آزاد کشمیر الیکشن کے بعد وفاقی حکومت کی بنیادیں کیوں لرزنے لگیں؟

آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد پاکستان کی اتحادی سیاست ایک نئے امتحان سے گزر رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس اعلان کہ "ن لیگ کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے” نے وفاقی حکومت اور حکمران اتحاد کے مستقبل کے حوالے سے نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے عوامی مینڈیٹ چوری ہونے کا الزام عائد کیا اور سیاسی مزاحمت کا اعلان کیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ یہ بیان وفاقی حکومت سے علیحدگی کا اعلان نہیں، لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان اعتماد میں کمی، آزاد کشمیر کے انتخابات، معاشی کارکردگی، آئندہ عام انتخابات کی تیاری اور سیاسی برتری کی جنگ نے اتحادی تعلقات کو پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اختلافات صرف سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہیں یا پھر مستقبل میں حکمران اتحاد کے لیے ایک بڑے چیلنج کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے نتائج نے پاکستان کی قومی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیا اور اگر انتخابی عمل پر اٹھائے گئے اعتراضات کو نظر انداز کیا گیا تو "اب الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔” پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ صرف ایک انتخابی تنازع نہیں بلکہ ووٹ کے تقدس، عوامی رائے کے احترام اور جمہوری عمل کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر انتخابی نتائج کو چیلنج کرے گی اور عوام کے حق رائے دہی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

بلاول بھٹو کے اس جارحانہ مؤقف کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ آیا پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے جا رہی ہے یا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اس کے تعلقات مزید خراب ہونے والے ہیں۔

تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے فوری طور پر اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ بلاول بھٹو زرداری کا بیان صرف آزاد کشمیر کے انتخابات کے تناظر میں تھا اور اسے وفاقی حکومت سے علیحدگی یا حکومتی اتحاد کے خاتمے سے جوڑنا درست نہیں۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کوئی نظریاتی اتحاد موجود نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی اور جمہوری ورکنگ ریلیشن شپ ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود پارلیمان میں اپنی آزاد رائے رکھتی ہے، قانون سازی پر اختلاف بھی کرتی ہے اور انتخابی شفافیت کا مطالبہ کرنا ہر سیاسی جماعت کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے بھی بلاول بھٹو کے بیانات کو زیادہ اہمیت دینے سے گریز کیا۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں شفاف انتخابات ہوئے اور دھاندلی کے الزامات محض سیاسی بیانات ہیں۔ ان کے مطابق یہ اعتراضات زیادہ تر پارٹی قیادت کی جانب سے سامنے آئے ہیں، امیدواروں کی طرف سے نہیں۔

طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں حکومت کو سادہ اکثریت حاصل ہے، اس لیے اگر پاکستان پیپلز پارٹی اتحاد سے الگ بھی ہو جائے تو وفاقی حکومت برقرار رہ سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں نہ پیپلز پارٹی کے حکومت چھوڑنے کے آثار ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی عملی امکان دکھائی دیتا ہے۔

سیاسی مبصرین اس صورتحال کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار افتخار احمد کے مطابق موجودہ پارلیمانی نمبرز کے تناظر میں حکومت کو فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اتحاد سے الگ بھی ہو جائے تو حکومت کمزور ضرور ہوگی، لیکن فوری طور پر گرنے کا امکان نہیں۔ البتہ سینیٹ میں آئینی ترامیم اور اہم قانون سازی حکومت کے لیے زیادہ مشکل ہو سکتی ہے۔

افتخار احمد کے مطابق اس وقت اصل مسئلہ حکومت گرانا نہیں بلکہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران جیسے عوامی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو صرف سخت بیانات دینے کے بجائے عوام کے سامنے ایک قابل عمل معاشی پروگرام بھی پیش کرنا چاہیے۔

سینئر تجزیہ کار خاور گھمن کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابات نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیاسی فاصلے ضرور بڑھائے ہیں، لیکن اس کشیدگی کی اصل وجہ حکومت کی معاشی کارکردگی اور آئندہ عام انتخابات کی تیاری ہے۔

ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے پاس اس وقت ایسی نمایاں حکومتی کامیابیاں نہیں جنہیں وہ عوام کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کر سکے، جبکہ بلاول بھٹو زرداری اب اپنی جماعت کو آئندہ انتخابات کے لیے دوبارہ متحرک کر رہے ہیں تاکہ پیپلز پارٹی کی الگ سیاسی شناخت مضبوط ہو اور وہ حکمران جماعت سے مناسب سیاسی فاصلہ بھی برقرار رکھ سکے۔

خاور گھمن کے مطابق آنے والے دنوں میں دونوں جماعتوں کے تعلقات پہلے جیسے خوشگوار رہنے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے، کیونکہ دونوں اپنی اپنی سیاسی جگہ مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سینئر تجزیہ کار حسن ایوب اس صورتحال کو نسبتاً مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو کی تقریر بنیادی طور پر اپنے کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے تھی۔ اگر پیپلز پارٹی واقعی حکومت گرانا چاہتی ہے تو اسے عملی طور پر حکومتی اتحاد چھوڑ کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنا ہوگا، جبکہ فی الحال ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آتی۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ برقرار ہے، اسی لیے اگرچہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا اتحاد نظریاتی نہیں، لیکن موجودہ سیاسی حالات میں اس کے برقرار رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

سینئر تجزیہ کار زیغم خان کے مطابق موجودہ سیاسی کشمکش دراصل آئندہ عام انتخابات کی تیاری کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق دونوں بڑی جماعتیں اپنی اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنانے میں مصروف ہیں اور آزاد کشمیر کے انتخابات اسی سیاسی حکمت عملی کا اہم مرحلہ ثابت ہوئے ہیں۔

زیغم خان کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اپنی جماعت کو دوبارہ جارحانہ عوامی سیاست کی طرف لے جانا چاہتے ہیں تاکہ آئندہ انتخابات میں مضبوط سیاسی بیانیہ قائم کیا جا سکے، جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ معاشی اور انتظامی کارکردگی بہتر بنا کر عوام کا اعتماد بحال کرے۔

مجموعی طور پر سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے سخت بیانات نے اگرچہ حکمران اتحاد میں تناؤ ضرور پیدا کیا ہے، لیکن فی الحال وفاقی حکومت کو فوری خطرہ لاحق نہیں۔ تاہم آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان اعتماد میں کمی، عوامی بیانیے میں فاصلے اور آئندہ عام انتخابات کی تیاری کے باعث مستقبل میں سیاسی تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

Back to top button