وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کے دورہ سعودی عرب کا اصل مقصد کیا؟

خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے درمیان پاکستان، سعودی عرب اور ترکی ایک ایسے ممکنہ دفاعی اتحاد کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے اسلامی دنیا کے سکیورٹی منظرنامے کو نئی شکل دے سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جدہ میں ہونے والی اہم ملاقات نے عالمی سفارتی حلقوں میں غیر معمولی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ تینوں ممالک مشترکہ دفاع، انٹیلی جنس تعاون، دفاعی صنعت، عسکری تربیت اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے ایک تاریخی سہ فریقی معاہدے کو حتمی شکل دے سکتے ہیں۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پاکستان کی جوہری صلاحیت، سعودی عرب کی معاشی قوت اور ترکی کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی ایک ایسے اسٹریٹجک بلاک کی بنیاد رکھ سکتی ہے جو نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرے گا بلکہ عالمی سفارتی اور دفاعی سیاست میں بھی ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ممکنہ سہ فریقی دفاعی معاہدے کی بازگشت نے عالمی سفارتی اور دفاعی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جدہ میں ملاقات کو محض ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ خطے کے مستقبل کے تناظر میں انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس معاہدے پر کافی عرصے سے پس پردہ مذاکرات جاری تھے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، غزہ جنگ، بحیرہ احمر کی سکیورٹی، اور خطے میں نئے تزویراتی اتحادوں کی تشکیل نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔
اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پاکستان اپنی دفاعی مہارت اور جوہری صلاحیت، سعودی عرب اپنی مضبوط معاشی حیثیت اور ترکی اپنی جدید دفاعی صنعت اور عسکری ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دے سکتے ہیں جو اسلامی دنیا کے لیے ایک نئی دفاعی حکمت عملی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ترکی گزشتہ چند برسوں میں اپنی دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانے میں کامیاب ہوا ہے۔ ترک ساختہ ڈرونز، میزائل سسٹمز اور جدید دفاعی سازوسامان دنیا بھر میں توجہ حاصل کر چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب اپنی دفاعی خود کفالت اور عسکری سرمایہ کاری کو وسعت دے رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نہ صرف پیشہ ور افواج بلکہ دفاعی پیداوار اور جوہری صلاحیت کے باعث اس اتحاد کا ایک اہم ستون بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تینوں ممالک دفاعی پیداوار، مشترکہ مشقوں، انٹیلی جنس شیئرنگ، انسداد دہشت گردی، سائبر سکیورٹی اور دفاعی تحقیق کے شعبوں میں مربوط تعاون کو عملی شکل دیتے ہیں تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی طاقتوں کی سفارتی ترجیحات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاہم اس تمام پیش رفت کے باوجود یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ تاحال متعلقہ حکومتوں کی جانب سے سہ فریقی دفاعی معاہدے کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے حتمی تصویر جدہ میں ہونے والی ملاقاتوں اور ممکنہ مشترکہ اعلامیے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔ اس کے باوجود اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ علاقائی حالات میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون مستقبل کی علاقائی سیاست اور سلامتی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
