"نیا نظام” آج کی نہیں، دیرینہ خواہش ہے

تحریر: نصرت جاوید

مستقبل پر توجہ دینے کے بجائے ذہن میں جمع ہوئے تجربات اور مشاہدات آپ کے روبرو رکھنے کا بنیادی مقصد یاددلانا ہے کہ ’’بوسیدہ اور مفلوج نظام‘‘ کو نظر بظاہر نیک نیتی کے ساتھ بدلنے کی خواہش وطن عزیز میں محسن نقوی صاحب جیسے بااثر افراد کی جانب سے پہلی بار سامنے نہیں آئی ہے۔ انہوں نے تو محض خواہش کا اظہار کیا اور ملک بھر میں قیاس آرائیوں کا کہرام مچ گیا۔ 12 اکتوبر1999ء  میں لیکن ان دنوں کے آرمی چیف اسی نیت کے تحت بقول ان کے اقتدار سنبھالنے کو مجبور کردئے گئے تھے۔ وہ اور ان کے حامی بضد رہے کہ اگر انہیں سری لنکا سے پاکستان آتی پرواز کے دوران وزیر اعظم کے دفتر سے برطرف کرنے کا حکم جاری نہ ہوتا تو شاید ’’گلاسڑا‘‘ سیاسی نظام یوں ہی چلتا رہتا۔
بہرحال اقتدار سنبھالنے کے چند روز بعد انہوں نے قوم سے خطاب کیا۔ اس کے دوران گڈگورننس کے حصول کے لئے سات نکاتی ایجنڈا پیش کردیا گیا۔ ان کا خطاب نشر ہونے سے قبل مجھے ان دنوں پی ٹی وی کے ایم ڈی نے بذاتِ خود فون کے ذریعے اس پروگرام میں شرکت کی دعوت دی جو ان کے خطاب کے نشر ہوجانے کے فوری بعد براہِ راست نشر ہوتاتھا۔ براہِ راست نشر ہونے والے پروگرام میں شرکت کی دعوت سے میں حیران ہوا۔ منہ پھٹ کے طورپر بدنام ہوئے دو ٹکے کے اس رپورٹر کو ایک ’’حساس‘‘ خطاب پر براہ راست تبصرہ آرائی کی دعوت میرے لئے ناقابل یقین تھی۔ اس میں شرکت کو رضا مند ہوگیا اور لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے نہایت سینئراور مجھ سے کہیں زیادہ منہ پھٹ مانے ارد شیرکائوس جی کی اس رائے سے اختلاف کرتا رہا کہ جنرل مشرف کا اقتدار وطن عزیز کو کرپشن سے پاک کردے گا۔ مصر رہا کہ قوم کو جھوٹی امید نہ دلائی جائے۔ ماضی کے مارشل لاء بھی اسی نیت کے ساتھ آئے تھے۔ اپنے اہداف حاصل کرنے میں لیکن ناکام رہے۔
پروگرام میں شرکت کے بعد گھر لوٹتے ہوئے مجھے یقین تھا کہ میری گفتگو نے جنرل مشرف کو چراغ پا بنادیا ہوگا۔ ایم ڈی پی ٹی وی کی چھٹی تو یقینی تصور کی۔خوش گوار حیرت مگر اس پروگرام کے نشر ہوجانے کے عین ایک دن بعد ہوئی۔ علی الصبح میرے سرہانے رکھے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب جنرل مشرف کے ایف سی کالج کے دنوں سے دوست ہوئے طارق عزیز تھے۔ انہیں جنرل صاحب نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے دفتر کا انچارج بنادیا تھا۔ انہوں نے بے تکلف پنجابی میں مجھے اپنے دفتر آنے کی دعوت دی۔ میں وہاں گیا تو میرے اور ان کے درمیان تقریباََ نوے منٹ تک ون آن ون گفتگو ہوتی رہی۔
طارق عزیز صاحب کے ذکر سے یاد آیا کہ جمعرات کی صبح چھپے کالم میں انہیں اور جنرل مشرف کو میں نے لاہور کے ایچی سن کالج کا طالب علم لکھ ڈالا۔ کالم چھپتے ہی مجھے ایک مہربان قاری کا واٹس ایپ پیغام ملا۔ ان کی وجہ سے یاد آیا کہ طارق عزیز اور جنرل مشرف درحقیقت ایچی سن کالج لاہور نہیں بلکہ ایف سی کالج لاہور کے طالب علم تھے۔ اسی کالج میں ان دنوں چودھری شجاعت اور اوکاڑہ سے پیپلزپارٹی کے حوالے سے مشہور ہوئے رائو سکندر صاحب بھی ان دونوں کے ہم جماعت تھے۔ مجھ سے گفتگو کے دوران جنرل مشرف سے ایف سی کالج کی وجہ سے قربت کی وجہ طارق صاحب نے ازخود بتائی تھی۔ انہوں نے یہ اطلاع بھی دی کہ ان کا آبائی تعلق سرگودھا سے ہے۔ والد ان کے بطور سیشن جج گجرات میں تعینات ہوئے تھے۔ سیاسی مخالفت کی بنیاد پر چودھری شجاعت حسین کے والد چودھری ظہور الٰہی اور ان کے خاندان کے خلاف بنائے مقدمات کی سماعت کے دوران انہوں نے انصاف فراہم کرنے کو ترجیح دی۔ چودھری ظہورالٰہی ان کی ہمت سے شدید متاثر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد طارق عزیز کے والد کو انہوں نے گجرات ہی میں ٹکے رہنے کو مائل کیا۔ مجھے خبر نہیں کہ وہ قائل ہوئے یا نہیں مگر چودھری ظہورالٰہی اور طارق عزیز کے والد کی قربت ان کی اولادوں میں بھی منتقل ہوگئی۔ ایف سی کالج میں طارق عزیز اور چودھری شجاعت ایک ساتھ داخل ہوئے۔ ان دونوں کی قربت برسوں تک قائم رہی۔
اپنی غلطی کے اعتراف کے بعد اصل بات کی طرف لوٹتا ہوں۔ مجھ سے پہلی ملاقات میں اپنا جنرل مشرف سے رشتہ اور چودھری شجاعت حسین سے قریبی تعلق ازخود بتانے کے بعد انہوں نے مسکراتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا کہ گجرات ہی کے نامور صنعت کار چودھری احمد سعید بھی جو بعدازاں جنرل مشرف نے پی آئی اے کے طاقت ور چیئرمین اور ایم ڈی تعینات کئے ان کے کلاس فیلو تھے۔چودھری احمد سعید اور چودھری شجاعت کی سیاسی رقابت سے ہر سیاسی رپورٹربخوبی واقف تھا۔ حیرت ہوئی کہ دونوں جنرل مشرف اور طارق عزیز کے قریبی دوستوں میں شامل ہیں۔ رائو سکندر بعدازاں ایف سی کالج میں قائم اور استوار ہوئی دوستی کی وجہ سے پیپلز پارٹی چھوڑ کر 2002ء کے انتخابات کے بعد وفاقی کابینہ میں وزیر دفاع کا منصب سنبھالنے کو رضا مند ہوگئے۔
بے تکلف پنجابی اور برجستہ سادگی کے ساتھ طارق عزیز صاحب کی جانب سے ازخود ذاتی تفصیلات کا بنیادی مقصد مجھے بتانا تھا کہ وہ اور جنرل مشرف بنیادی طورپر متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں اقتدار کی ہوس لاحق نہیں۔ ’’نواز شریف نے سری لنکا سے پاکستان آتی پرواز کے دوران معطل کرنے کا حکم دے کر میرے دوست (پرویز مشرف) کو ٹیک اوور کرنے کو مجبور کیا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے ملے اقتدار کے حصول کے بعد میرادوست اس ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہے۔‘‘یہ فقرے ادا کرنے کے بعد انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مجھ جیسے شہری متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بقول انکے ’’بااثراور ایماندار‘‘ صحافی کو ’’میرے دوست‘‘ کی حمایت کرنا چاہیے۔
نہایت عاجزی اور ایمانداری سے میں نے عرض کیا کہ صحافی حکمران کی ٹھوس مدد حقائق کو اپنی تحریروں میں ہوبہو بیان کرنے کے ذریعے ہی کرسکتا ہے اور حقائق چھپانے سے گریز پر ثابت قدمی سے عمل کرناہوگا۔ یہ عرض کرنے کے بعد برجستہ ان سے فریاد کردی کہ اگر ان کے دوست (پرویز مشرف) واقعتا اس ملک کی صحافت کو یہ ملک سنوارنے کے لئے اپنا حقیقی مددگاربنانا چاہتے ہیں تو وزارتِ اطلاعات کا خاتمہ کردیں۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد قوم سے پہلے خطاب میں جنرل مشرف نے جو سات نکاتی ایجنڈا دیا اس میں ’’جعلی نہیں حقیقی جمہوریت‘‘ کا ذکر بھی تھا۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے یاد دلایا کہ دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میں وزارتِ اطلاعات جیسا ادارہ نہیں ہوتا۔
بذاتِ خود ایک سینئر سرکاری افسر ہوتے ہوئے طارق صاحب نے عملی انداز اختیار کرتے ہوئے مجھے یاد دلایا کہ اتنے برسوں سے قائم ہوئی وزارت کو یکدم ختم کرنا ممکن نہیں۔ میری ’’معقول تجویز‘‘ پر البتہ بتدریج عمل ہوسکتا ہے۔ ’’پرویز کو میں مشورہ دوں گا کہ اپنی کابینہ تشکیل دیتے ہوئے وہ کسی شخص کو وزیر اطلاعات تعینات نہ کریں‘‘۔ مذکورہ گفتگو کے تقریباََ چند ہفتے گزرجانے کے بعد میری یاد کے مطابق کوئی بھی شخص وزیر اطلاعات تعینات نہ ہوا۔ وزارت اطلاعات کے ان دنوں سینئر ترین افسر -خواجہ اعجاز سرور- اس وزارت کے بطور وفاقی سیکرٹری نگہبان رہے۔ وزیر اطلاعات کی کرسی مگر زیادہ دنوں تک خالی نہ رہ سکی۔ ایک دن جاوید جبار کو اس منصب پر تعینات کردیا گیا۔
جاوید جبار کی تحریروں اور تخلیقی کاموں کا میں کالج کے دنوں سے مداح رہا تھا۔ ان کے وزیر اطلاعات بن جانے کی خبر نے مجھے دھچکا پہنچایا۔ اس سے زیادہ مگر یہ جان کر طے کرلیا کہ جنرل مشرف کے دئیے سات نکاتی ایجنڈے کے باوجود ’’نیا نظام‘‘ بھی ’’آنے والی تھاں‘‘ پر لوٹ آئے گا۔ احتیاطاََ یہ بھی یاد دلادوں کہ جاوید جبار کراچی کے ایک مشہور انگریزی سکول میں جنرل مشرف کے کلاس فیلو رہے تھے۔ ان کی تعیناتی نے مجھے ’’دوست نوازی‘‘ کی روش یاد کرنے کو مجبور کیا۔

Back to top button