پاکستانیوں کو یورپ سمگل کرنے والا نیٹ ورک پکڑا گیا

یورپین پولیس نے پاکستانیوں سمیت دیگر کئی ممالک کے شہریوں کو یورپ میں سمگل کرنے والے ایک بڑے نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے آٹھ ہائی ویلیو ٹارگٹس کو حراست میں لے لیا ہے جس نے ہوشربا انکشاف کیے ہیں۔ یورپی پولیس ایجنسی یوروپول کے مطابق متعلقہ نیٹ ورک افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے تقریباً 10 ہزار مہاجرین کو غیر قانونی طریقے سے یورپ لے جا چکا ہے۔
عدالتی حکم کے باجود گورنر پنجاب حمزہ شہباز سے حلف لینے سے انکاری
یوروپول کے مطابق انسانی سمگلنگ میں 126 سہولت کاروں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر کو آسٹریا سے گرفتار کیا گیا۔ انسانی سمگلرز کے خلاف آپریشن گزشتہ سال اگست میں لانچ کیا گیا تھا۔ حراست میں لیے گئے ہائی ویلیو افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق شام سے ہے جنہوں نے افغانستان اور پاکستان میں اپنے نیٹ ورک قائم کیے ہوئے تھے جو یورپ جانے کے خواہش مند نوجوانوں کا ان سے رابطہ کرواتے تھے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ان افراد نے پچھلے 5 برس میں کم از کم 10 ہزار مہاجرین کو یورپ سمگل کرنے میں سہولت فراہم کی ہے۔ سمگل شدہ مہاجرین میں سے زیاد ہ تر کا تعلق افغانستان، پاکستان اور شام سے ہے۔ یوروپول نے کہا ہے کہ گزشتہ سال 916 انسانی سمگلنگ کے واقعات سامنے آئے تھے، جبکہ 151 گھروں میں چھاپے مار کر 10 لاکھ یورو قبضے میں لیے گئے۔ انسانی سمگلرز نے کارگو لاریز، وینز اور ذاتی گاڑیاں استعمال کرتے ہوئے مہاجرین کو ترکی سے بذریعہ مغربی بالقان ریاستوں، رومانیہ اور ہنگری سے آسٹریا، جرمنی اور نیدرلینڈز پہنچایا ۔
سمگلرز مہاجرین سے 5 ہزار سے 10 ہزار یورو لے کر انہیں یورپی ممالک کی سرحدوں تک انتہائی برے حالات میں پہنچاتے تھے۔ یوروپول کے مطابق سمگلروں نے سوشل میڈیا پر اپنی سروس کے اشتہارات اور ویڈیوز نشر کیں جن میں محفوظ سفر کی یقین دہانی کروائی۔متعلقہ افراد ان سمگلروں کو ادا کی جانے والی رقم کے لیے حوالہ کا غیر قانونی طریقہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ یورپی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مزید چھ ہائی ویلیو ٹارگٹس کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یوروپول پولیس نے بتایا کہ انسانوں کی سمگلنگ کرنے والے اس گروہ کے ارکان جان خطرے میں ڈال کر پاکستانی شہریوں کو یورپی یونین کی حدود کے اندر تک پہنچاتے تھے۔ سمگلروں کا یہ گروہ یورپی یونین سے باہر یورپ کی بوسنیا جیسی ریاستوں سے پاکستانی تارکین وطن کو اٹلی اور سپین پہنچانے کا کام بھی کرتا تھا۔ انسانی سمگلرز انتہائی پرخطر حالات میں پاکستانیوں اور افغانیوں کو گاڑیوں، ویگنوں اور ٹرکوں میں سوار کرا کے یورپی یونین کے اٹلی اور سپین جیسے ممالک لے جاتے تھے۔ ان تارکین وطن کو اکثر کئی کئی دنوں تک کھانے پینے کی اشیا بھی دستیاب نہیں ہوتی تھیں۔
