پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کو کونسا مشترکہ دکھ جوڑ سکتا ہے؟

کچھ مشترکہ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف انسانوں بلکہ قوموں کو بھی آپس میں جوڑ دیتے ہیں۔ پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کے درمیان جو چیز سب سے زیادہ سانجھی ہے وہ 1947ء کی تقسیم کا دکھ ہے، جس کے نتیجے میں کروڑوں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔ یہ المیہ سرحد کے دونوں طرف برابر ہے۔

معروف لکھاری اور تجزیہ کار یاسر پیرزادہ نے بھارت میں حال ہی میں ہندوستان کی تقسیم کے پس منظر میں بننے والی فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ کے حوالے سے اپنی تحریر میں اسی مشترکہ دکھ، ہجرت کے کرب اور بچھڑ جانے والوں کی یادوں کو موضوع بناتے ہوئے کہا ہے کہ جس ظلم نے برصغیر کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا تھا، وہی مشترکہ درد آج دونوں قوموں کو دوبارہ ایک دوسرے کے قریب لا سکتا ہے۔ یاسر پیرزادہ کے مطابق فلم کی کہانی 95 سالہ ایشر سنگھ گریوال سے شروع ہوتی ہے جس کی یادداشت گڈمڈ ہونے لگتی ہے۔ ایک صبح وہ اپنے ڈرائیور سے کہتا ہے کہ اسے سرگودھا لے چلو کیونکہ اسے وہاں کچھ کام ہے۔ ڈرائیور جب سرگودھا سے ناواقفیت کا اظہار کرتا ہے تو ایشر سنگھ کہتا ہے کہ پہلے لاہور تک چلو، آگے کا راستہ وہ خود بتا دے گا۔ ڈرائیور حیران ہو کر اسے یاد دلاتا ہے کہ لاہور تو دوسری طرف ہے۔

فلم کی کہانی میں ایشر سنگھ کو اٹاری بارڈر تک پہنچایا جاتا ہے جہاں سرحدی اہلکار اسے روک لیتے ہیں۔ وہ حیران ہو کر وہاں موجود فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو دیکھتا ہے اور پوچھتا ہے کہ آج اتنی پولیس کیوں موجود ہے، کیا کوئی ڈکیتی ہوئی ہے؟ اسے ایک افسر کے پاس لے جایا جاتا ہے جو اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ سرگودھا نہیں جا سکتا کیونکہ 1947ء میں برصغیر کا بٹوارہ ہو چکا ہے۔ ایشر سنگھ معصومیت سے پوچھتا ہے: ’’کیوں؟‘‘ یاسر پیرزادہ کے مطابق یہی سوال دراصل پوری فلم کا بنیادی سوال بن جاتا ہے۔ یاسر پیرزادہ کے مطابق اس فلم نے انہیں دم بخود کر دیا ہے، کیونکہ یہ محض ایک فلم نہیں بلکہ تقسیمِ پنجاب کے المیے، ہجرت کے کرب اور بچھڑ جانے والے انسانوں کی داستان ہے۔

یاسر پیرزادہ کے مطابق فلم میں ایک سکھ نوجوان اور ایک مسلمان لڑکی کی محبت کو تقسیم کے پس منظر میں دکھایا گیا ہے۔ یہ محبت سرگودھا میں پروان چڑھتی ہے اور سکھ نوجوان اپنے شہر، محلے، گلیوں اور سب سے بڑھ کر اپنی محبوبہ کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ اپنی محبوبہ کا نام ’’ملکہ دلفریب‘‘ اپنی کلائی پر لکھوا لیتا ہے۔ تاہم جب چاروں طرف قتل و غارت شروع ہوتی ہے تو اس کے گھر والے اسے مجبوراً ٹرین میں بٹھا دیتے ہیں۔ فلم میں رخصت ہوتے ہوئے سکھ نوجوان اپنی محبوبہ سے وعدہ کرتا ہے کہ ’’میں واپس آؤں گا‘‘۔ یاسر پیرزادہ کے مطابق یہی جملہ فلم کا نام بھی ہے اور پوری داستان کا مرکزی استعارہ بھی۔ ان کے نزدیک یہ فلم پنجاب کی تقسیم کا نوحہ، رنج و الم کی داستان اور ایک ایسے اجتماعی دکھ کا فسانہ ہے جسے ہدایت کار امتیاز علی نے پردۂ سیمیں پر منتقل کیا ہے۔

یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ ہر سال اگست کا مہینہ آتے ہی ایک عجیب کیفیت دل پر طاری ہو جاتی ہے اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آزادی کا جشن منایا جائے یا پنجاب کے دو ٹکڑوں میں بٹ جانے کا ماتم کیا جائے۔ ان کے مطابق 1947ء میں پنجاب کے دل پر لگنے والے زخم اتنے گہرے تھے کہ آج بھی ان کے نشانات مٹ نہیں سکے۔ انہوں نے تقسیم کے بعد دونوں جانب رہ جانے والے خاندانوں کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آج بھی لوگ اپنے آبائی علاقوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ امرتسر سے آئے تھے یا جالندھر سے ان کا تعلق تھا، جبکہ بھارت میں معروف شاعر اور فلم ساز گلزار جیسے لوگ دینہ اور پنجاب کے دوسرے شہروں کو یاد کرکے آہیں بھرتے ہیں۔ کسی کو راولپنڈی کا بازار نہیں بھولا تو کسی کی محبت سرگودھا میں دفن ہے۔

یاسر پیرزادہ کے بقول تقسیم برصغیر کے دوران تقریباً دس لاکھ انسان مارے گئے جبکہ سوا کروڑ کے قریب لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ایک ایسا انسانی المیہ رونما ہوا جس میں لوگوں کو گھر چھوڑنے اور موت میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو بعض نے موت کو ترجیح دی۔ انہوں نے لکھا کہ ایک قلم کی جنبش سے پورا پنجاب ادھیڑ دیا گیا۔ لائل پور ایک طرف رہ گیا اور لدھیانہ دوسری طرف، ننکانہ صاحب ادھر رہ گیا اور امرتسر ادھر، جبکہ ملکہ دلفریب ایک طرف اور ایشر سنگھ دوسری طرف چلے گئے۔ یاسر پیرزادہ نے اپنے آبائی گھر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ لاہور کے گوالمنڈی میں ان کا آبائی گھر موجود ہے جس کے باہر آج بھی ’’شانتی بھون‘‘ لکھا ہے اور چرنجی لعل پریم کے نام کی تختی لگی ہوئی ہے، جس پر 27 اکتوبر 1927ء کی تاریخ درج ہے۔

ان کے مطابق تقسیم کے وقت لوگوں نے راتوں رات اپنے کپڑے اور ضروری سامان جمع کیا، معصوم بچوں کو آغوش میں اٹھایا اور اس امید پر گھروں سے نکل پڑے کہ ایک دن واپس آ جائیں گے، لیکن وہ دن بہت سوں کے لیے کبھی نہیں آیا۔ تقسیم کے دوران خواتین اور بچوں پر ہونے والے مظالم، عصمت دری، قتل اور اجتماعی خودکشیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ سینکڑوں خواتین نے کنوؤں میں کود کر جان دے دی، ہزاروں خواتین لاپتہ ہوئیں اور بہت سی ایسی بھی تھیں جو واپس ملنے کے باوجود سماجی اور نفسیاتی صدمے کے باعث اپنے خاندانوں کے پاس لوٹنے سے انکار کر گئیں۔
یاسر پیرزادہ نے راجندر سنگھ بیدی کے افسانے ’’لاجونتی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ واپس تو آ جاتی ہے، لیکن اس ’’مگر‘‘ کا جواب آج تک نہیں مل سکا۔ یہ ’’مگر‘‘ دراصل تقسیم کے اس انسانی المیے کی طرف اشارہ ہے جس کے اثرات کئی نسلوں تک ختم نہیں ہوئے۔

تاہم یاسر پیرزادہ نے اس سوال کے ساتھ ایک دوسرا پہلو بھی سامنے رکھا کہ کیا اگست کے مہینے میں صرف تقسیم کے نوحے ہی پڑھے جائیں؟ ان کے مطابق نہیں، بلکہ آزادی کی خوشیاں بھی منانی چاہئیں، کیونکہ تقسیم کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کی سماجی اور معاشی حیثیت تبدیل ہوئی۔ جو لوگ کبھی کرائے دار تھے وہ مالک مکان بن گئے، جو ملازم تھے وہ کاروبار کے مالک بنے اور جن کے لیے بینک کی ملازمت ایک خواب تھی، ان کی اگلی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جو بینکوں کے سربراہ بنے۔
یاسر پیرزادہ کے مطابق یہ شناخت، ملازمتیں اور کاروباری مواقع بھی اسی بٹوارے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نئے سیاسی اور معاشی ڈھانچے کا حصہ تھے، تاہم ان کے نزدیک ان تمام حقائق کے باوجود تقسیم کے انسانی المیے کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بھارت میں موجودہ سیاسی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں مسلمانوں کے حوالے سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ ان کے مطابق بابری مسجد کی شہادت کے مقدمے میں ملزمان کی بریت اور اسی مقام پر مندر کی تعمیر، حجاب پر پابندیوں، عدالتی فیصلے سے پہلے ملزمان کے گھروں کو بلڈوز کیے جانے، شہروں اور سڑکوں کے ناموں سے مسلم تاریخ کو مٹانے اور نصاب کی کتابوں سے مغل دور کے ابواب نکالنے جیسے اقدامات نے بھارت میں مسلمانوں کے احساسِ تحفظ کو متاثر کیا ہے۔

ان کے بقول بیس کروڑ سے زائد مسلمان آج بھی ہندوستان میں رہتے ہیں لیکن انہیں اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کے شہری ہونے کا احساس دلایا جا رہا ہے۔ تاہم یاسر پیرزادہ نے واضح کیا کہ ان تمام اختلافات اور تلخ حقائق کے باوجود کچھ مشترکہ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں اور پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سب سے بڑا مشترکہ دکھ 1947ء کی تقسیم ہے۔ یاسر پیرزادہ کے مطابق یہ المیہ سرحد کے دونوں طرف برابر ہے۔ جس ظلم نے برصغیر کے لوگوں کو کاٹا تھا، وہی دکھ انہیں دوبارہ جوڑنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ ان کے نزدیک اس سلسلے میں پہل پاکستان کر سکتا ہے کیونکہ پاکستان ان مقامات کا وارث ہے جہاں تقسیم سے پہلے ہندوستانی سکھ اور ہندو خاندان صدیوں سے آباد تھے۔

انکا کہنا ہے کہ ننکانہ صاحب، کرتارپور اور ایشر سنگھ کا سرگودھا آج پاکستان میں ہے، جبکہ ملکہ دلفریب کی گلیاں بھی اسی سرزمین کا حصہ ہیں۔ انکے بقول پاکستان کے شہروں میں ان خاندانوں کے بچپن دفن ہیں، حویلیوں کے ماتھوں پر ان کے بزرگوں کے نام کندہ ہیں اور پرانے سکولوں کے رجسٹروں میں ان کے داخلوں کا ریکارڈ موجود ہے۔
یاسر پیرزادہ نے اپنے گوالمنڈی کے آبائی گھر کے باہر موجود چرنجی لعل کی تختی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ وہاں سے یہ تختی اتار دی جائے، کیونکہ یہ تختی ایک امانت ہے۔ ان کے نزدیک ایسے نشانات ماضی کے بوجھ نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ کی گواہی ہیں اور انہیں محفوظ رکھنا چاہیے۔
انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ایک دن پاکستان ان لوگوں کو دعوت دے جو تقسیم کے وقت یہاں سے ہجرت کر گئے تھے اور ان سے کہے کہ آئیں اور دیکھیں، یہ وہی پنجاب ہے جو کبھی تقسیم ہو گیا تھا؛ یہ وہی گلیاں ہیں، وہی دریا، وہی ٹاہلیاں اور بوہڑ کے درخت ہیں جن کی چھاؤں میں ان کے بزرگ بیٹھا کرتے تھے۔

یاسر پیرزادہ کے مطابق ایشر سنگھ گریوال کا سوال یہ نہیں کہ 1947ء میں اقتدار کی منتقلی کا آئینی فارمولا کیا تھا یا سرحد کیسے مقرر ہوئی تھی۔ اس کا اصل سوال یہ ہے کہ جس گلی میں اس نے سائیکل چلائی، جس ٹیلے پر وہ ملکہ دلفریب سے ملا کرتا تھا اور جس محلے میں مسجد کی اذان اور گوردوارے کا کیرتن ایک ہی فضا میں گونجتے تھے، وہ سب کچھ ایک رات میں ’’پرایا دیس‘‘ کیسے بن گیا؟ ان کے مطابق اس سوال کا جواب دنیا کا کوئی مورخ مکمل طور پر نہیں دے سکتا، کیونکہ یہ تاریخ سے زیادہ انسان کے دل کا سوال ہے۔ تاہم اگر کوئی ایشر سنگھ گریوال آج سرگودھا آنا چاہے تو اسے روکنے کے بجائے اس کا استقبال کیا جانا چاہیے اور اسے خود وہاں لے جانا چاہیے جہاں کبھی ملکہ دلفریب رہا کرتی تھی۔
یاسر پیرزادہ نے اپنے کالم کے اختتام پر فلم کے مرکزی کردار کے وعدے ’’میں واپس آؤں گا‘‘ کو ایک امید میں تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک طرف سے واپسی کا وعدہ ہے تو دوسری طرف پاکستان کو بھی اپنے بازو کھول کر کھڑے ہونا چاہیے۔ ان کے بقول 1947ء کی تقسیم اگرچہ ایک سیاسی حقیقت تھی، لیکن اس نے جو انسانی زخم پیدا کیے وہ سرحدوں، پاسپورٹوں اور سیاسی بیانیوں سے کہیں بڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم کے تقریباً اسی برس بعد بھی ایشر سنگھ گریوال کا سرگودھا واپس جانے کا خواب، گلزار کا دینہ کو یاد کرنا اور پاکستان میں کسی خاندان کا امرتسر یا جالندھر کے آبائی گھر کو یاد کرنا ایک ہی مشترکہ انسانی داستان کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔

Back to top button