محسن نقوی کے پے در پے بیانات نے ملکی سیاست میں ہلچل کیسے مچائی؟

ملکی سیاست ایک مرتبہ پھر غیر یقینی اور قیاس آرائیوں کے بھنور میں داخل ہو چکی ہے۔جس کے بعد طاقت کے مراکز سے متعلق بحث نے زور پکڑ لیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے چند دنوں کے وقفے سے سامنے آنے والے دو اہم بیانات نے نہ صرف حکومتی ایوانوں بلکہ سیاسی جماعتوں، میڈیا اور تجزیہ کاروں کو بھی نئی بحث میں مبتلا کر دیا ہے۔ پہلے انہوں نے یہ کہہ کر کہ "موجودہ نظام ڈھے چکا ہے” ملک کے انتظامی و حکومتی ڈھانچے پر سنگین سوالات اٹھائے، جسے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں ممکنہ تبدیلی کا اشارہ سمجھا گیا۔ پھر اچانک انہوں نے اعلان کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنی آئینی مدت مکمل کریں گے اور موجودہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی۔ سوال یہ پیدا ہو گیا کہ آیا یہ وضاحت تھی، سیاسی مفاہمت کا پیغام تھا، یا پھر اصلاحات کی طرف اشارہ؟ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسے بیانات صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے سیاسی پیغامات، طاقت کے توازن اور مستقبل کی حکمت عملی بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔


مبصرین کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا "نظام ڈھے چکا ہے” والا بیان سامنے آتے ہی اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ چونکہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا ہے، اس لیے ان کے بیان کو معمول کا سیاسی تبصرہ نہیں بلکہ ایک اہم اشارہ تصور کیا گیا۔

محسن نقوی نے معاشی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے اور ملک کو نئے انتظامی ڈھانچے اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کی بھی حمایت کی، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا۔

اس تاثر کو اس وقت مزید تقویت ملی جب اگلے ہی روز فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بلوچستان میں امن و امان سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران گڈ گورننس، مؤثر نظام اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان بیانات کے بعد میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کرنے لگا کہ کیا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اب بھی ایک صفحے پر ہیں یا دونوں کے درمیان توقعات کا فرق پیدا ہو چکا ہے۔

اسی دوران مختلف صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے دعویٰ کیا کہ حکومتی بندوبست پر دباؤ بڑھ رہا ہے، بعض نے ممکنہ سیاسی تبدیلیوں کی ڈیڈ لائنز تک کا ذکر کیا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس سیاسی ماحول میں تحریک انصاف نے بھی اپنے بانی کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر ستمبر کے آخر میں اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر دیا، جسے حکومت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں دیکھا گیا۔

لیکن ان تمام قیاس آرائیوں کے دوران محسن نقوی نے اچانک ایک نیا بیان دیا جس میں واضح کیا کہ شہباز شریف اپنی آئینی مدت مکمل کریں گے اور حکومت پانچ سال پورے کرے گی۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا "نظام ڈھے چکا ہے” والا بیان موجودہ حکومت کے خلاف نہیں تھا بلکہ گزشتہ اسی برس کے انتظامی نظام پر تنقید تھی۔ ان کے مطابق اگر یہ نظام مؤثر ہوتا تو پاکستان ترقی کے کہیں بہتر مقام پر ہوتا۔

محسن نقوی نے کہا کہ وہ خود حکومت کا حصہ ہیں، اس لیے اپنی ہی حکومت کو چارج شیٹ کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم روزانہ چودہ سے سولہ گھنٹے کام کرتے ہیں، لیکن اگر انہیں بہتر نظام میسر آ جائے تو نتائج سو گنا بہتر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے ایف بی آر کی بہتر ریونیو وصولی، حالیہ سفارتی کامیابیوں اور اصلاحاتی اقدامات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ موجودہ حکومت نے مشکل حالات کے باوجود نمایاں پیش رفت کی ہے۔

اپنی وزارت پر ہونے والی تنقید کے جواب میں محسن نقوی نے ایک غیر معمولی تجویز بھی دی کہ حکومت کی تمام وزارتوں کی کارکردگی کا آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے تاکہ عوام کے سامنے واضح ہو سکے کہ کون سی وزارت کتنی مؤثر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خود اس احتساب کے لیے تیار ہیں۔

محسن نقوی کے پہلے بیان پر مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی ردعمل سامنے آیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر انہیں مشورہ دیا کہ اگر نظام میں خرابی ہے تو پہلے اپنی وزارت سے اصلاحات شروع کریں اور ایسے معاملات پارلیمنٹ اور کابینہ میں اٹھائیں۔

بعد ازاں رانا ثناء اللہ نے تصدیق کی کہ نواز شریف نے پارٹی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ محسن نقوی کے بیان کو مزید نہ اچھالا جائے، جسے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔

اپوزیشن نے اس معاملے کو حکومت کے خلاف استعمال کیا۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی اپنے ہی بیان میں پھنس گئے ہیں، کیونکہ ایک طرف وہ نظام کو ناکام قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کی بات بھی کرتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے بیانات ہمیشہ اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ پچیس برس میں کوئی منتخب وزیراعظم اپنی آئینی مدت مکمل نہیں کر سکا، اس لیے اگر شہباز شریف واقعی اپنی مدت پوری کر لیتے ہیں تو یہ ایک غیر معمولی سیاسی واقعہ ہوگا۔

ماجد نظامی کا خیال ہے کہ محسن نقوی کا پہلا بیان محض ذاتی رائے نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام تھا، کیونکہ پاکستان میں اہم پیغامات اکثر اسی انداز میں دیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق بیان دینے والے کی شخصیت، اس کے سیاسی روابط اور بیان کا وقت ہمیشہ اہمیت رکھتے ہیں۔

صحافی عارفہ نور کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کے تازہ بیان سے قیاس آرائیاں ختم نہیں ہوں گی بلکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان توقعات کے فرق کی بحث مزید بڑھے گی۔ ان کے مطابق اگر وزیر داخلہ خود کہہ رہے ہیں کہ نظام درست نہیں چل رہا تو اس کا سیاسی اثر حکومت پر ہی پڑتا ہے۔

سینئر تجزیہ کار فہد حسین اس معاملے کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں بیانات میں کوئی تضاد نہیں بلکہ محسن نقوی مسلسل یہی کہہ رہے ہیں کہ حکومت برقرار رہنی چاہیے، لیکن گورننس کا موجودہ نظام اصلاحات کا متقاضی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومت گرانے کے واضح آثار موجود نہیں، نہ کوئی متبادل سیاسی اتحاد دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی ایسا ماحول کہ اقتدار کی تبدیلی قریب ہو، البتہ کابینہ، گورننس اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے امکانات ضرور موجود ہیں۔

ماہرین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ محسن نقوی کے بیانات نے ایک مرتبہ پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ پاکستان میں اصل مسئلہ حکومتوں کی تبدیلی ہے یا نظام کی اصلاح۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چند جملوں نے صرف سیاسی ہلچل ہی پیدا نہیں کی بلکہ اقتدار، گورننس، اسٹیبلشمنٹ، سیاسی جماعتوں اور مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر ایک نئی قومی بحث چھیڑ دی ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

Back to top button