کل کے سیاسی حریف آج کے حکومتی اتحادی کیسے بنے؟

سیاست میں نہ تو کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مستقل دشمن۔ اگر موجودہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سال 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے جن 9 جماعتوں نے تحریک نظام مصطفی چلائی تھی ان میں سے بیشتر آج پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

ملائیکا اروڑا کم عمرمردوں کی دیوانی کیوں ہیں؟

پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت کو پاکستانی سیاست میں اہم حیثیت حاصل ہے کیونکہ اسی دور میں نہ صرف پاکستان کو آئین ملا بلکہ اس کے ایٹمی طاقت بننے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی، بھٹو کے دور حکومت میں سیاسی کشمکش کا آغاز 7 جنوری 1977 کو ہوا جب وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے اچانک قبل از وقت الیکشن کا اعلان کر دیا۔ صدر پاکستان فضل الٰہی نے 10 جنوری 1977 کو وزیراعظم کی سفارش پر اسمبلی تحلیل کی اور اسی روز اپوزیشن کا ایک نیا اتحاد پاکستان نیشنل الائنس یعنی پی این اے سامنے آ گیا۔ یہ کنبہ نو جماعتوں پر مشتمل تھا جن میں تحریک استقلال، پاکستان مسلم لیگ، جماعت اسلامی، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی، خاکسار تحریک، جمعیت علمائے پاکستان، جمعیت علمائے اسلام اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس شامل تھیں۔ نو ستاروں کے نام سے مشہور ہونے والے اس اتحاد نے 23 جنوری 1977 کے دن کراچی کے نشتر پارک سے انتخابی مہم کا آغاز کیا، لیکن نو ستاروں کا اپوزیشن اتحاد الیکشن میں قومی اسمبلی کی محض 36 نشستیں حاصل کر سکا، چنانچہ دھاندلی کا الزام لگایا گیا اور پی این اے نے 10 مارچ 1978 کو ہونے والے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔

بھٹو نے اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر لانے کا فیصلہ کیا، تقریباً چار ماہ بعد مذاکرات کامیاب ہوئے تو فوجی بوٹوں کی چاپ سنائی دی اور اصغر خان کے مطالبے پر بھٹو کے ’فرمان بردار‘ چیف آف آرمی سٹاف نے مارشل لا نافذ کر دیا، ظلم یہ ہوا کہ 90 روز میں شفاف انتخابات کی بات کرنے والا ضیا الحق 11 پرس تک اقتدار کے مزے لوٹتا رہا اور بالآخر اگست 1988 میں ایک طیارہ حادثے میں جہنم رسید ہوا۔ اس سے پہلے 1979 میں بھٹو پھانسی کا پھندا چوم کر امر ہو چکے تھے۔ ان کی وراثت ورثے میں تبدیل ہوئی اور بے نظیر بھٹو نے پیپلزپارٹی کا مشن آگے بڑھانا شروع کیا۔ بعد ازاں پیپلز پارٹی تو تین بار مرکزی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی، لیکن پاکستان نیشنل الائنس کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ پی این اے کا اتحاد محض بھٹو مخالف جذبات پر کھڑا تھا، لہذٰا مارشل لا کا راستہ ہموار کرنے کے بعد اتحاد مٹ گیا۔

لیکن اس میں شامل کچھ سیاسی جماعتوں کا سفر جاری رہا پاکستان نیشنل الائنس میں شامل پہلی جماعت جمعیت علمائے اسلام تھی جس کے سربراہ مفتی محمود یکم مارچ 1972 کو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے، مفتی محمود کی وفات کے بعد ان کے بیٹے مولانا فضل الرحمٰن جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکریٹری اور پھر امیر بنے، وہ عمران خان کے خلاف 2020 میں بننے والے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ ہیں۔ پی این اے کی ایک اور اتحادی جماعت تحریک استقلال تھی جس کے سربراہ ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان تھے۔ 2012 میں یہ جماعت پی ٹی آئی میں ضم ہونے کے بعد ختم ہو گئی اور اصغر خان کا بھی انتقال ہو گیا۔

اسی طرح ’’جماعت اسلامی‘‘ پاکستان نیشنل الائنس میں شامل تیسری جماعت تھی جس کی بنیاد معروف عالمِ دین مولانا مودودی نے 1941 میں رکھی، اس جماعت کے موجودہ سربراہ سراج الحق ہیں جو کہ نام نہاد سیاسی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ’’جمعیت علمائے پاکستان‘‘ نیشنل الائنس کی چوتھی جماعت ہے جس کی بنیاد 1948 میں پڑی، 1970 کے انتخابات میں 7 نشستیں جیتنے والی جمعیت علمائے پاکستان شاہ احمد نورانی کے زیر قیادت پی این اے کی اہم اتحادی جماعت تھی، آج کل شاہ احمد نورانی کے بیٹے شاہ اویس نورانی پی ڈی ایم کا حصہ ہیں۔

پاکستان نیشنل الائنس میں شامل نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی یعنی این ڈی پی کے سربراہ ولی خان تھے جن کو 1975 میں حیات محمد خان شیرپاؤ کے قتل کے بعد گرفتار کر لیا گیا، 1986 میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بلوچستان اور سندھ کی قوم پرست جماعتوں میں ضم کر دی گئی، اس جماعت نے 2008 کے الیکشن میں دوبارہ انگڑائی لی اور خیبر پختونخوا میں اپنا وزیراعلیٰ منتخب کروانے میں کامیاب ہوئی، لیکن خراب کارکردگی کے باعث یہ جماعت 2018 کا الیکشن ہار گئی۔ نیشنل الائنس کا حصہ بننے والی پاکستان مسلم لیگ دراصل فنکشنل مسلم لیگ اور کونسل مسلم لیگ کا ملغوبہ تھی جس کے قائدین میں پیر پگاڑہ، خواجہ صفدر اور چودھری ظہور الہٰی جیسے لوگ شامل تھے، پاکستان مسلم لیگ کے متحرک رہنما خواجہ صفدر نے اسٹیبلشمنٹ سے اپنے تعلقات کے سبب بہت تیزی سے مرکزی سیاسی دھارے میں جگہ بنا لی، اب خواجہ صفدر کی سیاست ان کے بیٹے خواجہ آصف سنبھالے ہوئے ہیں۔

پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی اپنے سربراہ اور اکلوتے اسمبلی رکن نوابزادہ نصراللہ کی وجہ سے مشہور رہی، 1970 سے لے کر 2008 تک اس پارٹی کے کل دو رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور دونوں بار یہ نوابزادہ نصراللہ خود تھے۔ تاہم ظلم یہ ہوا کہ نوابزادہ نصراللہ کی وفات کے بعد 2012 میں انکی پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کو انکے ایک ناہنجار بیٹے نے پی ٹی آئی میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا اور وہ بھی تحریک استقلال کی طرح ختم ہوگئی۔

Back to top button