ججز کی تقرریوں پر صدر اور حکومت کا میچ لمبا ہو گیا

ایوان صدر اور وفاقی حکومت، یعنی صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے مابین ججز کی تقرریوں کے حوالے سے پیدا ہونے والا تنازع لمبا ہوتا چلا جا رہا ہے۔ صدر آصف زرداری نے عدالتی تقرریوں سے متعلق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات کی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری اور توثیق کا آئینی عمل تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

اس صورتحال سے نکلنے کے لیے حکومت کی قانونی ٹیم نے صدر کے قانونی ماہرین سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ حکومت اس امکان کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا صدر کی منظوری کے بغیر ہائی کورٹس کے ججز کی توثیق اور تقرری کے نوٹیفکیشن یکطرفہ طور پر جاری کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی قانونی ٹیم کی صدر کے قانونی ماہرین سے ملاقات کا بنیادی مقصد اس معاملے کو عدالت سے باہر باہمی اتفاق رائے کے ذریعے حل کرنا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ کوشش ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر اس درخواست پر فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا جس میں صدر مملکت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات کی منظوری نہ دینے کے معاملے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 20 اور 21 جولائی کو ہونے والے اجلاسوں میں پشاور ہائی کورٹ کے چار ایڈیشنل ججز کی توثیق، سندھ ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع اور لاہور، اسلام آباد، سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹس میں مجموعی طور پر 19 ایڈیشنل ججز کی تقرری کی سفارش کی تھی۔ آئین کے آرٹیکل 175-A کی شق 8 کے تحت جوڈیشل کمیشن کی سفارشات وزیراعظم کو ارسال کی گئیں، جنہوں نے یہ سمری صدر مملکت کو بھجوا دی، تاہم صدر کے دفتر میں پہنچنے کے بعد سے یہ سمری تاحال زیر التوا ہے اور اس پر صدر کی جانب سے منظوری نہیں دی گئی۔

حکومتی حلقوں میں اب یہ سوال زیر غور ہے کہ اگر صدر مقررہ مدت میں سمری پر کارروائی نہیں کرتے تو کیا آئین کے آرٹیکل 48(1) کے تحت قانون و انصاف کی وزارت کے ذریعے ججز کی تقرری اور توثیق کے نوٹیفکیشن جاری کیے جا سکتے ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق صدر کو سمری موصول ہونے کے بعد ایک مخصوص مدت کے اندر اس پر کارروائی کرنا چاہیے تھی، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مدت گزر چکی ہے۔
تاہم حکومتی عہدیدار یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ چونکہ معاملہ اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، اس لیے عدالت کے فیصلے سے قبل یکطرفہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کرنا قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ایک طرف آئینی راستے تلاش کر رہی ہے تو دوسری جانب ایوان صدر کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف ایوان صدر کے قانونی ماہرین نے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی اور سفارشات کے حوالے سے بعض بنیادی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ صدر کے قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ کمیشن میں پیپلز پارٹی کی جانب سے تجویز کیے گئے تقریباً تمام امیدوار مسترد کر دیے گئے، جبکہ بعض ایسے امیدواروں کو بھی ججز کی تقرری کے لیے سفارش کیا گیا جن کے بارے میں فوجداری مقدمات یا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔

ایوان صدر کے قانونی ماہرین کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 175-A میں صدر کے لیے سفارشات پر کارروائی کی کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق آرٹیکل 175-A کی اس خاموشی کو آرٹیکل 48(1) کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی آرٹیکل 48 کے تحت صدر کے آئینی اختیار کو نظرانداز کرتے ہوئے صدر کے دفتر کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔ ایوان صدر کے قانونی حلقوں نے آئین کے آرٹیکل 48(2) کی جانب بھی توجہ دلائی ہے، جس کے تحت صدر کو ان معاملات میں اپنے صوابدیدی اختیار کے مطابق عمل کرنے کا اختیار حاصل ہے جہاں آئین انہیں ایسا اختیار دیتا ہے۔ ایوان صدر کے مطابق آئین کی متعلقہ شق صدر کے اقدامات کے تحفظ کا بھی تقاضا کرتی ہے، اس لیے ججز کی تقرری کے معاملے میں صدر کو نظرانداز کرنا ایک سنگین آئینی سوال پیدا کر سکتا ہے۔

ایوان صدر سے وابستہ ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ ججز کی تقرری جیسے انتہائی حساس معاملے میں حکومت کی جانب سے یکطرفہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کرنا ’’سیاسی اور قانونی تباہی‘‘ کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس تنازع کا واحد قابل قبول راستہ جمہوری طریقہ کار کے تحت باہمی مشاورت اور اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 48(1)، 48(2) اور 175-A کی شق 8 کے باہمی تعلق کے حوالے سے اگر کوئی ابہام موجود ہے تو اسے صدر مملکت اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کے ذریعے دور کیا جانا چاہیے، نہ کہ کسی ایک فریق کی جانب سے یکطرفہ اقدام اٹھایا جائے۔ ایوان صدر کے مطابق ایسا اقدام مستقبل میں مزید بڑے آئینی اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری ایک آئینی عمل ہے اور اس معاملے میں پیدا ہونے والے تعطل کو بھی آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہی ختم کیا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ جوڈیشل تقرریوں کے لیے آئین میں واضح طریقہ کار موجود ہے اور کسی بھی ادارے کو اس عمل کو غیر معینہ مدت تک روکنے کا اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدر مملکت کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کی منظوری دینے کی ہدایت کے لیے دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے۔ درخواست گزار وکیل لقمان چوہدری نے اپنے وکیل زاہد چوہدری کے ذریعے یہ درخواست دائر کی تھی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ صدر مملکت کو ججز کی تقرری سے متعلق سمری کی منظوری دینے کی ہدایت کی جائے۔
درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا کہ عدالت صدر مملکت کو کسی معاملے میں ہدایت کیسے جاری کر سکتی ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، تاہم جمعرات کو توقع کے باوجود فیصلہ جاری نہ ہو سکا۔

بعد ازاں جمعہ کی صبح بھی عدالتی حکم جاری ہونے کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم کاروباری اوقات ختم ہونے تک متعلقہ فائل جج کے چیمبر سے واپس نہیں آئی تھی۔ عدالتی فیصلے میں تاخیر نے معاملے کو مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ججز کی تقرریوں پر جاری تعطل کے عملی اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے چار ایڈیشنل ججز، جن کی مستقل حیثیت کی سفارش جوڈیشل کمیشن نے کی تھی، ان کی مدت ملازمت 4 اگست کو مکمل ہو گئی اور صدر کی جانب سے باضابطہ منظوری اور نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باعث وہ اپنے عہدوں پر مزید کام جاری نہیں رکھ سکے۔

اسی طرح سندھ ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج، جن کی مدت ملازمت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی سفارش کی گئی تھی، ان کی مدت بھی 29 جولائی کو ختم ہو گئی اور باضابطہ توسیعی نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باعث انہوں نے بھی عہدہ چھوڑ دیا۔ یوں صدر مملکت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر فیصلہ نہ کیے جانے کے نتیجے میں نہ صرف حکومت اور ایوان صدر کے درمیان آئینی و قانونی اختلاف شدت اختیار کر رہا ہے بلکہ اعلیٰ عدالتوں کے عدالتی امور بھی براہ راست متاثر ہونے لگے ہیں۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ حکومت اس معاملے کو آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے حل کرے گی اور اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے وضع کیے گئے آئینی و قانونی اصولوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر صدر اور حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے اتفاق رائے پیدا نہ ہوا تو معاملہ مزید قانونی اور آئینی پیچیدگیوں کی طرف جا سکتا ہے، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے متوقع فیصلے کو بھی اس پورے تنازع میں فیصلہ کن اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ صورتحال نے یوں ایک ایسے آئینی سوال کو جنم دے دیا ہے جس کا تعلق صرف چند ججز کی تقرری سے نہیں بلکہ صدر مملکت، وزیراعظم، جوڈیشل کمیشن اور اعلیٰ عدلیہ کے درمیان آئینی اختیارات کی حدود سے بھی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور ایوان صدر باہمی مشاورت سے اس تعطل کو ختم کرتے ہیں یا معاملہ مزید عدالتی اور آئینی محاذ آرائی کی طرف بڑھتا ہے۔

Back to top button