لفظی جنگ، نون لیگ اور علیم خان کی IPPمیں فاصلے کیوں بڑھنے لگے؟

وفاقی حکومت کی دو اہم اتحادی جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی)، کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں ایک دوسرے کے لیے نشستیں چھوڑنے والی دونوں جماعتیں آج ایک دوسرے پر کھل کر تنقید کر رہی ہیں۔ عبدالعلیم خان کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں اور قیادت پر مسلسل تنقید، خواجہ آصف اور عظمیٰ بخاری کے سخت جوابی بیانات، اور لاہور کی پارک ویو سٹی ایکسٹینشن کی منظوری کا تنازع اس اختلاف کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق معاملہ صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے سیاسی مفادات، انتظامی فیصلے، باہمی اعتماد کی کمی اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی جیسے عوامل بھی کارفرما ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اختلافات محض دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہیں یا پھر اتحادی سیاست میں ایک نئے بحران کی شروعات؟

مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی کے درمیان تعلقات، جو 2024 کے عام انتخابات کے دوران سیاسی تعاون اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر مضبوط دکھائی دیتے تھے، اب واضح کشیدگی کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ دونوں جماعتیں وفاقی حکومت میں اتحادی ہونے کے باوجود ایک دوسرے پر کھل کر تنقید کر رہی ہیں، جس نے حکمران اتحاد کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، جو کبھی تحریک انصاف کے اہم رہنما رہے، 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد نئی سیاسی جماعت کے قائد بن کر سامنے آئے۔ 2024 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے آئی پی پی کے ساتھ انتخابی تعاون کیا اور قومی و صوبائی اسمبلی کی متعدد نشستوں پر اپنے امیدوار دستبردار کیے تاکہ آئی پی پی کے امیدوار کامیاب ہو سکیں۔ ان میں لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 117 پر عبدالعلیم خان، این اے 128 پر عون چوہدری اور پنجاب اسمبلی کی متعدد نشستیں شامل تھیں۔

تاہم 2026 میں دونوں جماعتوں کے تعلقات میں دراڑ نمایاں ہونے لگی۔ عبدالعلیم خان نے مختلف مواقع پر مسلم لیگ (ن) کی حکومتی پالیسیوں، انتظامی کارکردگی اور سیاسی فیصلوں پر کھل کر تنقید کی، جس کا حکمران جماعت نے سخت جواب دیا۔

سیاسی اور حکومتی ذرائع کے مطابق اس کشیدگی کی ایک بڑی وجہ لاہور میں واقع پارک ویو سٹی کی ایکسٹینشن کی منظوری کا معاملہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالعلیم خان پارک ویو سٹی کے توسیعی منصوبے کی منظوری چاہتے ہیں، لیکن پنجاب حکومت اس کی اجازت دینے سے گریز کر رہی ہے، جس کے باعث دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

اس تنازع کی جڑیں اگست 2025 میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے جا ملتی ہیں، جب دریائے راوی میں طغیانی کے باعث پارک ویو سٹی کے کئی بلاکس زیر آب آ گئے تھے۔ متاثرہ رہائشیوں نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد عبدالعلیم خان نے نہ صرف متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا بلکہ دریائے راوی کے کنارے تیس فٹ بلند حفاظتی بند تعمیر کرنے اور ایک ارب روپے کے ریلیف پیکج کا بھی اعلان کیا۔ اس حفاظتی بند کی تعمیر راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) اور دیگر اداروں کے تعاون سے جاری ہے۔

اس کے باوجود پارک ویو سٹی کے توسیعی بلاکس کی منظوری اب تک تعطل کا شکار ہے۔ بنیادی منصوبہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی منظوری کے تحت ہے، جبکہ توسیعی حصہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے منظوری نہ ملنے کو سیاسی حلقے دونوں جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریوں کی اہم وجہ قرار دے رہے ہیں۔

عبدالعلیم خان کے حالیہ بیانات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے بھی سخت ردعمل دیا۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے یاد دلایا کہ 2024 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے آئی پی پی کی کامیابی کے لیے اپنے امیدوار دستبردار کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عون چوہدری کو ووٹ ڈالنے کے لیے نواز شریف خود جاتی عمرہ سے ماڈل ٹاؤن گئے تھے، اس لیے آئی پی پی کو اس سیاسی تعاون کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

عظمیٰ بخاری نے عبدالعلیم خان کی جانب سے نواز شریف پر تنقید کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں اور ملک میں موٹرویز، شاہراہوں اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھنے والے رہنما ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آج ملک کی سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کی ضرورت ہے تو وفاقی وزیر مواصلات کی حیثیت سے یہ ذمہ داری خود عبدالعلیم خان پر عائد ہوتی ہے۔

اس سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف بھی عبدالعلیم خان کو مشورہ دے چکے ہیں کہ اگر وہ حکومتی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں تو انہیں وزارت چھوڑ کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ جانا چاہیے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان حالیہ لفظی جنگ محض شخصیات کا تصادم نہیں بلکہ اتحادی سیاست کے اندر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی علامت ہے۔ ایک طرف آئی پی پی خود کو زیادہ بااختیار اور مؤثر اتحادی کے طور پر منوانا چاہتی ہے، جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ حکومت کی بنیادی سیاسی قوت اب بھی اسی کے پاس ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اختلافات صرف بیانات تک محدود رہے تو حکومت کو فوری خطرہ لاحق نہیں ہوگا، لیکن اگر انتظامی اور سیاسی تنازعات میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات وفاقی حکومت کے اتحاد، قانون سازی اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

Back to top button