دفتر سے رابطہ کرکے کہا گیا کہ سیاسی قیادت کوملاقات کیلئے آرمی ہیڈکوارٹر بلوالیں، اگر راستوں کی بندش کے سبب کسی قسم کی دشوار ی ہوتو بتائیں۔ جاتیہ پارٹی کے جی ایم قدیر ،بی این پی کے سیکریٹری جنرل فخرالاسلام عالمگیر ،جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان اور دیگر سیاسی رہنما آرمی ہیڈکوارٹر پہنچ گئے تو آرمی چیف جنرل وقار الزماں نے یہ خوشخبری سنائی کہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد ملک چھوڑ کر جاچکی ہیں۔اسی اثنا میں آرمی چیف جنرل وقارالزماں نے بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان کے ساتھ جا کر باضابطہ طور پر میڈیا کے سامنے اعلان کیا کہ شیخ حسینہ واجد کا دور ختم ہوچکا ہے۔ فیصلہ ہوا کہ سیاسی قیادت آرمی چیف کے ساتھ ایوان صدر جائے اور صدر مملکت شہاب الدین سے عبوری حکومت کے قیام کے حوالے سے بات چیت کی جائے۔ وہاں خالدہ ضیا کو فوری طور پر رہا کرنے کی بات ہوئی تو صدر شہاب الدین نے کہا کہ جلد ہی عبوری حکومت قائم ہو جائیگی اور یہ فیصلہ اس پر چھوڑ دیا جائے ۔مگر آرمی چیف جنرل وقار الزماں نے مداخلت کرتے ہوئے کہا ’’سر!اب سب اختیارات آپ کے پاس ہیں، آپ فوری طور پر یہ احکامات جاری کرسکتے ہیں۔‘‘اس موقع پر ’’آئینہ گھر‘‘ نامی اس خفیہ عقوبت خانے کا ذکر بھی ہوا جس میں شیخ حسینہ واجد کے سیاسی مخالفین کو قید کیا گیا تھا۔بنگلہ دیش فوج کے سربراہ جنرل وقار الزماں کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے رشتہ داری تھی۔ انکی اہلیہ سارہ ناز سابق آرمی چیف جنرل مستفیض الرحمان کی بھانجی یا بھتیجی ہیںجو شیخ حسینہ واجد کے چچا (دراصل جنرل مستفیض الرحمان کی شادی شیخ مجیب الرحمان کی کزن سے ہوئی)ہیں۔جب انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ عوامی احتجاج کو ریاستی جبر سے نہیں روکا جاسکتا اور سازگار ماحول سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے خود حکومت سنبھال لینا بھی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا تو کیا فوج کے اندر سے اس فیصلے کی مخالفت نہیں ہوئی؟ اس سوال کے جواب میں میجر جنرل (ر)فضل الٰہی اکبر نے بتایا کہ 3اگست 2024ء کو آرمی چیف جنرل وقار الزماں نے آرمی ہیڈکوارٹرز میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بلایا جس میں فوجی قیادت نے اس کے فیصلے کی تائید کی مگر کچھ افسر اس بات سے ناخوش تھے اور انہوں نے عملاً جنرل وقارالزماں کا راستہ روکنے کی کوشش بھی کی۔ اس حوالے سے دو جرنیلوں کے نام لئے جاتے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف فورسز انٹیلی جنس (DG FI)جو آئی ایس آئی کی طرز کا خفیہ ادارہ ہے اسکے سربراہ میجر جنرل حامد الحق اور کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل MDمجیب الرحمان ۔میجر جنرل حامد الحق جو نومبر 2022ء سے DGFIکے سربراہ تھے، انہیں آرمی چیف جنرل وقار الزماں نے شیخ حسینہ واجد کی رخصتی کے بعد جبری طور پر ریٹائر کرکے گھر بھیج دیا ۔لیفٹیننٹ جنرل MDمجیب الرحمان جو اسپیشل سیکورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل اورریپڈ ایکشن بٹالین کے کمانڈر رہے ،پہلے انہیں کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے سے ہٹا کر آرمی ٹریننگ اینڈ ڈاکٹرائن کمانڈ کا جنرل آفیسر کمانڈ تعینات کیا گیا لیکن وہ سازشوں سے باز نہ آئے تو کچھ دن بعد انہیں فوج سے برطرف کردیا گیا۔اسی طرح لیفٹیننٹ جنرل MDسیف الاسلام جو 11ویں انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ،DGFIکے سربراہ اور کوارٹر ماسٹر جنرل رہے ،وہ جولائی کی بغاوت کے وقت نیشنل ڈیفنس کالج کے کمانڈنٹ تھے ۔شیخ حسینہ کی رخصتی کے بعد انہیں ڈیپوٹیشن پر وزارت خارجہ بھیج دیا گیا مگر تخریبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا تو 12ستمبر 2024ء کو نہ صرف انہیں فوج سے جبری طور پر ریٹائر کردیا گیا بلکہ انکے اور انکی اہلیہ لبنیٰ کے بینک اکائونٹ بھی منجمد کردیئے گئے۔ گویا جنرل وقارالزماں نے فوج کو سیاست سے دور رکھنے کی کوشش کی تو انہیں شدید مزاحمت اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا مگر اب جنرل وقار الزماں ایک بدلے ہوئے سپہ سالار ہیں۔ دوسال میں انکی شخصیت اور مزاج میں کیا تبدیلی آئی، اس حوالے سے اگلے کالم میں بات ہوگی۔
