کیا پنجاب پولیس عابد باکسر کو مقابلے میں پار کرنیوالی ہے؟

90 کی دہائی میں جرائم کی دنیا میں خوف کی علامت سمجھے جانے والا سابق پولیس آفیسر عابد باکسر آج کل پنجاب پولیس کے زیرعتاب ہے، مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور نام ظاہر ہونے پر پولیس نے ماڈل ٹائون میں عابد باکسر کو رہائش گاہ سے حراست میں لیا اور پھر ساتھیوں سمیت فرار ہونے کی خبر میڈٰیا پر بریک کی، عابد باکسر کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ سی آئی اے پولیس کی حراست میں ہیں اور ان کا جعلی پولیس مقابلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔لاہور میں تیرہ سال پہلے لوئر مال کے علاقے میں ایک پولیس کانسٹیبل اور ان کے دوست کو دو افراد نے گھر کی دہلیز پر قتل کیا۔ پولیس ریکارڈ میں اس کیس کی مزید تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ مرنے والے کانسٹیبل کا نام خالد پرویز جبکہ ان کے دوست 17 سالہ عمران لیاقت کے مبینہ قاتلوں کا پولیس نے سراغ تو لگا لیا لیکن وہ دبئی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔عمران لیاقت کے بھائی کامران لیاقت نے اپنے بھائی کے قتل کے کیس کی پیروی کبھی نہ چھوڑی اور اس دوران وہ خود بھی پولیس میں افسر بھرتی ہوگئے، کامران آج کل اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدے پر آرگنائزڈ کرائم یونٹ او سی یو (پرانا سی آئی اے) میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔پولیس میں بھرتی کے بعد کامران نے اپنے بھائی کے قاتلوں کا سراغ لگانے کی کوششوں کو اور بھی تیز کر دیا اور پھر پولیس نے دبئی سے ایک مبینہ قاتل عدنان عرف دانو کو 12 سال بعد انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر لیا اور وہ اب جیل میں ہے۔جبکہ دوسرا ملزم انجم شریف ابھی تک مفرور ہے، لاہور کی سیشن عدالت میں ایک ملزم کی گرفتاری کے بعد ٹرائل کا آغاز ہوچکا ہے۔ اے ایس آئی کامران کیس کی پیروی کے لیے ہر پیشی پر عدالت جاتے ہیں۔گزشتہ پیشی پر جاتے ہوئے راستے میں بھائی کے مبینہ قاتل انجم شریف نے انہیں ساتھیوں سمیت روک لیا۔ تھانہ داتا دربار میں درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان نے پولیس آفیسر کو دھمکی دی کہ کیس کی پیروی چھوڑ دو ورنہ انجام بُرا ہوگا۔لاہور کے تھانہ داتا دربار میں درج ایف آئی آر کے مطابق اس وقوعہ سے ایک ماہ قبل عابد باکسر نامی سابق پولیس افسر نے کامران کے دوست کے نمبر پر فون کر کے ان سے بات کی اور اس کیس سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دی اور گالم گلوچ کی۔اس ایف آئی آر کے اندراج کے بعد پولیس کی بھاری نفری ماڈل ٹاؤن میں عابد باکسر کی رہائش گاہ کو گھیر لیتی ہے۔ اور اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ اہل علاقہ بھی دیکھتے ہیں اور اپنے موبائل فونز میں اس کے کئی مناظر محفوظ بھی کر لیتے ہیں، عینی شاہدین کے مطابق پولیس اہلکاروں اور سابق پولیس افسر عابد باکسر کے درمیان تلخ کلامی ہوتی ہے اور اس کے بعد پولیس اہلکار عابد باکسر کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر ہاتھ پاؤں باندھ کر پولیس جیپ میں وہاں سے روانہ ہو جاتے ہیں۔پولیس ذرائع نے ٹی وی چینلز پر بتایا کہ عابد باکسر پولیس حراست سے فرار ہو گئے ہیں اور ساتھ میں دو سرکاری رائفلیں اور اپنے دو باڈی گارڈ بھی چھڑوا کر لے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ابھی تک وہ روپوش ہیں۔چکوال کے علاقے سے تعلق رکھنے والے عابد حسین عرف عابد باکسر اوائل عمری میں ہی لاہور آ گئے تھے، 1986 میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں کھیلوں کے کوٹے میں داخلہ لیا، 1988 میں محکمہ پولیس میں کھیلوں کے کوٹے پر اسسٹنٹ سب انسپکٹر بھرتی ہوئے۔ اور نیشنل گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے پر انہیں سب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔پنجاب پولیس کی میں 70 مقابلے ایسے ہیں جو عابد باکسر سے منسوب کیے جاتے ہیں، ایک اعلٰی پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ 1999 میں عابد باکسر کو پولیس مقابلے میں مارنے کا منصوبہ بنا تھا لیکن جنرل مشرف کے مارشل لا کی وجہ سے اچانک یہ کام رک گیا، 2008 میں جب صوبے میں مسلم لیگ ن کی دوبارہ حکومت آئی تو عابد باکسر ملک چھوڑ گئے اور وہ 10 سال خود ساختہ جلا وطنی میں دبئی میں رہے اور پھر 2018 میں وہ اچانک پاکستان واپس آئے۔انہیں تحریک انصاف کے دور میں انسپکٹر کے عہدے پر دوبارہ بحال بھی کیا گیا تاہم دو مہینے کے بعد ہی انہوں نے باقاعدہ ریٹائرمنٹ لے لی۔عابد باکسر کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ’ہم گھر میں موجود تھے جب چار پولیس افسران جن میں محمد علی بٹ، راشد امین بٹ، ماجد بشیر اور میاں قدیر پچاس ساٹھ لوگوں کے ساتھ حملہ آور ہوئے اور میرے شوہر پر تشدد کرتے رہے اور مجھ پر بھی تشدد کیا، پولیس کے مطابق عابد باکسر فرار ہیں جبکہ
اسرائیل کی فلسطینیوں پر بمباری،شہدا کی تعداد4700سے تجاوز
ان کی اہلیہ کے مطابق وہ سی آئی اے کی تحویل میں ہیں۔
