حسینہ واجد اینڈ کمپنی پاکستان پر الزام تراشیوں سے باز کیوں نہیں آتی؟

بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور ان کے صاحبزادے سجیب واجد کے حالیہ بیانات نے جنوبی ایشیا کی سفارتی فضا کو ایک بار پھر گرما دیا ہے۔ نئی دہلی سے پاکستان پر الزامات، آئی ایس آئی کے کردار سے متعلق دعوے، اور اس کے جواب میں اسلام آباد کا سخت اور طنزیہ ردعمل صرف لفظوں کی جنگ نہیں بلکہ خطے میں بدلتے ہوئے سفارتی اور سیاسی تعلقات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت اور حکمران جماعت نے بھی بھارت کی جانب سے شیخ حسینہ کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اب پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات میں ایک نئے سفارتی موڑ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیراعظم اور عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ واجد نے نئی دہلی میں ساؤتھ ایشیا فارن کورسپانڈنٹس کلب کی تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں، تاہم انہوں نے واپسی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔
اسی تقریب میں ان کے صاحبزادے اور سابق مشیر سجیب واجد جوئے نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ موجودہ عبوری حکومت کے دور میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو بنگلہ دیش میں ’’کھلی چھوٹ‘‘ حاصل ہے اور وہ وہاں کے داخلی معاملات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ عوامی لیگ کی حکومت کے دور میں گرفتار کیے گئے شدت پسند عناصر کو رہا کر دیا گیا ہے، جو دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو بنگلہ دیش مستقبل میں عالمی دہشت گردی کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ’’بھارت کی مشرقی سرحد پر ایک اور پاکستان بن چکا ہے۔‘‘
ان بیانات کے بعد اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر اندرابی نے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئی ایس آئی کے کردار سے متعلق ہر قسم کے الزام یا اشارے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور نہ ہی شیخ حسینہ اور موجودہ عبوری حکومت کے درمیان جاری سیاسی تنازع پر کوئی تبصرہ کرے گا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ چونکہ یہ بیان بھارت کی سرزمین سے دیا گیا، اس لیے یہ معاملہ بنیادی طور پر بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے سفارتی روابط معمول کے مطابق جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کسی ایک واقعے یا بیان تک محدود نہیں۔
سجیب واجد کے الزامات کے جواب میں ترجمان نے طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں آئی ایس آئی کے حوالے سے جو غیر معمولی خوف پایا جاتا ہے، شاید وہی ’’وائرس‘‘ ان تک بھی پہنچ گیا ہے کیونکہ وہ بھارت میں مقیم ہیں۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے بھی نئی دہلی میں شیخ حسینہ کو میڈیا سے خطاب کی اجازت دیے جانے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ایک مفرور اور سزا یافتہ رہنما کو بھارتی سرزمین سے بنگلہ دیشی ریاست اور عوام کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے کی اجازت دینا دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ڈھاکہ حکومت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس تقریب سے قبل بھارت کو سفارتی ذرائع سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود تقریب منعقد ہونے دی گئی۔ حکومت نے یہ بھی یاد دلایا کہ 2013 کے حوالگیِ ملزمان کے معاہدے کے تحت وہ متعدد بار شیخ حسینہ کی واپسی کی درخواست کر چکی ہے، مگر نئی دہلی نے اس حوالے سے کوئی مؤثر جواب نہیں دیا۔
بنگلہ دیش کی نائب وزیر خارجہ شاما عبید نے واضح کیا کہ اب فیصلہ بھارت کو کرنا ہے کہ آیا وہ اپنی سرزمین کو بنگلہ دیش کی داخلی سیاست کے لیے استعمال ہونے دیتا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت سزا یافتہ اور مطلوب سیاسی شخصیات کو وہاں سے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیتا رہا تو اس سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوں گے۔
حکمران جماعت بی این پی کے رہنماؤں نے بھی بھارتی حکومت کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیاسی پناہ دینا ایک الگ معاملہ ہے، لیکن کسی مطلوب رہنما کو اپنے ملک سے دوسرے ملک کی سیاست پر اثر انداز ہونے کی اجازت دینا قابلِ قبول نہیں۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق شیخ حسینہ کا دسمبر میں واپسی کا اعلان زیادہ تر ایک سیاسی پیغام ہے، کیونکہ موجودہ زمینی حالات میں ان کی واپسی آسان دکھائی نہیں دیتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ کے لیے اپنی سیاسی حمایت برقرار رکھنے اور کارکنوں کو متحرک رکھنے کے لیے ایسے بیانات اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2024 میں اقتدار سے علیحدگی کے بعد بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ ڈھاکہ نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات کو بہتر بنایا بلکہ چین کے ساتھ بھی تعاون میں اضافہ کیا، جبکہ بھارت کے ساتھ بعض معاملات پر فاصلے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سابق پاکستانی سفارتکار عبدالباسط کے مطابق شیخ حسینہ کے خلاف مقدمات محض سیاسی نوعیت کے نہیں بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع سے متعلق ہیں، اس لیے بھارت کو حوالگی کے معاہدے پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق عوامی لیگ کی پاکستان مخالف سیاست نئی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ تنازع صرف چند بیانات تک محدود نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں بدلتے ہوئے سفارتی اتحاد، بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات، پاکستان اور بنگلہ دیش کے بڑھتے روابط اور خطے کی نئی جغرافیائی سیاست کا بھی عکاس ہے۔ آنے والے مہینوں میں شیخ حسینہ کی ممکنہ واپسی، بھارت کا طرزِ عمل اور پاکستان و بنگلہ دیش کے تعلقات اس پورے معاملے کی سمت کا تعین کریں گے۔
